ایک متفاوت نوروز کا دسترخوان

فائزه ساسانی‌خواه
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2026-03-26


میرا دل چاہ رہا تھا کہ نیا سال اپنے خاندان کے ساتھ شروع کروں۔ میں دو طبی امداد دینے والوں کے ساتھ زخمیوں کی منتقلی کی مخصوص بسوں کے ذریعے چوئبدہ گئے اور وہاں سے اجازت نامہ حاصل کیا۔ ہم ہیلی کاپٹر کا انتظار کرتے رہے تاکہ امام خمینی بندرگاہ جا سکیں۔ میں ہیلی کاپٹر کے بیٹھنے کی جگہ کے قریب تھی اور میرا جسم پتلا اور ہلکا تھا۔ جب ہیلی کاپٹر زمین پر اترنے ہی والا تھا تو میں خود پر قابو نہ رکھ سکی اور پروں سے بننے والی ہوا کے دباؤ نے مجھے اُچک لیا۔ مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے سوچا اچھا ہوا کہ قریب والی نہر میں نہیں گری۔

سال تحویل سے ایک رات پہلے گھر پہنچی۔ جمعہ کی رات آٹھ بتیس منٹ اور اکتیس سیکنڈ پر سال تحویل ہونا تھا۔ طے ہوا تھا کہ تحویل سال کے وقت سب بڑے بھائی کے کمرے میں جمع ہوں گے۔ ہفت سین کی سفیدری جو بچھائی گئی تھی، بہت سادہ تھی اور اس میں صرف سیب اور سنجد تھا اور شیشے کے برتن میں سرخ مچھلی کا کوئی نشان نہ تھا۔ میں نے حیرت سے پوچھا: "یہ آپ کا ہفت سین اتنا سادہ کیوں ہے؟! ہفت سین کے اجزاء بہت کم ہیں!"

زیبا خانم نے جواب دیا: "اس سال تو ہمارا عید نہیں ہے۔ اتنی شہادتوں کے بعد کس کا جی چاہتا ہے کہ ہفت سین کی سفیدری بچھائے؟ یہ سفیدری بچوں کی خاطر بچھائی ہے۔" پھر مذاق میں کہنے لگیں: "ہفت سین میں سے پانچ تو ہمارے پاس ہیں: سیب، سنجد، سفیدری، سماور اور پھلوں کی ٹوکری!" [1]


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 64



http://oral-history.ir/?page=post&id=13132