علماء کا تہران یونیورسٹی میں پناہ لینا

آیت اللہ مطہری نے ہمیں پیغام دیا کہ محترم لوگوں کو تہران یونیورسٹی میں جمع کیاجائے ہم وہاں پناہ لیں گے۔ تہران کے مشرقی حصے کے تمام کام میرے ذمہ لگا دئیے گئے تھے۔ میں نے بہت سے لوگوں کو فون کیا کہ وہ بھی اس پناہ گزینی میں شریک ہوں۔

جوا آوڈیچ کے ساتھ گفتگو

حسینی اور آودیچ خاندان، خرم شہر اور سربرنیتسا

صربیا کی فوجیں مردوں کو لوگوں سے جدا کرتی اور قتل کر ڈالتی تھیں۔ تیسرے دن ہم بسوں کی طرف چل پڑے جو مسافروں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے پر مامور تھیں۔ میرے بھائی کی عمر ۱۲ سال تھی اور خوش قسمتی سے ہم اس کو بچا لانے میں کامیاب ہوگئے تھے

انقلاب کے دور میں مساجد

مسجد لز زادہ

مسجد لز زادہ تہران کی ایک معروف مسجد اور پہلوی حکومت کے خلاف تحریک کا اہم مرکز تھی۔ یہ مسجد ۱۳۵۰ سے ۱۳۵۷ [ ۱۹۷۱ سے ۱۹۷۸] تک جنوب مشرقی تہران میں مبارزات اسلامی کے لئے ہال اور انقلابی نوجوانوں کے جمع ہونے کا مرکز تھی، بالخصوص ان طلبہ کے لئے جنوبی تہران کی انقلابی تحریکوں میں شریک تھے۔

آج جب میں ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں…

حضرت امام خمینی کی طرف سے صادر شدہ اعلانات کی فوٹو کاپی کروانا اور پھر آبادان شہر میں ان کی تقسیم بذات خود ایک معجزے سے کم نہ تھا۔ یہ کام خود ہم اپنے ہاتھوں سے کرتے تھے اس کے باجود کبھی کبھی یہ بات سمجھنا اور ماننا ہمارے لیے مشکل ہوجاتی تھی کہ بعض اعلانات کیسے تیار ہوئے اور کب اور کیسے لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ گئے

امام خمینی ؒ کی آزادی کے بعد اُن سے ملاقات

ب کی کوشش تھی کہ حضرت امام کے گھر کے اندر جائیں۔ گھر البتہ پرانی طرز تعمیر کا تھا، جبھی مجھے اس کے گرنے کا خدشہ ہوا …۔ دروازہ بند کردیا گیا۔

امام خمینی ؒکے گھر میں ہونے والی تاریخی تقریر

اس تاریخی تقریر کے لئے جس دن کا انتخاب ہوا وہ ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۴ کا دن تھا اور خزاں کا موسم تھا اور اگرچہ اس پروگرام میں شرکت کے لئے باقاعدہ طور ملکی سطح پر عوام کو دعوت نہیں دی گئی تھی لیکن اس کے باوجود قریبی قصبوں خصوصاً تہران کی عوام اور انقلابی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی

پائلٹ ناصر ژیان کی یادوں کے ساتھ

ابتدائی شناخت سے لیکر آپریشن کی کمانڈ تک

جب ہم کمانڈنگ اسٹاف کی ٹریننگ حاصل کر رہے تھے، ہمیشہ ایک فرضی دشمن ہماری پڑھائی کا حصہ ہوتا تھا اور اُس وقت عراق کو فرضی دشمن سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے کہا گیا تھا سب سے پہلے کرمانشاہ میں ایوی ایشن کا گروپ مستقر ہو اور اُسے تمام وسائل دیئے جائیں

دو موارد میں خصوصی تاکید

حضرت امام خمینی ؒ کی گفتگو پوری ہونے پر ہمیں بہت عجیب سا لگا اور سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ ظاہر سی بات ہے پریشانی تو ہونا ہی تھی کہ اب اس تحریک کا مستقبل کیا ہوگا اور اب امام خمینی ؒ جدوجہد کی اس تحریک کو کیسے جاری رکھ پائیں گے؟

تنہائی والے سال – بائیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اسکندری، علی رضائی اور میں نے پہلے سے ہماہنگی کی ہوئی تھی کہ ہر کسی کے ساتھ چچا (ریڈیو) کا ایک سامان ہو – اور خود چچا - میرے ساتھ تھے۔ ہم ایک سیل میں داخل ہوئے۔ ہم نے کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے سب سے پہلے پورے کمرے کا جائزہ لیا تاکہ چچا نوروز کو چھپانے کیلئے کوئی مناسب جگہ ڈھونڈیں

تنہائی والے سال – اکیسواں حصّہ

دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات

اس حالت میں کہ اُس نے میری آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی، ہم اُس کے ساتھ راہداری سے گزرے اور لفٹ کے ذریعے نچلے طبقے میں گئے۔ راہداری طے کرنے کے بعد ہم ایک کمرے میں داخل ہوئے اور اُس نے مجھے ایک کونے میں کھڑا کردیا۔
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

    محترمہ فاطمہ زعفرانی بہروز کے ساتھ گفتگو

    مریم بہروز کی گرفتاری اور انقلاب کی خاطر سونا جمع کرنے کی داستان

    ہم نے ایک خود ہی اعلامیہ بنایا جس کا متن کچھ اس طرح سے تھا: "اس زر و زیورات کی ظاہر سے زیادہ کوئی قیمت نہیں ۔ ہم ان زیورات کو نظام کے استحکام اور انقلاب کے دوام کی خاطر مقدس جمہوری اسلامی کےنظام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں" اس وقت امام قم میں تھے
    جماران ہال میں یادوں بھری رات کا پروگرام

    امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی کچھ یادیں

    گذشتہ سالوں میں ایک موقع نصیب ہوا کہ ہم محترم مؤلفین کے ساتھ، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کے انقلاب اسلامی سے متعلق واقعات لینے جائیں۔ ایک دن جب وہ واقعہ سنانے آئے، تو پتہ چل رہا تھا کہ اُنہیں کسی بات پہ شکوہ ہے۔ میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمجھ گیا تھا کہ جب رہبر حضرت امام کے بارے میں بات کرتے ہیں، اُن کی حالت بدل جاتی ہے اور وہ خود سے بے خود ہوجاتے ہیں