تہران کے عوامی اجتماعات میں موجود عراقی موکب کے ارکان سے گفتگو

فائزہ ساسانی‌خواہ

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-05-07


اپریل کے آغاز میں تہران کے "خراسان اسکوائر" میں ہونے والے رات کے اجتماعات میں آتے جاتے ہوئے،  اسکوائر کے ایک کونے میں موجود ایک "موکب" نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ اس موکب پر جبہہ مقاومت (مزاحمتی بلاک) کے عظیم شہداء اور آیت اللہ العظمی سیستانی حفظہ اللہ کی تصاویر کے ساتھ ساتھ بہت سے جھنڈے نصب تھے۔ عربی ترانوں کی گونج، چائے اور تبرک کی تقسیم، اور خادموں کی آوازیں جو ایرانی شہریوں کو عربی زبان میں "خوش آمدید" کہہ رہے تھے، نے وہاں مکمل طور پر "اربعین" کا ماحول پیدا کر دیا تھا۔ ملک کے موجودہ جنگی حالات میں ان کی موجودگی میرے لیے خوش آئند بھی تھی اور باعثِ حیرت بھی۔ ایران میں ان کی موجودگی کے پس پردہ مقاصد اور جذبات جاننے کے لیے میں نے اس موکب کے دو ارکان کا انٹرویو کیا۔

سوال: براہ کرم "موکب انصار الامام" کے بارے میں کچھ بتائیں۔

ابوعلی: اس موکب کے ارکان عراق کے مختلف شہروں کے باشندے ہیں، لیکن ہمارا مرکزی دفتر بغداد میں ہے۔ موکب "انصار الامام" نے صرف عراق تک محدود رہنے کے بجائے یمن، لبنان اور یہاں تک کہ غزہ میں بھی "شیعہ مقاومت" کے محور کے طور پر اپنی موجودگی درج کروائی ہے۔ اگرچہ یہ ایک عراقی موکب ہے، لیکن جہاں کہیں بھی اس کے اراکین دیکھتے ہیں کہ ان کے ہم مذہب بھائیوں کو مدد کی ضرورت ہے، تو پھر یہ موکب سمیت وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ لبنان میں سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے وقت سے ہم نے وہاں موکب لگایا ہوا ہے جو اب تک روزانہ 15 ہزار افراد کے لیے کھانا تیار اور تقسیم کر رہا ہے۔ ایران میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی، ہم نئے سال (نوروز) کے آغاز سے بغداد سے یہاں آئے ہیں تاکہ ایران کی غیور ملت کی خدمت کر سکیں۔

سوال: آپ کے ایران آنے کا اصل مقصد کیا تھا؟

ابوعلی: ہمارے ایران آنے کی دو وجوہات ہیں: ایک وجہ ہمارا مذہب اور عقیدہ ہے، خاص طور پر "ولایت" پر ہمارا پختہ یقین۔ ہم مجاہدین ہیں اور ہمارا نصب العین شہادت ہے۔ ہمارے لیے عراق، ایران، یمن اور لبنان ایک ہی ہیں؛ ہمارے درمیان کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہم خود کو صرف عراقی نہیں سمجھتے، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم سب ایک ہی دین اور مذہب کے پیروکار ہیں؛ ہمارا ہدف ایک ہی ہے اور وہ ہے دشمن کی نابودی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جب 2014 میں ہم داعش کے خلاف جنگ میں مصروف تھے، تو عراقی حکومت نے روس، چین اور امریکہ جیسے مختلف ممالک سے مدد مانگی، لیکن انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔ امریکہ نے وعدہ کیا کہ وہ کئی ماہ بعد مدد کرے گا۔ اس وقت ہم اپنے ذاتی خرچ سے اسلحہ اور گولیاں خرید کر لڑ رہے تھے۔ لیکن جب عراقی حکومت نے ایران سے مدد کی درخواست کی، تو شہید حاج قاسم سلیمانی، شہید سید علی خامنہ ای (اللہ ان پر رحمتیں نازل کرے) کے حکم پر 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں اسلحہ لے کر ہماری مدد کو پہنچ گئے۔

