دفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ

تحریر: محمد مہدی بہداروند
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-07-15


مقدمہ

ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے انسانی، ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے دفاعِ مقدس کی تحریری یادداشتیں اہم ترین ذرائع میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ یادداشتیں محض خشک تاریخی بیانات نہیں ہیں، بلکہ ان انسانوں کی اندرونی دنیا کا عکس ہیں جنہوں نے ان حوادث کے درمیان زندگی گزاری ہے۔ ان تصانیف کا ہر صفحہ اس قوم کے احساسات، ایمان، خوف، امید اور استقامت کی وہ دستاویز ہے جس نے بحرانی ترین حالات میں اپنی اجتماعی شناخت کو دوبارہ تشکیل دیا۔

اس دوران، جنگ کی عکاسی میں خواتین اور مردوں کے زاویہ نظر کا فرق ایک ایسا موضوع ہے جس کا تقابلی مطالعہ ہمیں دفاعِ مقدس کے زمانے کی روح کو گہرائی سے سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مرد زیادہ تر میدانِ جنگ میں دشمن کے ساتھ براہِ راست برسرِ پیکار تھے، جبکہ خواتین پر رسد و پشتیبانی، تیمارداری، بچوں کی پرورش اور خاندان کی سربراہی کی بھاری ذمہ داری تھی۔ ان دو مختلف تجربات نے دو الگ الگ طرزِ عمل تشکیل دیے ہیں: ایک وہ جو میدانِ عمل میں فیصلے اور اقدام پر مبنی ہے، اور دوسرا وہ جو زندگی کے میدان میں احساس، تدبر اور ثابت قدمی پر استوار ہے۔

اس تحریر میں ان دونوں اصناف کے بیانات کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے مواد، زبان اور نفسیاتی فرق کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ ایرانی معاشرے کے اجتماعی حافظے میں ان دونوں نظریات کے ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہونے کی ایک جامع تصویر پیش کی جا سکے:

۱. خواتین اور مردوں کی یادداشتوں کی ماہیت

۱.۱  خواتین کی یادداشتیں:

دفاعِ مقدس میں خواتین کی یادداشتیں اکثر روزمرہ زندگی اور انسانی تجربات کے پس منظر میں تشکیل پائی ہیں۔ ان تصانیف میں خواتین نے بمباری کے حالات میں گھر کو سنبھالنے، اشیائے خوردونوش کی لمبی لائنوں، بچوں کے لیے پریشانی، زخمیوں کی دیکھ بھال اور شوہروں کو محاذِ جنگ پر الوداع کہنے کا ذکر کیا ہے۔ 'دا' (زہرا حسینی) یا 'میں زندہ ہوں' (معصومہ آباد) جیسی کتب ان خواتین کی یادوں کی بہترین مثالیں ہیں جو رنج اور ایمان کو ایک سچے اور انسانی قالب میں بیان کرتی ہیں۔

ان یادداشتوں میں فوجی اور سرکاری زبان کے بجائے جذباتی اور بیانات کی زبان غالب ہے۔ خواتین اپنے احساسات اور اندرونی کیفیات کا ذکر زیادہ کرتی ہیں اور جذباتی تفصیلات کو بڑی باریک بینی سے محفوظ کرتی ہیں۔ علم سماجیات کی رو سے یہ بیانات معاشرے کی اخلاقی اور سماجی مزاحمت کو برقرار رکھنے میں خواتین کے کردار کو سمجھنے کے لیے ایک قیمتی ذریعہ ہیں۔ وہ نہ صرف مبصر تھیں، بلکہ محاذ کے پیچھے ایسی فعال کارکن تھیں جنہوں نے اپنے ایمان اور صبر سے خاندان اور محاذ کے درمیان تعلق کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

۱.۲ مردوں کی یادداشتیں

اس کے برعکس، مردوں کی یادداشتوں پر میدانِ کارزار کا رنگ غالب ہے۔ راوی مرد حملوں، گولہ باری، دھماکوں، خندقوں اور فوری فیصلوں کی بات کرتے ہیں۔ (پایی کہ جا ماند) 'وہ پاؤں جو پیچھے رہ گیا' یا 'نور الدین، ایران کا بیٹا' جیسی کتب میں جسمانی تجربات اور زندگی و موت کے اہم فیصلے بیانات کا محور ہیں۔ مرد جذباتی تفصیلات پر کم توجہ دیتے ہیں اور زیادہ تر عمل، ذمہ داری، حکمتِ عملی اور فتح و شکست کی روداد بیان کرتے ہیں۔

تاریخی اور انتظامی نقطہ نظر سے یہ یادداشتیں کمانڈ اسٹرکچر، مجاہدین کے حوصلوں اور میدانی حکمتِ عملیوں کے مطالعے کے لیے ایک بھرپور ذریعہ ہیں۔ ساتھ ہی، یہ یادداشتیں ایک بلند پایہ مردانگی کی عکاسی کرتی ہیں؛ ایسی مردانگی جس میں شجاعت ایمان کے ساتھ اور میدان کی سختی انسانی ہمدردی کے ساتھ مخلوط ہے۔

