پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 67
جیسے ہی شیخ صاحب نے ہمارے دفتر میں قدم رکھا، ان کی نظر اس نعرے پر پڑی تو انہوں نے غصے سے کہا: ’’کس نے کہا خدا ایک ہے؟ کس نے کہا کہ رہنما اور وطن ایک ہے؟‘‘ میں نے بہت آرام سے کہا: ’’ماموستا یعنی ایک سے زیادہ خدا، وطن اور رہنما ہیں؟!‘‘پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 66
مفتی زادہ اور موسوی صاحب نے ہلال احمر کی پہاڑی[1] پر رات گزاری۔ اگلی رات ہم تقریباً تیس گاڑیاں لے کر جوانرود تک ان کے ساتھ ساتھ گئے۔ جوانرود میں داخل ہونے سے پہلے، سررود[2] گاؤں میں ایک بوڑھی خاتون جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی گاڑیاں اور اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے، گاڑیوں کے قافلے کے قریب پہنچیں اور انہوں نے حیرت سے ہمارے ایک دوست سے پوچھا: ’’کیا ہوا ہے؟‘‘پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 65
ہماری ہمدردانہ باتوں کا ہیروی گاؤں کے باسیوں پر اثر ہوا اور ہماری یہ باتیں، ان سب کے ووٹنگ میں حصہ لینے کا باعث بنیں۔ ہم خوشی خوشی دوپہر دو بجے بَلَبزان گاؤں چلے گئے۔ ووٹنگ کے لیے گاؤں کی مسجد کا انتخاب کیا گیا تھا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 64
28 مارچ 1979 کو شیخ عزالدین حسینی نے ایک اعلامیے کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کا مفہوم ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور انہوں نے کُردستان کی عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 63
پہلے لوگ اس توہین پر احتجاج کے ارادے سے درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہوئے۔ سب لوگ اپنی سیاسی اور قومی وابستگیوں کو چھوڑ کر میدان میں اتر آئے تھے۔ پاوہ کے درویش، لوگوں کے آگے آگے دف بجا رہے تھے اور ترانوں اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے لوگوں کو ایک عجیب جوش دلا رہے تھےپاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 62
کچھ عرصے بعد، انہیں ’’دہقان اور کسان کا اتحاد‘‘ نامی ایک دفتر کے قیام میں امید کی ایک کرن نظر آئی جس میں اکثر افراد، ضلع جوانرود اور روانسر کے جوان تھے اور وہ لوگ ہورامان کے دہقانوں کے نام سے دن رات تشہیر میں مشغول رہتے تھےپاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 61
شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھاپاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 60
ادارۂ ساواک جو گورنر آفس کے برابر میں واقع تھا، انہوں نے اپنا سامان سمیٹ کر جاچکے تھے اور جینڈرمیری نے بیس کے علاوہ اپنے کچھ اہلکاروں کو اس عمارت میں بھی تعینات کردیا تھا۔ شاہ کے ایجنٹوں کی گھبراہٹ ہماری حوصلے بلند کر رہی تھی۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 59
شاہ کے فرار ہونے سے چند دن قبل، حکومت کے کارندوں نے انقلاب کا ساتھ دینے میں عوام کا حوصلہ پست کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کچھ مسلح کاروائیاں بھی کی تھیں۔ جینڈرمیری اور پولیس اہلکار صرف اپنی عمارتوں اور تھانوں کی حفاظت کر رہے تھے اور انہیں شہر کے اندرونی علاقے اور گرد و نواح کی سڑکوں سے کوئی سروکار نہیں تھا۔پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 58
مفتی زادہ صاحب نے ایک خوبصورت اور پرجوش خط میں ان سے یوں خطاب کیا: ’’بھائیو! اس وقت توحید کا نعرہ، طاغوت اور طاغوتیوں کے دل دہلا رہا ہے، آپ لوگوں کو حسینی نسبت اور شہرت کے باعث زیبا ہے کہ یزید اور بت ساز اور تفرقہ ڈالنے والے یزیدیوں پر ٹوٹ پڑیں اور توحید پرستوں کی صف میں جان نثار کریں۔1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
