سپاہ پاسداران کا توپ خانہ

محیا حافظی

ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2026-4-11


کتاب "توپخانہ سپاہ پاسداران"، تاریخ شفاہی کی 29 نشستوں پر مشتمل گفتگو کا ماحصل ہے جو مرکز اسناد و تحقیقات دفاع مقدس نے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔ یہ اثر، سردار یعقوب زہدی کی زندگی اور تجربات کی ایک دستاویزی روایت ہے۔ انہوں نے دفاع مقدس (ایران عراق جنگ) کے دوران، سپاہ پاسداران کے توپخانے کے قیام، توسیع اور کمانڈ میں کلیدی ذمہ داریاں سنبھالیں اور شہداء حسن تہرانی مقدم و حسن شفیع زادہ کے بعد اس خصوصی یونٹ کے تیسرے کمانڈر بنے۔ انہوں نے مئی 1987 سے 1993 تک سپاہ کے توپخانے کی کمانڈ سنبھالی۔

سردار محمود چہار باغی، جو سپاہ کے توپخانہ یونٹ میں کمانڈر اور راوی کے ہمرزم ہیں، نے انٹرویوز کیے ہیں اور امیر محمد حکمتیان نے اسے تدوین کیا ہے۔ یہ کتاب، جنگ کے کمانڈروں کی دستاویز نگاری کے منصوبے کے تحت شائع ہونے والی کتب میں سے ایک ہے جو 2009 سے جنگ کے دستاویزات کو مکمل کرنے اور اولین اور تخصصی روایات، خاص طور پر جنگی خصوصی یونٹس کے شعبے میں، کو ریکارڈ کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا۔

جلد اول، راوی کی زندگی بچپن سے لے کر آبی خاکی آپریشنز میں توپخانے کی کمانڈ کے تجربے تک روایت کرتی ہے اور ۱۴ انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ ابتدائی گفتگو میں، قاری راوی کے تبریز میں بچپن اور تعلیم کے ادوار اور پھر تہران کے ثانوی اسکول مروی سے انکی واقفیت کے بارے میں ہے۔ یہ شہر ان کی مذہبی روحیات کی تشکیل میں معاون تھا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخراجات پورے کرنے کے لیے کام کرنے کی یادیں راوی کی محنت کشی کی تصویر پیش کرتی ہیں۔

دوسری اور تیسری گفتگو، زہدی کے 1974 میں تبریز یونیورسٹی میں طبیعیات کے شعبہ میں داخلہ، سیاسی و انقلابی سرگرمیوں میں ان کی سرگرم شرکت، 1977 میں یونیورسٹی سے اخراج اور پھر فوجی سروس کی مدت کے دوران توپخانے کی برانچ میں شمولیت پر مبنی ہیں۔ ان کا فوجی دستے سے فرار ہو کر "فجر اسلام" گروپ میں شامل ہونا اور بالآخر فروری 1979 میں سپاہ پاسداران میں رکنیت، ان کے فوجی میدان میں قدم رکھنے کا پیش خیمہ ہے۔

چوتھی اور پانچویں گفتگو، انقلاب اسلامی کے بعد ان کی پہلی مہم کی روایت سے شروع ہوتی ہے۔ سیاہکل میں ضدانقلاب کی کارروائیوں میں راوی کی موجودگی، کلیبر کے علاقے میں خان (سرداروں) کے خلاف کارروائی اور پھر محرومیوں کے خاتمے اور عوام کا اعتماد جیتنے کے لیے بنیاد مسکن کے تحت سیستان و بلوچستان بھیجا جانا، ان کی پہلی مہم ہے۔ جنگ کا آغاز انہی مہمات کے دوران ہوا جس نے ان کی راہیں جنوبی محاذ کی طرف موڑ دی۔

چھٹی گفتگو، سپاہ کے توپخانہ یونٹ کی تخلیق سے مخصوص ہے۔ راوی، اہواز کے پادادشہر علاقے میں ایک متروک اسکول میں اپنے داخلے، شہید تہرانی مقدم اور شہید شفیع زادہ سے ملاقات اور توپخانہ قائم کرنے کے لیے رات دن کی محنت شروع کرنے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ وہ اس حصے میں، تہرانی مقدم کو نظریہ سازی کا ماہر اور شفیع زادہ کو میدانی تنظیم میں برتر قرار دیتے ہیں اور ولایت فقیہ بٹالین کے قیام اور بریگیڈز تیپ کے ساتھ تعاون کی یادیں بیان کرتے ہیں۔