۲. انسانی اور نفسیاتی پہلو

۲.۱ خواتین: ثابت قدمی اور ہمدردی

خواتین کی یادداشتیں اضطراب اور تنہائی کے مقابلے میں ثابت قدمی کی ایک نمائش گاہ ہیں۔ ان حالات میں جب بمباری، غربت اور گھر کے مردوں کی غیر موجودگی روز کا معمول بن چکی تھی، انہوں نے ایمان، سماجی یکجہتی اور اپنے فعال کردار کے ذریعے خاندان کا ذہنی اور روحانی توازن برقرار رکھا۔ شوہر کی واپسی کا انتظار، باپ کی غیر موجودگی میں بچوں کی پرورش اور زخمیوں کی تیمارداری کی رودادیں ان کی اندرونی طاقت اور گہری ہمدردی کی مثالیں ہیں۔ یہ یادداشتیں بحرانوں کو سنبھالنے، جذبات پر قابو پانے اور مشکل حالات میں امید پیدا کرنے کے حوالے سے قیمتی نفسیاتی اسباق فراہم کرتی ہیں۔

۲.۲ مرد: شجاعت اور موت کا سامنا۔

مردوں کی یادداشتیں، سب سے بڑھ کر، موت کے ساتھ آمنے سامنے ہونے کا میدان ہیں۔ بقا اور ذمہ داری کے درمیان انتخاب کے لمحات، اور خوف و ایمان کا اندرونی تجربہ۔ مجاہدین اپنی یادداشتوں میں ساتھیوں کے آخری لمحات، میدانِ جنگ کی چیخ و پکار اور آپریشن کے بعد کی خاموشی کا ذکر کرتے ہیں۔ ان بیانات کے پیچھے 'جہادِ نفس'، 'خطروں میں روحانیت' اور 'اجتماعی وابستگی' جیسے مفاہیم ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

۲.۳ نفسیاتی موازنہ

خواتین احساس اور زندگی کے تسلسل کے دائرے میں ثابت قدم رہتی ہیں اور مرد خطرے اور موت کے قلمرو میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔ دونوں ہی ایک اجتماعی روح کے تکمیلی پہلو ہیں: ایک زندگی کا محافظ ہے تو دوسرا غیرت و وقار کا۔ سماجی نفسیات کے نقطہ نظر سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دفاعِ مقدس کا حافظہ ان دونوں بیانیوں کے امتزاج کے بغیر نامکمل رہے گا۔

۳. اقدار اور اخلاقی منتقلی

دفاعِ مقدس کے ادب میں خواتین صبر، فداکاری، یکجہتی اور خاموش ایثار کی اقدار کی علمبردار ہیں، جبکہ مرد شجاعت، ذمہ داری، وفاداری اور متحرک ایمان کی اقدار کے حامل ہیں۔ ان دونوں دھاروں کا ملاپ دفاعِ مقدس کے اخلاقی ڈھانچے کو مکمل کرتا ہے۔

خواتین کی یادداشتیں روزمرہ زندگی میں مزاحمت کے اخلاق سکھاتی ہیں؛ کہ کس طرح سختیوں کے درمیان امید کی شمع روشن رکھی جا سکتی ہے۔ مردوں کی یادداشتیں خطرے کی صورتحال میں ذمہ داری کے اخلاق سکھاتی ہیں؛ کہ کس طرح جان ہتھیلی پر رکھ کر حقیقت کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔

اخلاق کی یہ دو اقسام مل کر انقلابِ اسلامی کے معیار کے انسان کی بنیاد فراہم کرتی ہیں؛ وہ انسان جو مورچے میں بھی لڑتا ہے اور گھر میں بھی استقامت کا ثبوت دیتا ہے۔

۴. بیانات کا اسلوب اور ہیئت

خواتین کی یادداشتوں کی زبان نرم، بیان کے قابل اور جذباتی ہے جو مختصر جملوں اور جیتے جاگتے تصورات کے ذریعے زندگی کی فضا کو دوبارہ تخلیق کرتی ہے۔ وہ جذبات کی منتقلی کے لیے مادری اور روزمرہ کی گفتگو کے الفاظ استعمال کرتی ہیں۔ اس کے برعکس، مردوں کی زبان واضح، منظم اور اسٹریٹجک ہے۔ ان کے بیانیے کی ساخت اکثر خطی ہوتی ہے اور اس کا دارومدار احساس کے بجائے واقعے پر ہوتا ہے۔

اس فرق سے ہم معرفت کے دو طریقوں تک پہنچ سکتے ہیں: خواتین کی یادداشتوں میں اندرونی معرفت اور مردوں کی یادداشتوں میں بیرونی معرفت۔ معرفت کی یہ دو اقسام ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور محقق کو اس بات میں مدد دیتی ہیں کہ وہ جنگ کو نہ صرف میدانِ کارزار بلکہ عوام کی زندگی کے تناظر میں بھی سمجھے۔