اسی لیے، ہم اس احسان کو نہیں بھول سکتے جو ایران نے اس وقت ہم پر کیا تھا۔ آج ہم یہاں جو کچھ کر رہے ہیں اور ایران کے شیعوں کی جو خدمت کر رہے ہیں، یہ اس احسان کے سمندر کے سامنے ایک قطرے کی مانند ہے جو ایرانیوں نے ہمارے حق میں کیا تھا۔ ہمارا اصل مقصد یہ تھا کہ ایران کے عوام اس مشکل گھڑی میں (جو ان شاء اللہ جلد ختم ہو جائے گی) تھوڑا سکون محسوس کریں۔ ہمارے نوجوان تبرک تقسیم کرتے وقت وہی الفاظ دہراتے ہیں جو اربعین کے دنوں میں زائرین کے لیے استعمال کرتے ہیں؛ مثلاً وہ کہتے ہیں: "شیعہ علیؑ خوش آمدید"، "شیعہ حیدرِ کرارؑ خوش آمدید"۔ لوگ جب ہمیں اپنے ساتھ میدان میں کھڑا دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ ہماری موجودگی اور ہماری معنوی حمایت نے میرے ہم مذہب بھائیوں کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں کر دیئے ہیں، تو مجھے قلبی سکون ملتا ہے۔

باقر جابری: ہم یہاں ملتِ ایران کی خدمت کے لیے آئے ہیں۔ ایران وہ ملک ہے جو اپنے عقیدے اور مسلک کی خاطر اپنی جان تک نچھاور کر دیتا ہے۔ سال 2014 میں جب داعش نے عراق پر حملہ کیا، تب سے لے کر جنگ کے خاتمے تک ایران کی حکومت اور عوام ہمارے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اس راہ میں انہوں نے اپنے بیٹوں کے خون کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ یہ وہ قرض ہے جو ہماری گردن پر ہے اور ہمیں ہر توان (چاہے کم ہو یا زیادہ) کے مطابق اس قرض کو چکانا ہے۔ اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ (ان عظیم احسانات کے بدلے میں) ہم سے کچھ بن نہیں پائے گا، اور ان نیکیوں کا بدلہ ہم نہیں اتار پائیں گے، اسی لیے ہم اب تک صرف خدمت گزاری کی نیت سے ہی اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ان شاء اللہ ہمارا ارادہ ایران ہی میں قیام کرنے اور عوام کی خدمت کرنے کا ہے، اور ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عراقی عوام کی جانب سے یہ ہماری سرگرمیوں کا ایک ادنیٰ سا حصہ ہے۔ اہل عراق اپنی ہمت کے مطابق ایران کے لیے تحائف جمع کر کے بھیج رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ عراقی بیٹیاں (ملتِ ایران کی حمایت میں) اپنے سونے کے جھمکے تک عطیہ کر رہی ہیں۔

سوال: گزشتہ کچھ عرصے میں آپ نے ایرانی عوام کے حوصلوں کو کیسا پایا؟

ابوعلی: ان کا حوصلہ بے مثال ہے۔ ہم راتوں کو عوام میں کھانا اور دیگر اشیاء تقسیم کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ رات کے آخری پہر جب ہم کام سے فارغ ہوتے ہیں، تو میدان میں موجود عوامی اجتماع میں شریک ہو جاتے ہیں۔ خدا گواہ ہے، ان لوگوں کو دیکھ کر ہماری آنکھیں بھر آتی ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے، چھوٹے، باحجاب اور بے حجاب خواتین، دیندار اور عام طبقے کے لوگ، سب کے سب اپنے ملک کی حمایت میں نکلے ہوئے ہیں، تو ہم بہت متاثر ہوتے ہیں۔ پہلے میرا خیال تھا کہ شاید صرف مذہبی طبقہ ہی ایران کی حمایت کرتا ہے، لیکن اب میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر طبقے اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے وطن کے دفاع میں کھڑے ہیں۔ ان لوگوں کو دیکھ کر میری ساری تھکن اتر جاتی ہے۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوتا کہ میں اپنے خاندان سے دور ہوں، بلکہ میں یہاں دلی سکون محسوس کرتا ہوں۔ ایرانی عوام کا یہ رویہ مجھے ایک خاص قسم کا اطمینان بخشتا ہے؛ یہ ایک ایسا احساس ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔

باقر جابری: لوگوں کے حوصلے بہت بلند ہیں۔ وہ بالکل  پُرسکون انداز سے اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شہر میں امن و امان اور سکون کا راج ہے۔ یہاں آنے سے پہلے میرا خیال یہ نہیں تھا۔ اسی لیے میں رات کے ان اجتماعات اور لوگوں کی معمول کی زندگی کی فلمیں بنا رہا ہوں، ان کے انٹرویو لے رہا ہوں اور عراق بھیج رہا ہوں تاکہ میرے ہم وطن دیکھ سکیں کہ ایران کے اصل حالات کیا ہیں۔

سوال: کیا ان اجتماعات کے دوران آپ کی نظر سے کوئی ایسا خاص منظر گزرا جس نے آپ کو متاثر کیا ہو؟

ابوعلی: جی ہاں، بہت سے ایسے مناظر دیکھے۔ ہم نے اپنے موکب پر یمن کی انصار اللہ اور لبنان کی حزب اللہ تنظیموں اور عراق و ایران کے شہداء کی تصاویر نصب کی ہیں۔ ایک مرتبہ ایک خاتون آئیں جو شہداء کی تصاویر دیکھ کر زار و قطار رونے لگیں، حالانکہ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ یہ کن شہداء کی تصاویر ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اپنے ساتھ تربتِ امام حسین علیہ السلام لائے ہیں؛ جب ہم یہ مقدس خاک مختلف عمر کے لوگوں کو دیتے ہیں، تو امام حسین علیہ السلام سے عقیدت اور فرط جذبات سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

باقر جابری: جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ان اجتماعات میں خاندانوں کی بھرپور شرکت ہے؛ خاص طور پر وہ ننھے بچے جو اپنے سٹڑولرز میں بیٹھے ہاتھوں میں پرچم تھامے ہوئے ہیں۔ یا جب ضعیف العمر مرد و خواتین لاٹھیوں کے سہارے یا ویل چیئرز پر یہاں پہنچتے ہیں، تو یہ منظر میرے لیے انتہائی ایمان افروز  ہوتا ہے۔ میرے نزدیک یہ میدان ایک "مقدس میدان" ہے۔

سوال: کیا اس سفر سے پہلے آپ کے ذہن میں ایران کی صورتحال کی یہی تصویر تھی؟

ابوعلی: جی نہیں، ہمارا خیال تھا کہ حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے، کیونکہ کیمرہ حقیقت کا محض دس فیصد حصہ ہی دکھاتا ہے، باقی حقیقت انسان کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنی پڑتی ہے۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ آئے روز حملے یا بمباری ہوتی ہے یا اس کے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود عوام میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں؛ مرد و خواتین اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر یا پیدل سڑکوں سے گزر رہے ہیں اور زندگی اپنے پورے معمول کے ساتھ رواں دواں ہے۔

باقر جابری: یہ میرا ایران کا پہلا سفر ہے۔ جنگ کے آغاز سے قبل میں نے سنا تھا کہ ایران ایک نہایت خوبصورت اور منظم ملک ہے، لیکن جنگ چھڑنے کے بعد ہمیں یہ اطلاعات مل رہی تھیں کہ ایران کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جب میں ایران آیا اور یہاں کے امن و امان اور ایرانیوں کے بلند حوصلے کو دیکھا، تو میں دنگ رہ گیا۔ اب جب عراق کے لوگ، بالخصوص وہ عراقی اسٹوڈنٹس جو ایران میں زیرِ تعلیم ہیں، مجھ سے یہاں کی صورتحال دریافت کرتے ہیں، تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہ ملک مکمل طور پر محفوظ ہے۔

