پرواز نا تمام
الهام صالح
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
2026-04-03
پانچ افراد تھے؛ مقدس دفاع (ایران-عراق جنگ) کے پانچ کمانڈر۔
29 ستمبر 1981 (ہفتم مهر 1360 ہجری شمسی) کا دن تھا۔ آپریشن ثامن الائمہ (ع) دو روز قبل کامیاب ہو چکا تھا۔ وہ طیارے کے ذریعے تہران واپس جانا چاہتے تھے، لیکن ان کی پرواز ادھوری رہ گئی اور وہ شہید ہو گئے۔
پانچ کمانڈر تھے:
جواد فکوری: جنوری 1939 (دی 1317 ہجری شمسی) میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے طب کا راستہ چھوڑ کر فضائیہ کے کالج میں شمولیت اختیار کی۔ 1963-64 اور 1977-78 میں ایف-4 جنگی طیارے کی تربیت کے لیے امریکہ گئے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی فضائیہ میں شامل رہے اور مقدس دفاع کے دوران فضائیہ کی کارروائیوں کے معماروں میں سے تھے۔ وہ فضائیہ کے کمانڈر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع رہے۔
ولی اللہ فلاحی: 1931 (سال 1310 ہجری شمسی) میں طالقان میں پیدا ہوئے۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد، وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کی زمینی افواج کے کمانڈر اور 19 اگست 1979 (28 مرداد 1358) کو مشترکہ فوجی ہیڈکوارٹر کے سربراہ (چیف آف اسٹاف) بنے۔
سید محمد علی جہان آرا: اگست/ستمبر 1954 (شہریور 1333 ہجری شمسی) میں خرمشہر میں پیدا ہوئے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے اور انقلاب کی فتح کے بعد، خرمشہر میں پاسداران انقلاب (سپاہ پاسداران) کے بانی اور اس کے کمانڈر، اور اہواز میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر رہے۔
سید موسیٰ نامجوی: 1938 (سال 1317 ہجری شمسی) میں بندر انزلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے آفیسرز اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور اسی اکیڈمی کی علمی مجلس (ہیئت علمی) کے رکن رہے۔ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد، انہوں نے آفیسرز اکیڈمی کی کمانڈ سنبھالی۔ ڈاکٹر مصطفیٰ چمران کی شہادت کے بعد، وہ کمانڈر ان چیف کے نمائندے مقرر ہوئے۔ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بھی رہے۔
یوسف کلہدوز: جنوری 1947 (دی 1325 ہجری شمسی) میں قوچان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے فوج کی آفیسرز اکیڈمی میں داخلہ لیا اور اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کی بدولت اعلیٰ عہدوں تک پہنچے، لیکن اسی دوران وہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے۔ انقلاب کی فتح کے بعد، وہ سپاہ پاسداران انقلاب کے بانیوں میں سے تھے اور سپاہ کے نائب کمانڈر ان چیف رہے۔
ہر سال 29 ستمبر (7 مهر) کو انہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ کمانڈر ممتاز شخصیات تھے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یادداشتوں میں درج ہے: "شہید کلہدوز استثنائی اور نایاب شخصیات میں سے تھے۔ میں نے سپاہ میں بار بار بھائیوں سے کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ [وہ] ایک ایسے مرد تھے کہ اگر زندہ رہتے تو یہ امید تھی کہ سپاہ اپنی اس محنتی اور امید افزا تحریک کو دوگنی رفتار سے آگے بڑھا سکے گا۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جنہوں نے فوجی مہارت کو سپاہ میں لایا اور خود بھی ایک حقیقی سپاہی بن گئے تھے۔ یہاں تک کہ جو لوگ سپاہ میں تھے، انہیں یاد نہیں رہا کہ یہ نوجوان کبھی فوجی تھا۔"