۵. نئی نسل پر اثرات

دفاعِ مقدس کی یادداشتیں لکھنے اور پڑھنے کا ایک اہم مقصد ان نسلوں تک تجربہ منتقل کرنا ہے جنہوں نے جنگ نہیں دیکھی۔ اس حوالے سے خواتین اور مردوں کی یادداشتیں دو مختلف لیکن باہمی تعاون والے راستوں پر چلتی ہیں۔ خواتین اپنے جذباتی اور خاندانی بیانات کے ذریعے نوجوان نسل کو ایثار کے تصور کی جذباتی سمجھ عطا کرتی ہیں۔ مرد اپنے میدانی بیانات کے ذریعے جہاد کے تصور اور فیصلہ سازی کی عقلی اور ذمہ دارانہ فہم سکھاتے ہیں۔

تعلیمی میدان میں مزاحمت کی کثیر الجہتی تفہیم پیدا کرنے کے لیے ان دونوں قسم کی یادداشتوں کے امتزاج سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کتاب 'دا' کا مطالعہ 'نور الدین، ایران کا بیٹا' یا 'رات کو عبور کرنا' طلبہ کے ذہن کو محض ایک واقعے سے ہٹا کر بحران میں گھرے انسان کے جامع ادراک کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی طرح 'راہِیانِ نور' کے دوروں میں مرد مجاہدین کے ساتھ ساتھ خاتون راویوں کی موجودگی نئی نسل کو جنگ کا ایک متوازن تجربہ منتقل کرتی ہے۔ یہ ملاپ جنگ کی ایک زیادہ انسانی اور اخلاقی تصویر پیش کرتا ہے۔

۶. چیلنجز اور حدود

اگرچہ دفاعِ مقدس کی یادداشتیں ایک عظیم خزانہ ہیں، لیکن ان کے تقابلی مطالعے میں ہمیں کچھ چیلنجز کا سامنا ہے:

۱. خواتین کی یادداشتوں تک محدود رسائی: خواتین کی بہت سی یادداشتیں ابھی تک شائع نہیں ہوئیں یا محققین کی پہنچ میں نہیں ہیں۔

۲. بیانات کا جھکاؤ: کچھ تصانیف، خاص طور پر سرکاری یادداشتیں، جنگ کے صرف ایک خاص پہلو پر زور دیتی ہیں اور تلخ تجربات یا ناکامیوں کے ذکر سے گریز کرتی ہیں۔

۳. لسانی اور نسلی فاصلہ: اس دور کی زبان اور اصطلاحات نئی نسل کے لیے اجنبی ہیں اور ثقافتی تشریح کے بغیر ان کا مکمل ادراک ممکن نہیں۔

۴. یادداشت کا افسانوی بن جانا: کچھ تحریروں میں تجرباتی حقیقت ادبی مثالیت پسندی کے ساتھ خلط ملط ہو گئی ہے، جو محقق کو حقیقی تہوں سے دور کر دیتی ہے۔

تاہم، یہی چیلنجز یادداشت کے سماجی مطالعے اور جنگ میں صنفی مطالعے کے شعبے میں نئی تحقیق کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

حرف آخر:

دفاعِ مقدس میں خواتین اور مردوں کی یادداشتیں ایک بڑی حقیقت کے دو تکمیلی دھارے ہیں: بحران کے سامنے انسان کی حقیقت۔ خواتین نے خاندان کی بنیادوں کو محفوظ رکھ کر معاشرے کی جذباتی آبیاری کی ذمہ داری نبھائی اور مردوں نے محاذ پر موجود رہ کر قومی آزادی اور وقار کا پہرہ دیا۔

زبانی تاریخ کے نقطہ نظر سے یہ دو قسم کے بیانیے ایک دوسرے کے متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ خواتین کی یادداشتیں جنگ کی جذباتی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں اور مردوں کی یادداشتیں اس کے حماسی اور شجاعت کے پہلو کو۔ ان دونوں کا امتزاج جنگ کی ایک ایسی جامع اور کثیر الجہتی تصویر بناتا ہے جس کا مکمل ادراک صرف ان دونوں کے باہمی مطالعے سے ہی ممکن ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین اور مردوں کی تحریری یادداشتوں کا موازنہ نہ صرف جنگ کے بیانیے میں صنفی فرق کو پہچاننے کی ایک کوشش ہے، بلکہ ایرانی قوم کے اجتماعی حافظے کی تعمیرِ نو کی جانب ایک قدم ہے؛ وہ حافظہ جس میں مرد اور عورت دونوں ایک ہی سچائی کے راوی ہیں: معاصر تاریخ کے مشکل ترین دور میں ایرانی انسان کے ایمان، ایثار اور استقامت کی سچائی۔


oral-history.ir
 
صارفین کی تعداد: 21



http://oral-history.ir/?page=post&id=13390