ایک شام بیتی یادوں کے نام

صحت و سلامتی کے محافظ

رہبر معظم نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ: "ہم ان ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کے افراد کے نہایت شکر گزار ہیں جو ان کٹھن ایام میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چھبیسواں حصہ

کتنا منع کر رہی کہ نہیں جانا نہیں جانا۔ بس اسی لئے ضد کر رہے تھے؟ اب اس اتنے بڑے پارک میں اتنے گھنے درختوں میں رات کے اس وقت میں بچے کو کہاں ڈھونڈوں؟

بیتی یادوں کی شب" کے عنوان سے تین سو چونتیسواں پروگرام-3

سورج غروب ہو چکا تھا۔ میرے ہاتھوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اگلے دس دنوں تک ایک ہاتھ اوپر کرنے کے لیے دوسرے ہاتھ سے سہارا دینا پڑتا تھا اور پھر واپس بہت آرام سے نیچے آتا تھا اور جو ہاتھ زخمی تھا اس کو دوبارہ واپس لانے سے تو چیخیں نکلتی تھیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پچیسواں حصہ

ایسا لگا کسی نے بالٹیاں بھر کر ٹھنڈا پانی مجھ پر ڈال دیا ہے ۔ میرے الفاظ میرے منہ میں جم گئے۔ ملتان مقدر کئے جانے کا لفظ سننے کے بعد اب میں کچھ نہ کہہ سکی سوائے اس کے کہ بچوں کے امتحانات نمٹنے تک صبر کیا جائے۔

بیتی یادوں کی شب" کے عنوان سے تین سو چونتیسواں پروگرام-2

چھے دن کے بعد ہمیں الرشید چھاؤنی لے گئے۔ وہیں پہ آقا حیدری اور آقاے کامبیز کمال وند بھی آگئے، ان کو دیکھ کر ہماری جان میں جان آگئی۔ در اصل ہماری بچپن کی دوستی اور محلہ داری بھی تھی

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چوبیسواں حصہ

یہ چند روز جو مشہد میں گذرے انہوں نے مجھے ہندوستان کی یاد دلا دی۔ علی بغیر کی تعطل کے مسلسل کام میں لگا رہتا میری اور اس کی ملاقات بہت کم ہی ہو پاتی تھی۔ کھانے کے کمرے میں ہم سب جمع تھے اور میری نظریں اس کا تعاقب کر رہی تھیں۔

جناب غلام علی مہربان جہرمی کی ڈائری سے اقتباس

جنگ بندی کا اعلامیہ، اس کی قبولی اور جنگ کا خاتمہ

میں وہاں سے اٹھا اور مورچے میں جاکر اسدی صاحب اور ید اللھی صاحب کے پاس جا یٹھا، وہ بھی رو رہے تھے لیکن حقیقت کا علم انہیں بھی نہ تھا۔ بہرحال ان کا اصرار یہ تھا کہ کسی صورت اس حکم کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے۔ میں نے بھی کہا: اگرچہ یہ سب بہت افسوس ناک ہے لیکن کوئی اس کی مخالفت نہیں کرے گا

بیتی یادوں کی شب" کے عنوان سے تین سو چونتیسواں پروگرام-4

عقوبہ میں آخری ایام میں انفرادی قید خانوں سے بھی آوازیں آنے لگیں کہ: ہمیں نہ بھلانا، ہم یہاں قید میں ہیں، کوئی پائلٹ ہے تو کوئی اعلی آفیسر۔۔۔، یہ ساٹھ لوگ تھے جو ہماری رہائی پر خوشی اور امید کی سی کیفیت میں تھے۔ 

بیتی یادوں کی شب" کے عنوان سے تین سو چونتیسواں پروگرام-1

اس وقت قید نئی نئی شروع ہوئی تھی اور پتہ بھی نہیں تھا کہ کب رہا ہوں گے تو ایسے حالات میں اس تلاوت کی برکت سے ہماری بے چینی ایک سرور اور سکون میں بدل جاتی تھی اور یوں سختی کا وہ زمانہ گزارنا بہت آسان ہوجاتا تھا

انقلاب اسلامی کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران کا تشخص

آیت اللہ خامنہ ای کچھ افراد کے ساتھ ہندوستان اور آقای سید محمد خامنه‌ای چین کے لئے روانہ ہوگئے۔ آقاےربانی املشی الجزائر اور دیگر وفود بھی مختلف ممالک کے دورے پر نکل گئے۔ ان وفود کے قائدین، مختلف سیاسی اور انقلابی رہنما تھے۔

عبداللہ صالحی صاحب کی کچھ یادیں

عراقیوں کے بم ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ جن کی آواز سے وہ بوڑھی خاتون اور بچے ڈر کے مارے چلا رہے تھے۔ہم پل پہ پہونچے۔ہم سے آگے ایک گاڑی جارہی تھی۔ فاصلہ اتنا کم تھا کہ اندر بیٹھے مسافروں کو، جو ایک ہی گھر کے افراد تھے، ہم دیکھ پا رہے تھے۔
 

سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