انہوں نے سید محمد علی جہان آرا کے بارے میں بھی فرمایا: "محمد جہان آرا اور ہمارے دوسرے نوجوانوں نے عراقی حملہ آور افواج کے خلاف — ایک عراقی بکتر بند ڈویژن، ایک سپیشل فورسز بریگیڈ اور نوّے توپوں کے ساتھ جو رات دن خرمشہر پر بارش کر رہی تھیں — پینتیس دن مزاحمت کی۔"
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی یادداشتوں میں دیگر کمانڈروں کا بھی ذکر کیا ہے۔ سید موسیٰ نامجوی کے بارے میں: "میں اس شخص میں اخلاص، خلوص، صفائی، کام میں سنجیدگی اور معاملات کی پیروی دیکھتا تھا، جو فوجی وردی میں تھا اور واقعی چاہتا تھا کہ فوج ایک اسلامی فوج اور امام زمان (عج) کا سپاہی ہو۔"
ان یادداشتوں میں آفیسرز اکیڈمی میں شہید نامجوی کے کردار کا بھی ذکر ہے: "انصافاً، آفیسرز اکیڈمی اس سے پہلے کہ شہید نامجوی وہاں جائیں، کچھ بھی نہیں تھی۔ جب وہ وہاں گئے، تو واقعی اسے آباد کر دیا۔"
ولی اللہ فلاحی کا نام بھی آیت اللہ خامنہ ای کی یادداشتوں میں ملتا ہے: "انقلاب کے ابتدائی دنوں میں ایک دن میں مرحوم شہید فلاحی کے ساتھ بلوچستان جا رہا تھا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ امام (خمینی) کی طرف سے مجھے فوج میں ماموریت حاصل تھی۔ ایک پروگرام تھا، ہم تہران سے چابہار جا رہے تھے۔ فالکن طیارے میں 7-8 فوجی افسر تھے اور مرحوم فلاحی ہمارے ساتھ تھے۔ رمضان کا مہینہ تھا اور صرف مرحوم فلاحی روزے سے تھے۔ ہم سب نے، چونکہ سفر میں تھے، افطار کر لیا تھا۔ میں نے فلاحی سے کہا: آپ روزہ کیوں نہیں توڑ رہے؟ انہوں نے کہا: میں ہمیشہ سفر میں رہتا ہوں اور سفر میں بھی روزہ رکھتا ہوں۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے 8-9 سال کی عمر سے روزے رکھے ہیں۔"
یہ پانچوں کمانڈر 29 ستمبر 1981 (7 مهر 1360) کو اس وقت شہید ہوئے جب ان کا C-130 طیارہ مہرآباد ہوائی اڈے سے 17 میل دور تھا۔ حادثہ طیارے کے چاروں انجنوں کا بیک وقت بند ہو جانا تھا۔ پائلٹ کی طیارے کو زمین پر اتارنے کی کوشش ناکام رہی۔ ہینڈل کے ذریعے دستی طور پر طیارے کے پہیے نیچے کیے گئے اور طیارے نے تقریباً 270 میٹر کا فاصلہ ناہموار زمین پر طے کرنے کے بعد لینڈ کیا، لیکن جیسے ہی طیارے کا بایاں بازو زمین سے ٹکرایا، طیارے میں آگ لگ گئی۔
طیارہ تہران کے قریب کہریزک کے علاقے "دوتویہ بالا" اور "دوتویہ پائین" میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ کچھ دیہاتیوں نے یہ منظر دیکھا اور اپنے مشاہدات کو کیہان اخبار کے نمائندے سے شیئر کیا: "طیارہ دو حصوں میں بٹ چکا تھا اور اس کا ایک حصہ آگ کے شعلوں میں جل رہا تھا، اور زخمیوں کی مدد کی پکار صحرا کی تاریکی میں سنائی دے رہی تھی، لیکن زخمیوں کی جگہ کا پتہ لگانا ممکن نہ تھا، اور یہ کام اس وقت ممکن ہوا جب ہیلی کاپٹر آسمان پر نمودار ہوئے اور طاقت ور سرچ لائٹس سے ہر جگہ روشن کر دی۔"
فائر بریگیڈ کے اسٹیشن نمبر 9، 4، 18، 13 اور 14 نے طیارہ گرنے کی اطلاع ملنے کے بعد رات 8:31 بجے موقع پر روانہ کیا گیا۔ متعدد ٹیمیں بشمول امدادی کارکنان، ایمرجنسی عملہ، پاسداران اور عام لوگ حادثے کے مقام پر پہنچ گئے اور جلی ہوئی لاشوں کو طیارے سے باہر نکالا گیا۔
ماخذ:
-
بہ آسمان نگاه کن: خاطرات آیتالله خامنهای از شهیدان انقلاب و دفاع مقدس (آسمان کی طرف دیکھو: انقلاب اور مقدس دفاع کے شہیدوں کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کی یادداشتیں)، بہ اهتمام: هادی شیرازی، مرکز پژوهشهای بنیاد فرهنگی شهید شیرازی و موسسه سردار شهید احمد کاظمی
-
تقویم تاریخ دفاع مقدس: شکست حصر؛ حوادث مهر 1360، تالیف: فرهاد بهروزی، انتشارات مرکز اسناد انقلاب اسلامی
oral-history.ir
صارفین کی تعداد: 72
http://oral-history.ir/?page=post&id=13167