سوال: جب آپ کو حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر ملی، تو آپ کے کیا جذبات تھے؟

ابوعلی: (روتے ہوئے) میں اسے بیان کرنے کی تاب نہیں رکھتا۔

باقر جابری: ہمارا گمان یہ تھا کہ خود سید علی ہی امریکہ اور اسرائیل کو نیست و نابود کریں گے اور ہم (ان کی امامت میں) فلسطین میں نماز ادا کریں گے۔ لیکن ان کی شہادت کی خبر سن کر ہم سب ششدر رہ گئے اور گہرے صدمے میں چلے گئے۔ ہمارے گھر ماتم کدہ بن گئے؛ میرے والدین، اہلیہ اور یہاں تک کہ ہمارے بچے بھی سوگوار ہو گئے۔ جس روز "سیدِ شہید" کی شہادت کا باقاعدہ اعلان ہوا، عراق کے تمام مقامات مقدسہ میں نمازِ فجر کے وقت چراغ بجھا دیے گئے، تکبیریں بلند ہوئیں اور اسی روز لوگ سوگ منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اہل عراق کو "سیدِ شہید" سے ایک خاص قلبی تعلق اور بے پناہ عقیدت تھی۔

سوال: کیا آپ کو ایسا لگتا تھا کہ رہبرِ ایران کی شہادت کے بعد جمہوری اسلامی ایران کا نظام قائم رہ سکے گا؟

ابوعلی: ہر کوئی یہی سمجھ رہا تھا کہ اگر [آیت اللہ] سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے (دوبارہ روتے ہوئے)، تو ایران کا نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور وہ دو دن کے اندر ایران میں اقتدار و حکومت بدل دے گا؛ حالانکہ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔ ایران کے عوام نے پہلے سے بھی زیادہ عزم و استقلال کے ساتھ اپنے اسلامی جمہوریہ اور اپنی حکومت کی حمایت کی۔ میری دعا ہے کہ ان شاء اللہ ملتِ ایران سایۂ اہل بیتؑ  علیہم السلام میں ہمیشہ سرخرو اور سلامت رہے۔ جب تک ہم اہل بیت علیہم السلام سے لو لگائے رکھیں گے، وہ بھی ہمیں فراموش نہیں کریں گے۔ ان شاء اللہ آپ ہمیشہ فتح یاب رہیں۔

باقر جابری: رہبر کی شہادت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس ملک کا وجود ختم ہو گیا ہے؛ بلکہ اس کے برعکس، جس طرح واقعہ کربلا میں خون کو تلوار پر فتح حاصل ہوئی، (یہ شہادت بھی) خون کو تلوار پر فتح دلائے گی۔ میرا یہ پختہ ایقان تھا کہ [آیت اللہ] سید علی نے اپنی شہادت سے پہلے ہی تمام امور کو ترتیب دے کر فضا ہموار کر دی تھی؛ میں تو بس اگلے رہبر کے انتخاب کا منتظر تھا۔ ان شاء اللہ ایران میں ہمیشہ امن و امان قائم رہے۔ خدا نئے رہبر، حکومت اور عوام کی حفاظت فرمائے۔ ہم اپنے خون، جان اور مال سے ایران پر قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ سنی مشائخ کہا کرتے تھے کہ [آیت اللہ] خمینی کے انقلاب سے پہلے جب بھی کسی شیعہ سے پوچھا جاتا تھا کہ تم "شیعہ ہو یا مسلمان؟"، تو وہ (تقیہً یا مصلحتاً) جواب دیتا تھا کہ "میں مسلمان ہوں"۔ لیکن امام خمینیؒ کے انقلاب کے بعد اب وہ فخر سے کہتا ہے: "ہاں، میں شیعہ ہوں"۔ میرے نزدیک یہ امام خمینیؒ کے انقلاب کی برکت ہے جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا۔


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 24



http://oral-history.ir/?page=post&id=13261