یادوں کی تین سو چوبیسویں شب -1

سید آزدگان شہید چمران کی شہادت

میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے گوریلا گروپ کے ساتھ مشہور دب حردان میں داخل ہوکر دشمن کو مارا ، جس کے نتیجے میں وہ پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہوگیا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اس کا خدا کے ساتھ رات کی تاریکیوں میں رازونیازکرنا اور اس کی صبح کی دعاؤں اور دعاوں میں شفاعت اورشہادت کی تمنا کرتے ہوٸے لڑنا اسکاکلام اتناپراثرتھاکہ اس نے ہم سب کو الٹ کررکھ دیااورہماری روحوں کے آتش فشاں کو پھاڑدیا۔

یادوں کی تین سو تیسسویں شب ۔2

شہید چیت سازیان کا گریہ ان کی مشکلات کاحل

مئی کی دوسری جمعرات ، 1400 کو آرٹس سینٹر میں انسٹاگرام پر آن لائن منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کی انجام دہی کے لئے حسین بہزادی انچارج تھے ، جس میں کرنل "احمد حیدری" اور محترمہ "زهرا پناهی‌روا" نے اپنی یادوں کو شٸیر کیا۔

یادوں کی تین سو چوبیسویں شب -2

موصل کے کیمپ کی یادیں

جب ابو ترابی صاحب کیمپ کے لانڈری والے علاقے میں کپڑے دھو رہےہوتے تھے ، کاظم نے ان کے پاس جاکر ان سے بات کرتا۔ کیونکہ ایسا کئی بارہوچکاتھا ، یہ چیز ہمارے لئے معمہ بن گیا اور ہم نے سید سے پوچھا کہ یہ شخص ایسا کیوں دیکھاتا کہ وہ آپ کے ساتھ ہے اور آپ سے باتیں کرتا ہے؟

یادوں کی تین سو چوبیسویں شب -1

سید آزادگان شیہد چمران کی شہادت

شہید ڈاکٹر چمران نے اپنے حلف نامے میں ذکر کیا ہےکہ اس علاقے میں بہت ساری کاروائیاں کی گئیں ، اور جنگ کے ابتدائی دنوں میں ، اس کی خبر لوگوں تک پہنچی۔ دشمن کو پسپا کرنے کے لئے بہت ساری کوششوں اور قدم بہ قدم دشمن کو، ہم اہواز کے 6 کلومیٹر جنوب سے 26 کلومیٹر تک دھکیلنے میں کامیاب ہوگئے

خاطرات کی تین سو بتیسویں رات ۔۱

ہر ایرانی فوجی افسر کے خاطرات ایک مستقل کتاب میں تبدیل ہوسکتے ہیں

کچھ منٹ بعد ہوش میں آئے تو دوبارہ اپنی ذمہ داری انجام دینا کا خیال آیا لیکن وہ زخموں سے چور چور تھے انکی توانائی ختم ہورہی تھی۔ آخر کار انہوں نے وائرلیس پر اپنا آخری جملہ کہا:"میری والدہ اور امام خمینی کو کہہ دیں شیاکوہ لرز گیا لیکن انشائی کے پیروں میں لرزش نہیں آئی"

یادوں بھری رات کا ۳۱۶واں پروگرام (پہلا حصہ)

تکفیری دہشت گردوں کی اسارت میں پیش آنے والے چند واقعات

یادوں بھری رات کے ۳۱۶ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھوں اسیر ہونے والے " مصطفی بیدقی" اور دفاع مقدس کے مجاہد " جناب سردار علی ولی زادہ" نے شرکت کی اور اپنی مجاہدانہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کیا۔ اس پروگرام کو ۲۷ اگست ۲۰۲۰ء کو آپارات ویب سائٹ کی جانب سے نشر کیا گیا۔ اس پروگرام کی میزبانی کے فرائض جناب داود صالِحی انجام دے رہے تھے۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام۔ دوسرا حصہ

انقلاب اسلامی ۸ سالہ جنگ کا فاتح

۲۳ جولائی ۲۰۲۰ء کی شب یادوں بھری رات کے ۳۱۵ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کو آپارات ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں " سید احمد قشمی" اور " ڈاکٹر حمید رضا قنبری" مہمان تھے جنہوں نے دفاع مقدس کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ناظرین کے لیے پیش کیا اور اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض " داؤد صالحی" انجام دے رہے تھے۔

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

شہید چمران کی کچھ یادیں

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔

کبھی نہیں سوچا تھا اسیری ۱۰ سال طولانی ہوجائی گی

یادوں بھری رات کا ۳۱۵ واں پروگرام

ہمیں بے جرم اسیر کیا گیا تھا۔ ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا گیا اور ہماری آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر قید کردیا گیا۔ ہم جس راستے سے گزرتے تھے ہمیں مجوسی کہہ کر متعارف کروایا جاتا اور لوگ ہمارا تماشا دیکھا کرتے

شہید چمران کی کچھ یادیں

یادوں بھری رات کا ۳۱۴ واں پروگرام (پہلا حصہ)

۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو یادوں بھری رات کے تین ۳۱۴ ویں پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں شہید مصطفی چمران کے حلقہ احباب میں سے تین دوستوں کو دعوت دی گئی جس میں انہوں نے شہید کے واقعات کو بیان کیا۔
3
...
 

شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے

اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