آیت ا ... کمالوند کی زندگی کے آخری ایام کی سرگرمیوں پر ایک نظر

آیت ا... کمالوند نے محمد رضا پہلوی سے ملاقات میں نصیحتیں کیں اور اسے اپنے مرضی سے قانون، اسلامی نظریات اور عوام مخالف فیصلوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا؛ جنہیں شاہ نے قبول نہیں کیا۔

۵ جون کے قیام میں آیت اللہ آیت اللّٰھی کی جدوجہد کا جائزہ

آیت اللہ سید عبد العلی آیت اللھی اور امام خمینی (رہ) مختلف مسائل کے بارے میں ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ ایسی تحریریں موجود ہیں جو اُن دونوں کے مستقبل رابطے کو بیان کرتی ہیں

شہید "مہدی عراقی" ۵ جون کے قیام کا سربراہ

حاج مہدی عراقی، ۱۵ سالہ نوجوان جو ملک کے سیاسی معاملات میں شہید نواب صفوی ، کے ساتھیوں میں سے تھے اور اُنہیں شہید سید مجتبیٰ نواب صفوی کی راہ اور طریقہ کار اتنا پسند تھا کہ اُنھوں نے سن ۱۹۵۱ء میں اُن کی گرفتاری کے بعد زندان قصر کے چند دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کیا کہ یہ احتجاج اُن کی گرفتاری اور ۷ مہینے تک جیل میں رہنے کا سبب بنا۔

نیا سال، نیا اخلاق، نئے کام

انقلاب کے بعد نئے سال کے آغاز پر امام خمینی رح کا پہلا پیغام

میں اس نئے سال کے آغاز پر قوم کی چند نکات کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں اور کچھ نکات حکومت اور حکومتی اداروں کیلئے۔ آپ کو خیال نہیں کرنا چاہیے کہ کام ختم اور ہم کامیاب ہوگئے؛ یہ خیال سستی کا باعث بنے گا۔

امام خمینی رح کا قم المقدسہ میں گیارہ ماہ پر مشتمل قیام

بانی انقلاب اسلامی ایران واپس آنے کے ۲۸ دنوں بعد قم کے لئے روانہ ہوگئے۔ قم کے عوام نے امام خمینی کا شاندار استقبال کیا۔ تقریبا ایک میلین افراد امام کے قم میں داخلے کے راستے پر انکا استقبال کرنے کے لئے موجود تھے۔ امام خمینی رح نے جس طرح اسلامی انقلاب کی رہنمائی اور اسے کامیاب بنانے میں اہم اور مرکزی کردار ادا کیا انکے سفر قم سے متعلق مختلف حکایتیں اور تجزئیات و تحلیلیں موجود ہیں۔

فوجی کمانڈرز کی مستند روایت کے مطابق

حاج احمد متوسلیان کی سربراہی کی یادگار باتیں

حاج احمد، ایک ۳۰ سالہ جوان تھے۔ ابھری ہوئی ہڈیوں اور چوڑے جبڑے کے ساتھ۔ گھنٹی داڑھی اور ایسی ناک کہ صاف ظاہر تھا کہ وہ باکسنگ کے مکوں سے ٹوٹ کر دوبارہ جڑی گئی ہے

اس معتبر چہرے کی یاد جو عام لوگوں، یونیورسٹیوں اور قائد انقلاب کے درمیان رابطے کاذریعہ تھا

آیت ا... مرتضیٰ مطہری ۲ فروری سن ۱۹۲۰ءکو مشہد سے ۷۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک فریمان نامی علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ بارہ سلا کی عمر میں مشہد چلے گئے تاکہ حوزہ علمیہ مشہد میں دینی علوم کی ابتدائی تعلیم حاصل کرسکیں اور پھر سن ۱۹۳۷ء میں وہاں سے حوزہ علمیہ قم چلے گئے تاکہ اپنی تعلیم کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ایام

بہمن ۱۳۵۷ )فروری ۱۹۷۹(ایرانیوں کے لئے ایک سرنوشت ساز مہینہ قرار پایا۔ پہلوی حکومت سے سالہا سال مقابلہ کرنے اور اس راہ میں سختیاں اور مصبتیں جھیلنے والے افراد کی نجات کے دن نزدیک آچکے تھے۔

۵ جون کوقیام کرنے والے ساتھی کی یاد

شیخ حسین خندق آبادی

شیخ حسین خندق آبادی (۱۹۱۷ء – ۱۹۶۷ء) تہران کے خطباء اور واعظوں میں سے تھے، حوزہ علمیہ قم سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد تہران واپس پلٹے اور دین کی تبلیغ میں مصروف ہوگئے۔ اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی دفعہ ساواک کی طرف سے اذیت و پریشانی کا شکار ہوئے اور جیل میں رہے۔ برین ہیمبرج کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں وعظ و تقریر سے منع کردیا، لیکن انھوں نے  اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اور اپنا فرض جانتے ہوئے اپنے کام کو جاری رکھا، یہاں تک کہ ۲۱ رمضان کی شب، شب...

امام (رہ) کی جلا وطنی کے تناظر میں آیت اللہ سید مصطفی خمینی کی جلاوطنی

۴ نومبر ۱۹۶۴ کی صبح کمانڈو فورسز امام کے گھر میں گھس گئی اور انہیں گرفتار کرکے تہران اور پھر ترکی کے شہر آنکارا منتقل کردیا۔ امام کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی آیت اللہ سید مصطفی خمینی نے علماء سے مشورہ کیا۔ آیت اللہ مرعشی نے اس امکان کا اظہار کیا کہ امام کے فرزند کو بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔
...
9
 

شاہ بے دینی کو رواج دینا چاہتا ہے

اب عاشورہ کی شام ہے... جب میں کبھی عاشورہ کے واقعات پر غور کرتا ہوں، تو میرے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ اگر بنی امیہ اور یزید بن معاویہ کا نظام صرف حسین (ع) سے جنگ کر رہا تھا، تو وہ وحشیانہ اور غیر انسانی رویہ کیا تھا جو انہوں نے عاشورہ کے دن بے سہارا خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ کیا؟
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