تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ داری
حسن بهشتیپور
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2026-02-25
یہ روایت، مصنف کی اسیری کے دوران زندگی کے تجربے کا نتیجہ ہے اور ان کی ذاتی یادداشت پر مبنی ہے۔
■
ماہ مبارک رمضان کے ختم ہونے میں نو دن باقی تھے کہ ہم شلمچہ کی جون کی تپتی ہوئی گرمی میں اسیر کر لیے گئے۔ ہمیں مزید گیارہ ماہ انتظار کرنا تھا تاکہ اپنی دوسری جبری منزل، عراق کے شہر تکریت کے قریب واقع 16 نمبر جیل میں، اسیری کی حالت میں روزہ رکھنے کا مزہ چکھ سکیں۔ اصل امتحان تاہم گرم مہینوں مارچ-اپریل اور اپریل-مئی سے شروع ہوا۔ بہار کے لمبے دن اور عراق کی شدید گرمی اکیلی برداشت کو مشکل بنانے کے لیے کافی تھی؛ یہ اس وقت اور بھی مشکل ہو جاتا جب اس میں روزے کی بھوک اور پیاس بھی شامل ہو جائے۔
آج بھی میں سوچتا ہوں: کس گہرے جذبے اور ایمان نے ہمیں وہ طاقت بخشی تھی کہ قید خانے کے ان مشکل روحانی اور جسمانی حالات میں پندرہ یا سولہ گھنٹے کے روزے برداشت کر سکیں؟ تکریت 16 میں سب روزہ دار نہیں تھے۔ حالات ایسے تھے کہ عراقی محافظ اتنے کم اور ناقص معیار کا کھانا دیتے تھے کہ اسی معمولی غذا پر روزہ رکھنا خود ایک اضافی مشکل تھی۔ اس کے باوجود، کچھ لوگ تھے جو روزہ رکھ کر خدا کے حکم کی تعمیل کرنا چاہتے تھے اور ظاہری و باطنی گناہوں سے دور رہنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے، اس سے بھی زیادہ سخت حالات کے لیے خود کو تیار کرنا چاہتے تھے۔ اس خود سازی اور دوسروں کی اصلاح کے لیے ایک نرم روح کی ضرورت تھی؛ ایک ایسی روح جو جب خدا کی رضا کے لیے پیٹ اضافی خوراک سے خالی ہو جاتا ہے، تو اپنے معبود اور اپنے قیدی ساتھیوں سے بہتر طور پر رابطہ کر سکتی ہے۔
مشکلات پہلی سحری ہی سے شروع ہو جاتی تھیں۔ سحری کا وقت معین نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے پاس گھڑی نہیں تھی اور فجر کی اذان کی آواز بھی نہیں آتی تھی جو کھانا پینا بند کرنے کی علامت ہو۔ ہماری سحری بہت تھوڑی مقدار میں کالی مسور کی دال ہوتی تھی، ساتھ میں ایک چوتھائی گلاس میٹھی چائے۔ یہ چائے اسیری کے دوران مٹھاس کا واحد ذائقہ تھی جو ہم ہر روز محسوس کر سکتے تھے۔ خدا کے حکم کی تعمیل کے لیے اسی معمولی سی میٹھی چائے کے گھونٹ کو ترک کرنا، ایمان کے امتحان کے پہلے مراحل میں سے ایک تھا۔
دوپہر کا کھانا عام طور پر چاول ہوتے تھے جسے افطار تک روکے رکھنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ نہ ہمارے پاس کوئی مناسب برتن ہوتا تھا اور نہ چمچ۔ ہاں دوپہر کا کھانا محفوظ کرنے کے لیے ہم ان پلاسٹک کی تھیلیوں کو استعمال کرتے تھے جو مشکل سے باورچی خانے سے ملتی تھیں۔ ذخیرہ کرنے کا یہی طریقہ کبھی کبھار کھانے کو خراب کر دیتا تھا اور روزہ دار کو مزید مشکل صورت حال میں ڈال دیتا تھا۔
تاہم ان مشکلات کی وجہ سے دوسرے سال، قید خانے کے عراقی کمانڈر، رائد خلیل نے حکم دیا کہ روزہ داروں کی سحری اور افطار کو روزانہ کے کھانے کے حصے سے الگ کر کے ان کے اوقات میں تقسیم کیا جائے۔ اس حکم نے دوسرے سال روزہ داروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ممکن بنا دیا؛ گویا رائد خلیل پہلے سے زیادہ جیل کے ماحول کو پرسکون بنانے پر روزے کے اثرات سے واقف ہو گیا تھا۔
پہلے رمضان میں ایک اور چیلنج بھی تھا اور وہ تھا روزہ داروں اور ان لوگوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا جو مختلف وجوہات کی بنا پر روزہ نہیں رکھتے تھے۔ کبھی کبھار کھانے کی تقسیم یا اسے محفوظ رکھنے کے طریقے پر اختلافات پیدا ہو جاتے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، روزے کے روحانی اثرات خود رفتہ رفتہ زیادہ الفت اور محبت کا باعث بن گئے۔ گویا روح کی صفائی شروع ہونے کے ساتھ ہی مصنوعی حدود مٹنے لگیں۔
اسیری کی مشکلات، جب روزے کے ساتھ مل جاتی تھیں، روح کو مزید صیقل کر دیتی تھیں۔ ان حالات میں، میرے ذہن میں ہمیشہ یہ مبارک آیت زندہ ہو جاتی تھی جو فرماتی ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِی کَبَدٍ (سورہ البلد، آیت 4)؛
بے شک ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔
روزہ، یہ مقدس مشقت، زندگی کی مشکلات کے درمیان معبود کے ساتھ راز و نیاز کو ہماری جانوں میں جاری کر دیتا تھا تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ انسان زندگی کی مشکلات کے بیچ کیسے ڈھلتا اور پکتا ہے۔ روزہ، صرف خدا کے لیے، تیس دن کے بعد انسان میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ گویا وہ روحانی غسل کر کے آیا ہے اور گناہوں اور آلودگیوں کو دھو کر، نئی تازگی اور زیادہ تیاری کے ساتھ، اسیری کی مصیبتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے نکلا ہے۔
اس مبارک آیت سے متاثر ہو کر جو فرماتی ہے:
**"وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ"** (سورہ آل عمران، آیت 139)؛
سستی نہ کرو اور غمگین نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو؛ ہمارے دل سکون پا جاتے تھے۔
یہ روحانی تیاری خاص طور پر اس وقت اپنی اصل اہمیت ظاہر کرتی تھی جب ہمیں معلوم ہو کہ تکریت کی 16 نمبر جیل کا تعارف، عراق کے دس دیگر اسیر خانوں کی طرح، نامعلوم وجوہات کی بنا پر بین الاقوامی ریڈ کراس سے نہیں کروایا گیا۔ اس بین الاقوامی خیانت نے عراقی اہلکاروں کے ہاتھ مزید سختیاں کرنے کے لیے کھول دیے تھے؛ کیونکہ قیدیوں کے حالات کی ریڈ کراس کو رپورٹ کیے جانے کی فکر نہیں تھی۔
ایسی سنگین اور خوف سے بھری فضا میں، روزہ ایک روحانی ہتھیار تھا جس نے نہ صرف جسم بلکہ روح کو بھی استقامت کے لیے زیادہ مزاحمت بخشی۔ تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز نہیں تھا؛ یہ اس ایمان کے وجود کا اعلان تھا جو سخت ترین قیود میں بھی، آزاد اور ناقابل شکست زیست کرتا ہے۔
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 44
http://oral-history.ir/?page=post&id=13088
