ماموستا 57
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-02-02
9 محرم الحرم کی ریلی
9 محرم، 10 دسمبر 1978(19 آذر 1357) کے روز، آیت اللہ طالقانی کی کال پر تہران اور ملک کے دیگر شہروں میں نکالی جانے والی ریلیاں، انقلاب کی تاریخ کا ایک نیا موڑ تھیں۔ پاوہ کے عوام نے اس تحریک میں کہ جسے امام خمینی نے شاہ کی سلطنت کے خاتمے کے لیے عوامی ریفرنڈم قرار دیا تھا، شرکت کے لیے عوامی سطح پر آمادگی کا اعلان کیا اور تمام کے تمام لوگوں نے لبیک کہا۔ 9 محرم کی ریلی کا 30 اکتوبر(8 آبان) کو سالار کے ایجنٹوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاوہ کے باسیوں کے چہلم کے دن ہونے نے مجمع کی تعداد میں مزید اضافہ کردیا اور ان کے اتحاد کا باعث بنا۔ دوسری جانب، 9 اور 10 محرم ایران میں پہلوی حکومت کے خلاف اکٹھا ہونے اور احتجاج کرنے کا سب سے بڑا اور سب سے قیمتی موقع تھا جس سے ایرانی قوم نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
پاوہ میں اس عظیم ریلی کو انجام دینے کے لیے فیصلہ لینے والی پانچ رکنی کمیٹی، دو مولاناؤں(حقیر اور ملا ناصر سبحانی)، پاوہ کے دو اساتذہ(کمال زردشتیان اور سید راغب احمدی صاحب) اور مسعود سابقی نامی ایک یونیورسٹی طالب علم پر مشتمل تھی۔ ریلی سے ایک دن پہلے، ہم نے فیصلہ کیا کہ ’حضرت عبداللہ‘ مسجد پر اکٹھا ہو کر ٹھیک صبح دس بجے ریلی شروع کی جائے اور مولوی چورنگی اور ’سابقی‘ مسجد پر اس کا اختتام کیا جائے۔
پاوہ کے عوام نے ’حضرت عبداللہ‘ مسجد میں جمع ہونے اور احمد حکیمی اور عبدالکریم فرہادی صاحب کی تقریریں سننے کے بعد اس مسجد سے مولوی چورنگی تک ریلی نکالنے کی تیاری کرلی۔ حکیمی اور فرہادی صاحب، پاوہ کے انقلابی منتظمین میں سے تھے، انہوں نے ایران کی اسلامی تحریک اور اس تحریک کو پھیلانے اور آگے بڑھانے سے متعلق مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی۔ اس دوران مسجد تک یہ خبر پہنچی کہ جینڈرمیری کے اہلکار، میونسپل گارڈن[1] میں گھات لگائے بیٹھے ہیں اور انہوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو کوئی بھی ریلی کے ارادے سے روڈ سے گزرے گا وہ اسے قتل کردیں گے۔ لیکن اس مضحکہ خیز دھمکی کا عوام کے حوصلے پر ذرا بھی اثر نہیں ہوا۔ پاوہ کے ایک جوان، کاوہ بہرامی نے اس دن پہلی بار اپنے کوٹ میں چھپائی ہوئی، اسلامی جمہوریہ(ایران) کے بانی امام خمینی کی تصویریں ایک خاص دلیری سے باہر نکالیں اور مسجد میں موجود اور جمع ہوئے لوگوں میں تقسیم کیں۔ اکثر لوگوں نے اس دن تک اتنی آزادی سے امام خمینی کی تصویر نہیں دیکھی تھی، کاوہ بہرامی کے اس شجاعانہ اقدام نے ان کے حوصلے مزید بلند کردیے۔
صبح دس بجے ریلی شروع ہوئی۔ گزشتہ ریلیوں اور مظاہروں میں ہمارے نعرے زیادہ سخت نہیں ہوتے تھے لیکن اس دن ہمارے ’شاہ مردہ باد‘ اور ’خمینی زندہ باد‘ جیسے سخت نعرے شہر میں گونج اٹھے۔ کاوہ کے والد، رستم بہرامی مجمع کو دیکھ کر اتنا جوش میں آگئے کہ جب ہم پاوہ کے پیٹرول پمپ کے پاس پہنچے تو وہ زور سے چلائے: ’’ میرے عزیز خمینی! کہیں تو خون بہاؤں‘‘(خمینی عزیزم! بگو تا خون بریزم۔‘‘
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کنگارود کا ایک باسی چند سالوں سے پاوہ میں مقیم تھا اور آستانۂ خالصی(تکیہ خالصی)[2] کے پاس اس کا فوٹو اسٹوڈیو تھا۔ لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے اور وہ بظاہر انقلابی تھا۔ وہ ریلیوں میں شرکت کے علاوہ، وہاں موجود جوانوں کی تصویریں بھی کھینچا کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعد جب ریلی کے شرکاء کو پولیس اور ساواک کے دفتر میں طلب کیا گیا تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اس میں وہی فوٹوگرافر ملوث ہے۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ ساواک کا ایجنٹ ہے۔ شہر کے مشہور فوٹوگرافر کی ساواک کے ساتھ تعاون کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور لوگوں کے غصے میں اضافے کا باعث بنی۔ لوگوں کا ماننا تھا کہ فوٹوگرافر کی کھینچی ہوئی تصاویر، انقلابیوں کی شناخت کے لیے ساواک کے کہنے پر کھینچی گئی تھیں۔ لہٰذا 9 محرم کے دن جب ریلی کے شرکاء اس کے فوٹو اسٹوڈیو کے پاس پہنچے تو ’ساواکی مردہ باد‘(مرگ بر ساواکی) کا سخت نعرہ لگاتے ہوئے انہوں نے اس کے اسٹوڈیو کا دروازہ توڑ دیا اور مرحوم خلیفہ محمد توفیق کے مزار کے ساتھ واقع اس کے اسٹوڈیو کو شدید نقصان پہنچایا۔
9 محرم کی ریلی کے بعد، ساواک نے پولیس اور جینڈرمیری کے ساتھ مل کر شب عاشور، 11 دسمبر(20 آذر) کو پاوہ کی عوام کی تحریک بیداری کے کچھ مؤثر افراد کو گرفتار کرلیا؛ جن میں کمال زردشتیان، ملا عبدالقادر عزیزی، ملا عبدالرحمن یعقوبی، یوسف رسول آبادی، عبداللہ رستمی دوریسانی، فیض اللہ سعداللھی اور فتاح نادری صاحب شامل تھے جنہیں گرفتاری کے بعد کرمانشاہ کے دیزل آباد جیل روانہ کردیا گیا۔
صارفین کی تعداد: 10
http://oral-history.ir/?page=post&id=13051
