جنگ رمضان

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2026-03-26


ایک امریکی جنگی طیارے کی مسلسل اور خوفناک گرج آسمان میں گونج رہی تھی۔ وہ اس طرح آسمان میں چکر لگا رہا تھا جیسے اس کا جانے کا ارادہ ہی نہ ہو۔

میں سوچنے لگی کہ اس صورتحال میں جاؤں یا نہ جاؤں؟ میں نہیں جانتی تھی کہ ابھی سڑک پر موجود رہنا عقلمندی کی بات ہے یا نہیں؟!

چند منٹ تک میرا ذہن اس مسئلے میں الجھا رہا۔ آخرکار میں نے خود سے کہا کہ یہ طیارہ عمارتوں کو تباہ کرنے اور لوگوں کو مارنے کے علاوہ، سڑکوں کو خالی کروانے کے لیے بھی آیا ہے۔

میں تیار ہو گئی۔ میز سے فلسطین اور حزب اللہ لبنان کے جھنڈے اٹھائے اور گھر سے باہر نکل گئی۔

گلی کے نُکڑ پر ایک نوجوان مرد اور عورت گھر سے باہر آئے۔ ان کی چھوٹی بیٹی نے ایران کا جھنڈا مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔ تھوڑا آگے بڑھی تو کئی خواتین سے سامنا ہوا جو قیام بلیوارڈ سے گلی میں داخل ہو رہی تھیں، ان کے ہاتھوں میں ایران کا جھنڈا اور آقا (سید علی خامنہ ای) کی تصویر تھی۔ ظاہر تھا کہ وہ اجتماع سے واپس آ رہی تھیں۔ مسکراتے ہوئے ان کے پاس سے گزری۔

بلیوارڈ پر پہنچی تو کچھ دیر حیران و پریشان کھڑی رہی۔ گویا چند منٹ پہلے اس شہر کے آسمان پر جنگی طیارے کی پرواز اور بمباری کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ سڑک کے بائیں جانب اتنا رش تھا کہ میرے چند منٹ پہلے کے تمام شکوک و شبہات بہت معمولی لگنے لگے۔

گاڑیوں نے نوحہ خوانی اور حماسی دھنوں اور جھنڈوں کو بلند کر کے سڑک کو حب الوطنی کے جذبے سے بھر دیا تھا۔ ان تمام سالوں میں میں نے وہاں کبھی ایسا خوبصورت اور پرجوش منظر نہیں دیکھا تھا۔ میں نے خود کو جھنجھوڑا کہ دیکھ لوگ تجھ سے بہت آگے ہیں۔

خراسان سڑک پر ماحول کچھ اور ہی تھا۔ وہاں کی روشنی نے مجھے سکون بخشا۔ اسپند کی تیز خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ امام خمینی حسینیہ سے دعا اور مناجات کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند نوجوان آس پاس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

سڑک کے دائیں جانب کئی خواتین و حضرات جھنڈے لیے کھڑے تھے۔ کچھ لوگ چوک کی طرف جا رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے چل پڑی۔

چوک میں عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے اور جوان گروہوں کی شکل میں چادروں اور دُریوں پر بیٹھے تھے۔ مقرر کی تقریر سن رہے تھے یا دعائیں پڑھ رہے تھے۔ ان میں سے بہت سے ہاتھوں میں جھنڈے اور آقا کی تصویر تھی، کچھ نے سردی کی شدت سے خود کو کمبلوں میں لپیٹ رکھا تھا۔

تقریر ختم ہوئی اور نوحہ خواں آیا۔ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ پہلی 'شب قدر' سڑک پر منانا چاہتے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ سردی برداشت کریں گے لیکن چوک کو خالی نہیں ہونے دیں گے۔ تاکہ شہر اندرونی دشمنوں کے ہاتھوں نہ گرے۔ تاکہ فوجی اطمینان کے ساتھ بیرونی دشمن سے لڑ سکیں۔

مجھے شہید سید حسن نصراللہ کا قول یاد آیا:
"ہم شکست نہیں کھاتے۔ یا تو ہم دشمن پر غالب آ جاتے ہیں جو صورت میں ہم فتح یاب ہیں، یا شہادت حاصل کرتے ہیں جس صورت میں بھی ہم فتح یاب ہیں۔"

جیسے ہی میں چوک میں موجود ہجوم کو دیکھ رہی تھی، میرے ذہن سے گزرا کہ یہ جنگ، میزائل اور بم کی جنگ نہیں ہے، یہ عزم و ارادوں کی جنگ ہے۔ اور ہم برتر ہیں۔

امریکہ اپنی فوجی طاقت میدان میں لے آیا ہے لیکن اس کے پاس اپنے عوام کا ساتھ نہیں ہے۔ اس کے برعکس ہماری فوجیں عوام کے ساتھ کے سہارے وطن کا دفاع کر رہی ہیں۔ اگرچہ دشمن کے فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعداد زیادہ ہے لیکن ایران کے عوام نے میدان میں رہنے کا ارادہ کر لیا ہے اور لالچی دشمن کی امید کو مایوس کر دیا ہے۔ جنگ میں وہ فریق جیتتا ہے جس کا ارادہ اور ایمان مضبوط ہو، پس بالآخر اللہ کی مدد سے فتح ہمارے ساتھ ہے۔


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 82



http://oral-history.ir/?page=post&id=13134