ساتویں اور آٹھویں گفتگو میں، آپریشن رمضان (جولائی 1982) اور پھر آپریشن محرم (نومبر 1982) میں  توپخانے کی کارکردگی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ آپریشن محرم میں، توپخانے کی آتش ریزی (فائر پلاننگ) میں سپاہ کا پہلا آزاد تجربہ ہے جسے تکنیکی اور تاکتیکی تفصیلات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ راوی آٹھویں نشست میں فوج کے ساتھ آتش ریزی کی حکمت عملیوں پر ہم آہنگی کے چیلنجز اور مرحلہ وار جنگی تشکیل (سازمان رزم پلکانی) کو تیار کرنے کی ضرورت پر گفتگو کرتے ہیں۔

نویں سے گیارہویں گفتگو، توپخانے کے تجربے کو مشکل آپریشنز والفجر مقدماتی (جہاں ریتیلی زمینوں اور فوج کی آتش ریزی کی عدم موجودگی کا سامنا تھا)۔

بارہویں سے چودہویں گفتگو، آبی خاکی جنگ میں داخل ہونے کے ساتھ، توپخانہ یونٹ کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ آپریشن خیبر (فروری 1984) کو حکمت عملی اور آتش ریزی کی منصوبہ بندی میں سپاہ کے توپخانے کا سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔ جہاں توپخانے نے آزادانہ طور پر آتش ریزی کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری سنبھالی۔ راوی طلائیہ میں مشاہداتی ٹاورز (دکل‌های دیده‌بانی) کی تعمیر اور ہوورکرافٹ اور لینڈنگ کرافٹ کے ذریعے مجنون جزائر تک توپوں کی مشکل منتقلی کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ فصل آپریشن بدر (مارچ 1985) کی تیاری اور پھر راوی کی اصفہان کے غدیر فوجی دستے میں توپخانے کے تخصصی تربیتی مرکز کے قیام کی مہم پر ختم ہوتی ہے۔

جلد اول کے اختتام پر ضمیمے (اسلحہ شناسی اور تصاویر پر مشتمل) اور فہرست ترتیب دی گئی ہے۔

جلد دوم میں پندرہویں سے انتیسویں گفتگو شامل ہیں جو توپخانہ سپاہ کی کمانڈ اور پختگی کے دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ جلد پہلی جلد سے مختلف پیش لفظ اور تعارف کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔

پندرہویں سے اٹھارہویں گفتگو مکمل طور پر آپریشن والفجر ۸ (فروری 1986) سے مخصوص ہیں جسے راوی سپاہ کے توپخانے کی صلاحیت اور کارکردگی کا عروج قرار دیتے ہیں۔ وہ غیر معمولی تیاریوں کی تفصیلات بیان کرتے ہیں، جس میں ۴۵ توپخانہ بٹالینز کو استعمال کرنے کا فیصلہ (جس میں ۱۵ بٹالینز فوج سے منتقل کیے گئے تھے) اور اروند کے کنارے آواکس طیاروں کی نظر میں چھپی ہوئی پوزیشنوں (مواضع) کی تعمیر شامل ہے۔ اس فصل میں، اختراعی حکمت عملی "منطقۂ عملیات توپخانہ" (آرٹلری آپریشن ایریا)، عراقی گارڈ ڈویژن کو تباہ کرنے میں گروپ ۶۳ خاتم الانبیاء کے تعیین کنندہ کردار، اروند کے مغرب میں توپوں کی منتقلی کے لیے خضر اور سطحہ جیسے بحری جہازوں کا استعمال، اور راوی کی تنظیمی ترقی میں "انسان محور نقطہ نظر" پر زور کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

انیسویں سے بائیسویں گفتگو، عراق کی "متحرک دفاع" (دفاع متحرک) حکمت عملی کا مقابلہ کرنے اور آپریشن کربلائے ۱ تا ۵ (جولائی 1986 تا جنوری 1987) پر مبنی ہیں۔ راوی 1986 (سال 1365) کو "توپخانے کے لیے مشکل ترین دور" قرار دیتے ہیں۔ وہ کربلائے ۴ (دسمبر 1986) کی ناکامی کے عوامل (جیسے آپریشن کا افشا ہونا اور حکمت عملی کا تکرار) اور اس کے مقابلے میں، کربلائے ۵ (جنوری 1987) یا "جنگ آتش" (فائر وار) کی کامیابی کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس حصے میں، مچھلیوں کی نہر (کانال ماهی) میں محصور ہونے سے ۴ سے ۵ ہزار جنگجوؤں کو بچانے میں توپخانے کے اہم کردار، سردار صفوی کی جانب سے توپخانے کے کمانڈروں کی حوصلہ افزائی اور اس آپریشن کے بین الاقوامی نتائج (قرارداد ۵۹۸ کی منظوری) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

