پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 58
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-3-27
ساواک کے تعاقب اور روپوشی میں
اسی رات ساواک کے اہلکار، ملا ناصر سبحانی صاحب اور حقیر کو گرفتار کرنے دوریسان اور نوریاب آئے تھے اور خدا کا کرنا یوں ہوا کہ میں، پاوہ میں اپنے بھانجے محمد رشید ولدبیگی کے گھر تھا۔ جب میں نے اپنے تعاقب کی خبر سنی تو چند دن کے لیے شہر اور اپنے رہائشی گاؤں سے دور رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ معاملہ ٹھنڈا ہوجائے۔ ملا ناصر سبحانی صاحب بھی اس رات دوریسان گاؤں میں موجود نہیں تھے۔
12 دسمبر(21 آذر) کی صبح میں نے بہاء الدین قادری نجاری کی گاڑی کرائے پر لی اور اپنے بھانجے بہرام ولدبیگی کے ساتھ نوریاب اور کُمدرہ گاؤں کے درمیان واقع پہاڑوں میں چلا گیا۔ ہم نے کُمدرہ کے باسی محمد عزیز کریمی صاحب کے فارم ہاؤس پر کسی گرم کرنے والے ساز و سامان کے بغیر مالک مکان کے ساتھ رات کاٹی۔ اس تعاقب اور روپوشی کے دوران کچھ دوست ہمارے لیے کھانا لایا کرتے تھے۔ محمد رحیم امینی اور سہراب ولدبیگی بھی ہم سے ملنے آتے تھے۔ کچھ دن کے بعد ہم رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوریاب گاؤں لوٹ آئے اور ہم اپنے گھر سے باہر ابوبکر امینی[1] کے گھر میں خفیہ طور پر پاوہ کی خبروں پر نظر رکھتے تھے۔ پاوہ کی گرفتاریاں دیر سے دی جانے والی ایک دھمکی تھی۔ ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ حکومت شدید عوامی دباؤ کا شکار ہے اور اب نہ صرف یہ کہ انقلابیوں کی گرفتاریوں کا کوئی فائدہ نہیں رہ گیا، بلکہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے حکومت، سیاسی قیدیوں کو گروہوں کی صورت میں رہا کرے گی۔ کچھ گرفتار شدہ افراد کو رہا کیا گیا۔ ہم بھی اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل آئے اور پاوہ میں جیل سے رہا ہوئے اپنے دوستوں سے ملاقات کی اور اس کے بعد انقلابیوں کو دوبارہ منظم کرنے کے بعد ہم نے اپنی کوششیں مزید تیز کردیں۔
کُرد علاقوں کے عوام کا متحرک ہونا، امام خمینی کے اظہار تشکر کا باعث بنا۔ پیرس سے امام خمینی کا بھیجا ہوا سپاس نامہ، اعلامیے کی صورت میں لوگوں میں گردش کرنے لگا۔ امام خمینی نے اس پیغام میں ملک کے تمام طبقات سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ متحد ہو کر وطن عزیز اور اسلام کا دفاع کریں اور اسے خائنوں اور قاتلوں سے چھٹکارا دلائیں۔[2] اس پیغام کو پہلی بار احمد مفتی زادہ صاحب نے 16 جنوری(26 دی) کو سنندج ٹیچر ٹریننگ اکیڈمی میں ہونے والے کُردستان کے یونیورسٹی طلباء کے اجتماع میں پڑھ کر سنایا تھا۔
خبریں بہت آسانی سے تمام شہروں اور دیہاتوں سے دور دراز علاقوں تک پہنچ جاتی تھیں اور بڑے بڑے اور با اثر افراد، عنقریب فتح کی امید پر عوام کو جہاد جاری رکھنے پر ابھار رہے تھے۔ پاوہ، اورامانات اور جوانرود کے شہروں کے عوام، گروہوں، قبائل اور سادات کو بھیجے ہوئے آیت اللہ صدوقی، آیت اللہ جلیلی اور احمد مفتی زادہ صاحب کے متعدد مراسلات اور اعلامیے، مجاہدین کو جوش دلانے میں بہت مؤثر ثابت ہوئے۔[3]
