جنگ اور حکومت
سید محمد صدر کی یادداشتوں کے تناظر میں
راوی (مصنف) اس سے قبل اپنی ایک اور کتاب "انقلاب اور ڈپلومیسی" میں اپنے خاندانی پس منظر، پیدائش، تعلیم اور 1985 میں وزارتِ خارجہ میں اپنی خدمات کے اختتام تک کی یادیں بیان کر چکے ہیں۔ کتاب "جنگ اور حکومت" انہی یادداشتوں کا تسلسل ہےایک ادھوری روداد (روایتِ ناتمام)
بیزاد شیخی نے یہ انٹرویوز ۲۰۱۳ میں ریکارڈ کیے تھے، لیکن یہ سلسلہ دسمبر ۲۰۱۴ میں حاج حمید کی شہادت کے ساتھ ہی ختم ہو گیا۔ ان گفتگوؤں میں راوی نے زیادہ تر اپنے بچپن، نوجوانی، تعلیم، زندگی کے حالات، شادی، انقلاب اور مسلط شدہ جنگ کے ابتدائی سالوں کا ذکر کیا ہے۔شہید کاظم عاملو کی زندگی کی روداد: بانہ کا خواب
کاظم عاملو ۱۹۶۵ میں سمنان میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۸۳ میں بطور بسیج اہلکار انہیں 'بانہ' کے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ واپسی کے بعد وہ دوسری بار ایک فوجی کے طور پر کردستان گئے اور 'شہدا اسپیشل بریگیڈ' میں اپنی فوجی خدمات انجام دیںکتاب "عرشہ" پر ایک تنقیدی نظر
یہ کہنا ضروری ہے کہ کتاب کی مجموعی ساخت مناسب ہے۔ ابواب کی تقسیم متن کے مطابق اور اچھی ہے۔ کتاب کی ظاہری خصوصیات مثلاً: خطاطی (calligraphy)، حروف کی ترتیب (typesetting)، صفحہ آرائش، تصاویر، اور سرورق (cover design) بہترین ہیں، اور کتاب کا سائز اس کے مواد کے مطابق ہے، نیز چھپائی اور جلد سازی (binding) کی کوالٹی بھی بہت اچھی ہے۔سپاہ پاسداران کا توپ خانہ
کتاب "توپخانہ سپاہ پاسداران"، تاریخ شفاہی کی 29 نشستوں پر مشتمل گفتگو کا ماحصل ہے جو مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس نے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔کتاب "شاہ است حسین" کا ایک جائزہ
"شاہ است حسین(ع)" علیرضا میرشکار کی دوسری کتاب ہے، جو سیستان بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں۔ انہوں نے 2022 اور 2023 کے دوران پاکستانی زائرین کے ساتھ 90 گھنٹے کی انٹرویوز کرکے دو سالوں میں پچاس روایات قلمبند کی ہیں۔زبانی تاریخ میں سوالات کی اہمیت کتاب " میریام " کی روشنی میں
تاریخِ شفاہی میں سوالات محض استفہامی نوعیت کے نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات وہ استنباطی یا استدلالی بھی ہوتے ہیں۔ یعنی انٹرویو کرنے والا، انٹرویو دینے والے سے مزید وضاحت، تشریح اور اپنے دلائل پیش کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔خشاب ھای پر از تکبیر[تکبیروں سے بھرے (بندوق کے) میگزین]
’’جب میں دوسری بار گھر لوٹا تو حامد بڑا ہوچکا تھا اور بیٹھنے لگا تھا۔ تیسری بار وہ گھٹنیوں چلنا سیکھ رہا تھا۔ آخری بار جب میں جنوب اور سنندج سے واپس آیا تو حامد باآسانی گھٹنیوں چل رہا تھا۔ جب میں اس کے پاس گیا تو وہ مجھ سے دور بھاگ گیا۔طاہر اسداللہی کی کتاب "برادران قلعہ فراموشان" پر ایک نظر
بعقوبہ کیمپ میں گمنام قیدیوں کے درمیان بیتے ہوئے کچھ ماہ
افسران، جیل کے محافظوں، اور کیمپ کے اہلکاروں نے جو چاہا وہ ان قیدیوں کے ساتھ سلوک کیا اوریہ لوگ کسی اصول، قانون یا بین الاقوامی ضابطے کے پابند نہیں تھے۔کتاب "در زندان بہ روایت شہید سید اسد اللہ لاجوردی" سے اقتباس
منافقین کے بارے میں مطالعاتی کورس
اور کتاب تفسیر المیزان کی تو آپ بات ہی نہ کریں ، جتنی بڑی گالیاں اس کتاب اور اس کے مصنف کو دے سکتے تھے دیتے تھے ، اس کتاب میں سے کوئی بھی بات پکڑ لیتے اور تنقید کرتے ہوئے کہتے کہ یہ شخص بھلا مفسر ہے؟! ایک مفسر بھلا ایسی گھسی پٹی بات کر سکتا ہے؟! مختصر یہ کہ انہوں نے جوانوں کو ان کتابوں کے خلاف اکسانے کا بیڑا اٹھایا ہوا تھا۔ وہ کسی کو یہ کتابیں پڑھنے کی بالکل اجازت نہیں دیتے تھے1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
