پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 66

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-05-16


کاک احمد مفتی زادہ صاحب اور ماموستا شیخ جلال حسینی کا پاوہ کا دورہ

(پہلا حصہ)

انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد، شمالی کُردستان کے بیشتر شہروں کے برخلاف، اورامانات کی عوام اور صوبۂ کرمانشاہ کے سنی، اہم قومی معاملات میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کے ساتھ تھے اور علاقائی معاملات میں علماء اور بالخصوص کاک احمد مفتی زادہ صاحب کے حامی تھے۔ انہوں نے شیخ جلال جیسے علماء کے برخلاف، عوام کو اسلامی جمہوریہ کو ووٹ دینے کی دعوت دی تھی۔

2 مئی 1979 کو سید موسیٰ موسوی صاحب، کاک احمد مفتی زادہ صاحب کے ساتھ سنندج سے اورامانات کی عوام سے ملاقات کے لیے پاوہ شہر میں داخل ہوئے، عوام کی جانب سے ان کا بے مثال استقبال کیا گیا اور انہوں نے جامع مسجد میں عوام سے خطاب کیا۔ ان دنوں، میں ہائی اسکول کے آخری امتحانات میں مصروف تھا لیکن استقبال کی تقریب میں شرکت کی وجہ سے میں امتحان نہیں دے پایا اور فیل ہوگیا۔

مفتی زادہ اور موسوی صاحب نے ہلال احمر کی پہاڑی[1] پر رات گزاری۔ اگلی رات ہم تقریباً تیس گاڑیاں لے کر جوانرود تک ان کے ساتھ ساتھ گئے۔ جوانرود میں داخل ہونے سے پہلے، سررود[2] گاؤں میں ایک بوڑھی خاتون جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی گاڑیاں اور اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے، گاڑیوں کے قافلے کے قریب پہنچیں اور انہوں نے حیرت سے ہمارے ایک دوست سے پوچھا: ’’کیا ہوا ہے؟‘‘

ہمارے ایک شوخ مزاج دوست نے کہا: ’’کچھ نہیں ہوا اماں، شاہ واپس آگیا ہے۔‘‘

سادہ لوح بوڑھی خاتون نے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے کہا: ’’خدا کا شکر ہے!‘‘

کاک احمد مفتی زادہ اور شیخ عزالدین حسینی، کُردستان کے علاقے میں ایک دوسرے کے سخت حریف تھے۔ اورامانات میں مفتی زادہ صاحب کا استقبال، پاوہ اور جوانرود میں کُردستان کے سیاسی گروہوں کی پریشانی اور ردعمل کا باعث بنا اور چند دن بعد کاک احمد اور ان کے ساتھیوں کے دورے کو بے اثر کرنے کے لیے شیخ عزالدین حسینی کے چھوٹے بھائی شیخ جلال الدین حسینی نے اورامانات کا دورہ کیا؛ منصوبہ بندی کے ساتھ ایک نپا تلا منظم دورہ۔ وہ پہلے روانسر میں داخل ہوئے اور پھر جوانرود گئے۔ جوانرود میں عوام کے ان کے استقبال اور جشن کے دوران ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد لوگ زخمی ہوئے اور ان کی خوشی، سوگ میں بدل گئی۔

مدرسۂ قرآن کے اراکین نے پییشگی معلومات کے تحت جوانرود کے حادثے کی طرح کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے، منظم منصوبہ بندی کرلی تھی۔ ان کے پاوہ کے دورے کے دوران استقبال کے وقت ہم نے اپنی پوری توانائی لگادی تھی کہ سنکی لوگ اس موقع سے کوئی غلط فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ ماموستا شیخ جلال اور ان کے ساتھی، بہت پر امن طریقے سے بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے شہر میں داخل ہوگئے۔ ہم ان لوگوں کو پاوہ کی جامع مسجد لے گئے۔ ساری عوام، اپنے سیاسی نظریات کو ایک طرف رکھ کر ان کے استقبال اور تقریر سنے آئی ہوئی تھی۔ محفل کے آغاز میں جمعیت قرآن کے ایک رکن نے شیخ صاحب کو خوش آمدید کہا اور اس کے بعد حسینی شیانی صاحب نے پاوہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے کُردستان کی خودمختاری سے متعلق ایک مقالہ پڑھ کر سنایا۔ شیخ جلال صاحب ایک آزاد اور قوم پرست عالم دین تھے۔ نہ ان کا ڈیموکریٹک پارٹی سے کوئی تعلق تھا اور نہ ہی وہ اپنے بھائی شیخ عزالدین کی طرح کوملہ پارٹی کی سربراہی اور حمایت کا دعویٰ کرتے تھے۔ بظاہر وہ کسی بھی گروہ یا پارٹی سے وابستہ نہیں تھے، لیکن انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں اپنے بھائی کے حکم پر آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔

مہاباد کے امام جمعہ شیخ عزالدین حسینی اپنے آپ کو کوملہ پارٹی کا روحانی پیشوا سمجھتے تھے۔ وہ مفتی زادہ صاحب کے حریف تھے اور اپنے اقدامات کی وضاحت کے لیے ہر روز ان کے انٹرویوز آتے تھے اور بائیں بازو کی جماعتیں بھی اپنے مقاصد آگے بڑھنے کی وجہ سے ان کی تشہیر کرتی تھیں۔ شیخ جلال حسینی صاحب، میرے مشکل زمانۂ طالب علمی میں بانہ میں میرے استاد تھے اور سن 1976 میں میرے زماںۂ طالب علمی جو میری عمامہ گزاری اور اجازت نامے پر اختتام پذیر ہوا، کے اواخر میں وہ میرے لیے ایک اچھے رہنمائی کرنے والے، شوق دلانے والے، مددگار اور میرے لیے ایک قابل اطمینان پناہ گاہ تھے۔ میں ہمیشہ خود کو ان کا مرہون منت مانتا تھا اور انہیں شاہ کی حکومت کے خلاف ایک انتھک سیاسی جدوجہد کرنے والے کے طور پر دیکھتا تھا۔ بانہ کی عوام کی نظروں میں ماموستا، ایک قابل احترام شخصیت تھے اور اردگرد کے اور کُرد علاقوں میں ان کا ایک خاص مقام و مرتبہ تھا۔ اسی لیے ہم سب لوگ ان کے استقبال کی تقریب میں شریک ہوئے تھے اور ان کی آمد سے قبل ہم نے ایک اعلامیہ جاری کرکے، ان کی آمد کے خیرمقدم کے ساتھ ساتھ ان کے استقبال کی تقریب میں شرکت کے لیے تمام لوگوں کو دعوت دی تھی۔ استقبال کی تقریب کے اختتام پذیر ہونے کے بعد جب وہ تجدید وضو میں مشغول تھے تو میں ان کے پاس گیا اور میں نے ہمدردی میں کچھ نکات ان کے گوش گزار کیے۔ میں نے کہا: ’’جناب ماموستا، آپ کا مجھ پر حق ہے اور میں اپنے آپ کو آپ کی زحمتوں کا مرہون منت مانتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس شہر میں آپ کی عزت بنی رہے۔ جناب عالی دوسروں سے الگ ہیں۔ شاہ کی حکومت کے خلاف آپ کی سیاسی جدوجہد کو میں بھلا نہیں سکتا، لیکن جان لیجیے کہ پاوہ شہر، سقز، بانہ اور مہاباد کی طرح نہیں ہے۔ یہاں تہران اور قم سے بھی زیادہ لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کو ووٹ دیا ہے اور انہیں، نوخیز اسلامی جمہوریہ سے بہت امیدیں ہیں۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے تقریر میں دو باتوں کا خیال رکھیں؛ ایک تو یہ کہ اس تحریک کے سربراہ یعنی امام خمینی کے خلاف کوئی بات نہ کریں، دوسرا یہ کہ ہماری عوام، آپ کو ایک عالم دین کے طور پر پہچانتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جناب عالی کی تقریر بیشتر دینی، اخلاقی اور تربیتی امور سے متعلق ہو، کیونکہ ثقافت، دین اور زبان کے اشتراک کے باوجود، پاوہ اور اورامانات، کُردستان کے شمالی شہروں سے مختلف ہیں اور یہاں کی اکثر عوام، نسلی اور قومی امور سے زیادہ مذہبی امور کو اہمیت دیتی ہے۔‘‘

بظاہر ماموستا نے میری بات مان لی اور اپنی تقریر میں نہ صرف یہ کہ انقلاب کے سربراہ کے خلاف کوئی بات نہیں کی بلکہ انہوں نے ان کی تعریف کی اور متعدد بار امام خمینی کا نام لیا لیکن عوام کی بھرپور شرکت اور گرم جوش استقبال کے باعث وہ جوش میں آگئے اور میری دوسری درخواست کو بھول گئے اور لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہہ دیا: ’’اے پاوہ کے لوگو! اگر آپ کے یہ پہاڑ میرے پاس ہوتے، تو میرے پاس جو بھیڑ بکریاں ہوتیں میں انہیں بیچ کر سارہ پیسہ اسلحے میں لگا دیتا اور اس علاقے میں اسلامی جمہوریہ کو قدم جمانے نہ دیتا۔‘‘

اس تقریر کے اختتام کے بعد، جامع مسجد سے نکلتے وقت انہوں نے مجھ سے شہر کے حالات، پارٹیوں کی ساخت اور ان کے دفاتر کے بارے میں پوچھا، میں نے انہیں جواب دیتے ہوئے بتایا کہ صرف دو ہی مشہور دفاتر ہیں؛ ایک مدرسۂ قرآن جو اب ’’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘‘ کے نام سے مشہور ہے اور دوسرا ڈیموکریٹک پارٹی کا دفتر۔ ماموستا نے کہا: ’’میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ دونوں دفاتر چلو۔‘‘

                                                    جاری ہے۔۔۔

 


[1]  اب فوجی پہاڑی کے نام سے مشہور ہے۔

[2]  مرکزی ضلع میں، جوانرود شہر سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں۔



 
صارفین کی تعداد: 26



http://oral-history.ir/?page=post&id=13280