پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملاقادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 14

مصنف: علی رستمی
ترجمہ: افشین زہرا
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2024-02-15


لوگوں کا عقیدہ تھا  کہ تمام صدقات اور خیرات میں سب سے افضل صدقہ اور خیرات وہ ہے جو علوم دینی حاصل کرنے والے طلباء کی تعلیم و تربیت یا پرورش کیلئے دیا جائے لہذا اور امانات کے رہائشیوں اور لوگوں کا بھی عقیدہ، دیگر کرد نشین علاقے کے مسلمانوں جیسا ہی تھا وہ بھی یہی عقیدہ اور اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ نیکی جو اس راہ میں کی جائے اور وہ مال اور پیسہ جو علوم دینی حاصل کرنے والے طلباء کیلئے خرچ کیا جائے یا علوم دینی کے بڑھنے، پھیلنے کا سبب بنے۔


حوالہ جات:

  • ملاعبد الرحمن نجار گاؤں سے تعلق رکھنے والے اور امانات کے فعال مولویوں میں سے ایک تھے وہ سال ۱۹۴۷ میں متولد ہوئے اور مجلس شوری کے دوسرے دور میں پاوہ میں نمائندہ  بنے۔عبد الرحمان صاحب نے سالہا سال علمی اور عملی میدان میں بہترین جوہر دکھائے وہ سال ۲۰۱۴ کی گرمیوں میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ صدقہ و خیرات دینے والا اس کام میں شریک ہو گیا اور وہ پیسہ جو طلباء کی زندگی کی ضروریات کو حصول علم کے دوران پورا کرے یا ان کی تربیت و پرورش میں مددگار ہو وہ صاحب خیرات کیلئے صدقہ جاریہ ہے یعنی اس مال کے دینے والے کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اسکے لئے سود مند اور اجر و ثواب کو اس تک  پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ یہ عقیدہ اور رسول اکرم ﷺ کی صدقہ جاریہ والی حدیث پر یقین نے لوگوں کے شوق اور ولولے کو بڑھا دیا تھا اور وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق ، طلباء کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔

ہم دشہ گاؤں کے طلباء کی زندگی پھر بھی ایسی تھی کہ ہم پورے دن میں یا تو دوپہر یا پھر رات کا کھانا مکمل طور پر یعنی پورا کھاتے تھے اور جب کبھی دوپہر یا شام کا کھانا اچھا ملتا تو باقی وقتوں میں ہمیں صرفخالی روٹی پر گزارا کرنا پڑتا تھا اور باقی وقتوں میں صرف روٹی سے ہی بھوک مٹا لیتے ہیں تھے ۔

دشہ گاؤں کے پانچ گھرانے ایسے تھے جنہوں نے مولا نا صاحب سے کہا ہوا تھا کہ ہم طلباء کے کھانے کی ذمہ داری اُن کی ہے وہ بھی اسطرح کہ انہوں نے یہ کہا ہوا تھا کہ روزانہ جو بھی ہمارے گھر میں کھانا تیار ہوگا ہم اُسی کو تھوڑا زیادہ بنایا کریں گے تاکہ طلباء کا حصہ اسی میں سے نکال سکیں مگر طلباء آکر خود اپنا کھانا روز ہمارے گھروں سے لے جایا کریں ، ان کی اس پیشکش کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اپنی باریاں لگائی ہوئیں تھیں۔ ہم میں سے ایک روٹی جمع کرتا اور دوسرا ان پانچ گھروں سے سالن (کھانا) لے کر آتا تھا۔ اسطرح ہم باری باری   اس کام کو انجام دیتے تھے۔ ہم میں سے وہ طالب علم جس کی باری پانچ گھروں سے کھانا لے کر آنے کی ہوتی وہ ایک پتیلا (بھگونہ) لے کر ، پانچوں گھروں کے دروازوں پر باری باری جاتا تا کہ وہ اس پتیلے میں کھانا ڈال دیں ، مگر پانچ الگ الگ گھروں سے آنے والی غذا کبھی، بلکہ زیادہ تر الگ الگ طرح کی ہوتی مگر ہم سب مل بانٹ کر کھا کر  پیٹ بھر ہی لیا کرتے  تھے ، کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان گھروں میں کھانا نہیں بنتا تھا اور ہمارے پہنچنے پر وہ بہت زیادہ معذرت کے بعد  چند انڈے  یا تھوڑی سی دہی دے کر ہمیں رخصت کر دیا کرتے تھے۔

