حجت الاسلام غلام حسین جمی
آبادان کے عوام کیلئے استقامت و پایداری کی علامت
حجت الاسلام جمی کی شروع میں امام خمینی سے کوئی خاص واقفیت نہ تھی، بلکہ وہ اپنے قم کے دوستوں اور امام کے اعلانات اور تقاریر کو سن کر ان کے گرویدہ ہوگئے تھے، اور امام اور راہ انقلاب کے دوستوں میں شامل ہوگئے۔شاہ کی علی امینی کے ساتھ تاریخی بات چیت کی دوسری آڈیو ریکارڈنگ
یہ آڈیو ٹیپ کہ جو علی امینی کے گھر سے 14 آبان 1357کو ملی ہے، انقلاب اسلامی ایران کے تناظر میں، عوام کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے بارے میں، شاہ اور امینی کے خیالات کے انکشاف پر مبنی ہے۔سال 57 کے خونی اتوار کے بعد، شہر مشہد کی دو رپوٹوں کی تکرار
ہفتے اور اتوار کو لوگوں کا قتل عام، پہلوی حکومت کا اس شہر میں آخری حربہ ہے اب تک مختلف دستاویزات اور رپوٹس اس واقعے کے بارے میں درج اور شایع ہوئی ہیں بالخصوص آغا شاکری کی ڈیلی رپورٹس" مشہد کے عوام کا اسلامی انقلاب" کے عنوان سے خاص اہمیت کی حامل ہیں،انقلاب کا نظریہ
انقلاب سے پہلے یونیورسٹی کے طلباء کی کارکردگی کے بارے میں نقی لطفی کی داستان
اگر انقلاب کو ایک اجتماعی ، انسانی، مادی اور اقتصادی مسئلہ کے عنوان سے تصور کریں تو تجزیہ کا راستہ کھل جائے گا۔...
12
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
