"چالیس ہزار بیٹوں" کے بارے میں ڈاکومنٹری
ہلال احمر کی زبانی تاریخ کی طرف ایک قدم
عراقی جیلوں میں قید ایرانی قیدیوں کی مظلومیت بھری داستان پر ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی گئی اور اس فلم کو نام دیا گیا: "چالیس ہزار بیٹے" اس فلم کی نمائش ۲۳ مئی ۲۰۱۸ کو ڈائریکٹر نور اللہ نصرتی کی موجودتی میں ایران کے سرکاری ارکائیو سنتر کے ڈاکٹر پرہام ہال میں کی گئی۔تنہائی والے سال – چودھواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
دن ایک ایک کرکے گزر رہے تھے اور ہمارے پاس ایران کے حالات اور مسلط کردہ جنگ کی دقیق معلومات نہیں تھی۔ احمدی جسے تھوڑی بہت عربی آتی تھی، وہ کبھی کبھار نگہبان سے بات کرتا۔ وہ بتاتے کہ جنگ ابھی جاری ہے اور دونوں ملکوں کے وفود کا آنا جانا لگا ہوا ہے۔ محاذ اور اسیروں کے بارے میں خبریں، وہاں پر موجود ایک شیعہ نگہبان سے دریافت کرلیتے تھےتنہائی والے سال – بارہواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
کئی دفعہ تکرار کرنے کے بعد، میں مجبوراً اپنے دائیں ہاتھ والے ہمسایہ کی طرف آیا اور اُس کے ساتھ بھی بالکل یہی عمل انجام دیا۔ یہ والا پڑوسی، یا تو جواب نہیں دیتا یا صرف دو چوٹیں لگا دیتاتنہائی والے سال – گیارہواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
ہم دونوں کیلئے بہت ہی قیمتی معاملہ تھا۔ مجھے اطمینان ہوگیا کہ میں نے جو آوازیں سنی تھیں وہ ایرانی خواتین کی آوازیں ہیں۔ صدام اور اُس کے نوکروں سے کوئی چیز بعید نہیں تھی۔ جس کو پکڑ سکتے تھے، پکڑ لیتے تھے"پزشک پرواز" نامی کتاب کی تقریب رونمائی
میں نے ایسی خوبصورتی کسی بھی تحریر میں نہیں دیکھی
خدا گواہ ہے کہ میں جانتا ہوں امریکا نہ جانے سے میرے ہاتھ سے بہت سی چیزیں نکل گئیں اور مجھے پتہ ہے کہ اگر میں چلا جاتا، بہت مختلف طرح کی خدمات انجام دے سکتا تھا، لیکن میں نے جنگ میں ایسی چیزیں دیکھی ہیں کہ تلخیوں کے باوجود اُس میں بہت سے حسین لمحات بھی پائے جاتے ہیں کہ کوئی بھی کتاب، ناول یا داستان مجھے وہ حسین لمحات نہیں دے سکتےتین شہیدوں کی یاد میں کتابیں
فاو سے پرواز، یعقوب کی آنکھیں اور جنگ کی فرنٹ لائن
جیسے ہی گھر کے دروازے پہ لگی گھنٹی بجی، میں صحن کی طرف گیا , دروازہ کھولا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، میں ایک لحظہ کیلئے ساکت ہوگیا۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ حاج قاسم (سلیمانی) رضا کے چند دوستوں کے ساتھ ہم سے ملنے آئے ہیں۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔تنہائی والے سال – دسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دریچہ کھلا اور ایک ناشپاتی اور ایک جلی ہوئی سگریٹ میرے ہاتھ میں تھما دی۔ یعنی مجھے سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ ماچس بالکل ممنوع ہے۔"دلدادہ" نامی کتاب کے بارے میں زہرا سبزہ علی سے گفتگو
یادوں کا قلمبند کرنا، معاشرتی تاثیر کیلئے
شہید علی رضا ماہینی کی ایک چھوٹی سی تصویر دیکھنا زہرا سبزہ علی (شاہ بابائی) کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوا کہ وہ اس بوشہری شہید جو غیر منظم جنگوں کے گروپ کمانڈر تھے، کی یادوں کو جمع کریں"مؤرخین اور میدان جنگ میں موجود راویان" کے مجموعہ کی چوتھی کتاب
پڑھائی بھی، محاذ بھی، نقل داستان بھی
اس 912 صفحات پر مشتمل کتاب کی چھ فصلیں ہیں اور ہر فصل اُس انٹرویو دینے والے سے مخصوص ہے جس نے اُس فصل کے موضوع کی مناسبت سے اپنے مشاہدات کو بیان کیا ہےتنہائی والے سال – نواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
میری باری آئی۔ نگہبان نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا ، میں اُس کے ساتھ گیا۔ کچھ راہداریوں سے گزر کر ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور نگہبان نے دروازے کو بند کردیا۔...
9
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