ہم میں سے جسکی باری روٹی جمع کرنے کی ہوتی وہ دو دن میں ایک بار ، دشہ گاؤں کی گلیوں میں جاکر علاقائی زبان اور لہجے میں کہتا " خدا کی رحمت آپ پر ہو  طلباء کیلئے روٹی دے دیں"

گھر کی عورتیں انکساری اور مہربانی کے ساتھ ایک یا دو روٹیاں ہمیں دے دیا کرتی تھیں اورہم اس کے عوض ان کیلئے دعا کر دیتے تھے ، بہت دفعہ ایسا بھی ہوتا تھا کہ وہ لوگ جن کے گھروں کے دستر خوان پر صرف دو ہی روٹیاں ہوتیں وہ بھی جب ہماری آواز کو سنتے تو ان میں سے ایک اٹھا کر ہمیں دے دیا کرتے تاکہ اسطرح ، طلباء کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے ثواب میں شریک ہوسکیں ۔ اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ایک ہی گھر سے کافی زیادہ روٹی۔ ہمیں  دے دی جاتیں اور ہم فوراہی اپنے کمرے کی جانب روانہ ہو جاتے تھے۔

بھوک میں ان روٹیوں کی خوشبو اور غریب الوطنی کا احساس بعض اوقات ہمیں  بہت تکلیف میں مبتلا کر دیتا تھا۔ یہاں تک کہ بعض اوقات گاؤں کے کتے ، ہمیں دیکھ کر ہم پر بھونکتے اور حملہ کر دیتے تھے کیونکہ ان کےلئے ہمارے چہرے آشنا نہ تھے اور ان کے اس حملے سے بچ کر نکلنا آسان نہ ہوتا تھا۔

قصہ مختصر اپنے لئے کھانے کا انتظام کرنا کوئی آسان کام نہ تھا ۔ اور بعض اوقات بہت ہی مشکل ہو جاتا تھا  اور چند روٹیوں کے عوض ہمیں کافی ذہنی اور جسمانی آزمائش اور مشقت سے گزرنا پڑتا  تھا ۔ جیسا کہ ایک دن کا واقعہ ہے کہ میں روٹیاں لانے پر مامور تھا اور میری باری تھی مگر میری بد قسمتی تھی کہ اس دن سب دشہ گاؤں کے افراد ، ہوار (۱) گئے ہوئے تھے اور گاؤں میں کوئی موجو  ہی نہ تھا  جس سے روٹی لیتا لہذا مجبوراً   پیدل چند گھنٹوں کا سفر طے کر کے ، اُس جگہ سیاسر و ئیلاؤ  (۲) پہنچا اور پھر وہاں پہنچ کر بھی چند گھنٹے روٹی جمع کرنے میں صرف ہوئے ۔ یعنی اس جگہ تک پہنچنے پھر وہاں سے روٹی لے کر واپس اپنے کمرے تک پہنچنے میں چار پانچ گھنٹے لگ گئے اور اس تھکا دینے والی تقریباً پانچ گھنٹے کی مسافت کے بعد بھی  میں صرف دو دن کی روٹی کا انتظام کرنے میں کامیاب ہو سکا ۔

سال میں صرف ایک بار ایسا ہوتا کہ ہم علاقے کے لوگوں سے براہ راست مالی مدد(۳) کا تقاضہ کرتےیعنی ہمیں حق ہوتا کہ اس دن اپنی درسگاہ سے چھٹی لے کر ہم نہ صرف اپنے گاؤں بلکہ  اپنے گاؤں سے متصل ارد گرد کے علاقوں میں بھی جاتے اور لوگوں سے چندہ جمع کرتے تھے ، اس زمانے میں  زیادہ تر چرواہے گلہ بان و مالدار تھے اور دوسرے دیہاتیوں کی نسبت مالدار تصور کئے جاتے تھے کہ ان میں سے زیادہ تر چرواہےمضافاتی علاقوں میں رہتے تھے ۔ لہذا ان تک رسائی اور چندہ جمع کر کے لانا ہماری مشکل کو دوگنا کر دیتا تھا۔



 
صارفین کی تعداد: 544



http://oral-history.ir/?page=post&id=11731