تیئسویں گفتگو، آپریشن کربلائے ۱۰ (اپریل 1987) اور سردار حسن شفیع زادہ کی شہادت کے المناک واقعے کی روایت ہے۔ زہدی، شفیع زادہ کے اخلاص اور سمجیدگی کی تعریف کرتے ہوئے، جنگ کے مرکز ثقل کو مغرب کی طرف منتقل کرنے کے فیصلے کو "اسٹریٹجک مینجمنٹ کی کمی" کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور ان کی شہادت کے بعد اپنی کمانڈ کے حکم نامے میں چھ ماہ کی تاخیر پر شکایت کرتے ہیں۔

چوبیسویں اور پچیسویں گفتگو، جنگ کی انتہائی تلخ ترین تباہیوں میں سے ایک، یعنی فروری 1988 (25 اسفند 1366) کو آپریشن والفجر ۱۰ کے دوران حلبچہ پر کیمیائی بمباری کی روایت کرتی ہیں۔ راوی افواج کی اس تقسیم کو اسٹریٹجک غلطی قرار دیتے ہیں اور دلخراش مناظر کی توصیف کرتے ہوئے، جنگجوؤں کی جانب سے حلبچہ کے عوام کی بے مثال مدد اور پھر محاذوں پر عمل درآمد (ابتکار عمل) سے محرومی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

چھبیسویں سے اٹھائیسویں گفتگو، 1988 (سال 1367) کے دباؤ والے دنوں کی روایت کرتی ہیں۔ راوی فاو (فروری 1988)، شلمچہ (اپریل 1988) اور مجنون جزائر (جون 1988) کے سقوط کے اسباب کا تجزیہ کرتا ہے اور سردار صفوی کی جانب سے فاو سے توپخانے کو نکالنے کی مخالفت اور تقریباً ۵۰ سے ۶۰ توپوں کے ضائع ہونے کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔ وہ "غلط دفاعی سوچ" اور عراقی فوج کی تبدیلیوں کو نظرانداز کرنے کو شلمچہ میں کمزوری کے عوامل قرار دیتے ہیں۔ اس کے بعد، قرارداد ۵۹۸ کو قبول کرنے کی وجوہات (جس میں محسن رضائی کا سامان کی کمی کے بارے میں خط اور اقتصادی رپورٹس شامل ہیں) اور پھر قرارداد قبول کرنے کے بعد عراقی حملے کے خلاف جنگجوؤں کی "عاشورائی" مزاحمت بیان کرتے ہیں۔ آپریشن مرصاد (جولائی 1988) اور تنگہ چہار زبر میں مجاہدین خلق (منافقین) کے کالم کو تباہ کرنے میں توپخانے (گروپ ہائے ۱۵ خرداد اور ۶۳ خاتم الانبیاء) کے اہم کردار کے ساتھ جنگی روایات کا اختتام ہوتا ہے۔ راوی اس کے بعد رہبر معظم (علی خامنہ ای) کے دورے اور توپخانے کی صلاحیت پر ان کے اعتماد کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

انتیسویں (اختتامیہ) گفتگو، جنگ کی میراث اور اس کے بعد کے دور سے مخصوص ہے۔ راوی "فرماندهی توپخانه" (آرٹلری کمانڈ) کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے بارے میں بتاتے ہیں جس کا اجازت نامہ شہید شفیع زادہ نے علی شمخانی سے حاصل کیا تھا۔ وہ سپاہ کی ساخت میں بعد میں آنے والے چیلنجز کی وضاحت کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ بالآخر 1993 (سال 1372) میں اس کی کمانڈ "مدیریت توپخانه" (آرٹلری مینجمنٹ) میں تبدیل ہو گئی اور توپخانہ 1990 (سال 1369) تک اور قیدیوں کی آزادی تک، سرحدوں پر مکمل تیاری کی حالت میں موجود رہا۔

جلد دوم کتاب تصاویر، دستاویزات اور فہرست کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی ہے۔ متن کے درمیان بھی تصاویر دی گئی ہیں جن کے ساتھ عنوانات (زیرنویس) ہیں۔ دونوں جلدوں کے آخری حصے کی تصاویر زیادہ تر رنگین ہیں۔

جلد اول "توپخانہ سپاہ پاسداران" کا پہلا ایڈیشن 2023 (سال 1402) میں 508 صفحات، 1000 نسخوں کی تعداد، وزیری سائز اور 210,000 تومان (ایرانی کرنسی) کی قیمت کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ جلد دوم بھی 2024 (سال 1403) میں 376 صفحات، 500 نسخوں کی تعداد، وزیری سائز اور 250,000 تومان کی قیمت کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 105


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (8 + 6) :
 

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