ان واقعات کے بعد، عوام پر حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ اب حکومت میں عوامی تحریک پر قابو پانے کی سکت باقی نہیں تھی؛ اس حد تک کہ دو مشہور شہر بدر یعنی عندلیب زادہ اور یحییٰ قزوینی بغیر کسی مشکل کے اپنے شہروں کو واپس لوٹ گئے۔ پاوہ کے اداروں کے تمام ملازمین نے ضلعی سطح پر بڑی ہمت کے ساتھ ہڑتال کردی اور یہ اقدام جو پورے میں ایک ملازم تحریک بن کر پھیل گیا تھا، اس نے انقلاب کی کامیابی کی رفتار کو تیز کردیا۔
امام خمینی، نوفل لوشاتو میں تھے اور ان کے اعلامیے اساتذہ اور یونیورسٹی طلباء کے ذریعے تہران اور کرمانشاہ سے لوگوں تک پہنچ جاتے تھے اور پاوہ میں تقسیم ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ میں خود بھی اعلامیوں، سیاسی معلومات اور ریڈیو مونٹ کارلو کے عربی اور بی بی سی کے فارسی سیگمنٹس کے ذریعے، ملکی خبروں پر نظر رکھ رہا تھا۔ اکثر، جوانوں کا ایک گروہ باقاعدگی سے کرمانشاہ جاتا تھا اور وہ لوگ، کرمانشاہ میں مظاہروں کے سب سے بڑے رہنما آیت اللہ جلیلی سے رابطے میں تھے۔ آیت اللہ جلیلی، آیت اللہ حاجی آخوند کرمانشاہی اور ماموستا ربیعی صاحب، انقلاب اسلامی کی تحریک میں عوام اور مسلمان جوانوں کو ترغیب دلانے والے تھے۔
[1] ابو بکر امینی، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سپاہ میں بھرتی ہوگئے تھے اور پاوہ کے 17 اگست 1979(26 مرداد 1357) کے واقعے میں شہید ہوگئے۔
[2] بسم اللہ الرحمن الرحیم
خطباء اور علمائے کرام اور کردستان کے قابل احترام عوام کی خدمت میں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے۔
بعد از سلام، اس موقع پر کہ جب ہمارا ملک اپنی تاریخ کے نازک ترین مراحل سے گزر رہا ہے اور ایران کی مسلمان قوم، وحشی ترین جلادوں کا سامنا کر رہی ہے، ملک کے تمام محترم طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اتحاد کے ساتھ وطن عزیز اور اسلام کا دفاع کریں اور اسے خائنوں و قاتلوں سے چھٹکارا دلائیں، کیونکہ اس ذمہ داری سے غفلت، اسلامی تحریک کے کمزور پڑنے اور خدا نخواستہ اس کی ناکامی کا باعث بنے گی۔
میں اس علاقے کے قابل احترام باسیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو بہترین طریقے سے نبھایا ہے اور اس عظیم تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں خیر عنایت فرمائے۔ میری طرف سے قابل احترام دہقانوں اور کسانوں کو یاد دہانی کرائیں کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈے کے جھانسے میں نہ آئیں۔ اسلام اور اسلامی حکومت آپ کا بہت احترام کرتی ہے اور آپ کے ساتھ بہترین سلوک کرے گی، اور یقین رکھیں کہ اسلامی حکومت میں تمام طبقات کی حالت طاغوتی حکومت جیسی نہیں ہوگی جس نے سب کو تباہ و برباد کردیا۔
میں اللہ تعالیٰ سے مسلمانوں اور مظلوم قوم کی فتح کے لیے دعاگو ہوں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
روح اللہ الموسوی الخمینی / ۱۵ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ / بمطابق 12 جنوری 1979( ۲۲ دی ۱۳۵۷)
[3] مفتی زادہ صاحب نے ایک خوبصورت اور پرجوش خط میں ان سے یوں خطاب کیا: ’’بھائیو! اس وقت توحید کا نعرہ، طاغوت اور طاغوتیوں کے دل دہلا رہا ہے، آپ لوگوں کو حسینی نسبت اور شہرت کے باعث زیبا ہے کہ یزید اور بت ساز اور تفرقہ ڈالنے والے یزیدیوں پر ٹوٹ پڑیں اور توحید پرستوں کی صف میں جان نثار کریں۔۔۔‘‘
صارفین کی تعداد: 18
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
