جنوبی محاذ کی خواتین (زنان جبهہ جنوبی)
محیا حافظی
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ
2026-8-9
کتاب "زنانِ جبهہ جنوبی" (جنوبی محاذ کی خواتین) اہواز کی ان خواتین کی روداد ہے جنہوں نے جنگ کے دوران اپنی بھرپور پشتیبانی اور خدمات پیش کیں۔ یہ کتاب "دفترِ مطالعاتِ جبهہ فرهنگی انقلابِ اسلامی" (انتشاراتِ راہ یار) کے شعبہ تاریخِ شفاہی سے شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کی تحقیق مریم مرادی کوہ باد نے کی ہے اور نرگس اسکندری نے اس کی تدوین کی ہے۔ تاہم، کتاب کے اندرونی صفحات پر دو دیگر محققین، زہرا قراچہ اور زینب بابائی کے نام بھی درج ہیں۔ یہ کتاب ۲۰۲۳ میں شائع ہوئی، جس کی تعداد ۱۰۰۰ نسخے، صفحات ۲۱۶ اور قیمت ۷۰ ہزار تومان ہے۔
کتاب کے سرورق کا ڈیزائن انتہائی معنی خیز ہے؛ یہ مجاہدین کی خاکی رنگ کی قمیض کی ایک جیب کی مانند ہے، جس پر بٹن، دھاگے کے رول اور سرخ رنگ کی سلائی سے دل کی دھڑکنوں کی لکیریں بنی ہوئی ہیں۔ اگر کتاب ہاتھ میں نہ ہو تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی کپڑے کا ٹکڑا ہے۔ کتاب کا نام ایک ایسے چھوٹے سے چسپاں لیبل پر لکھا گیا ہے جیسا کہ درزی عموماً کپڑوں پر نشان لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ کتاب محاذ کے پسِ پردہ مجاہد خواتین کی جدوجہد اور ان کی بے لوث خدمات کی ایک جھلک پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ تمام بیانات اہواز کی خواتین کے ساتھ کیے گئے ۱۵۰ گھنٹے کے انٹرویوز کا نچوڑ ہیں۔ اس مجموعے کی تحقیق ۲۰۱۷ میں شروع ہوئی اور ستمبر ۲۰۲۰ میں مکمل ہوئی، جس کے بعد چھ ماہ کی محنت سے اس کی تحریر مکمل کی گئی۔
شاید ان خواتین میں سے ہر ایک کی یادیں اتنی طویل نہ ہوں کہ ان پر علیحدہ کتاب لکھی جائے، لیکن ان مختصر یادوں کا مجموعہ قارئین کو جنگ میں خواتین کے کلیدی کردار کو سمجھنے میں بہت مدد دیتا ہے۔
یہ مجموعہ ۹ ابواب پر مشتمل ہے جس میں کل ۲۶ یادیں، رنگین تصاویر اور دستاویزات شامل ہیں۔ ابواب کے عنوانات کچھ یوں ہیں: "دفاع کی قمیض سے گرد اور خون کا خاتمہ"، "پیوند اور مرمت"، "تحائف کے پیکٹ"، "جنگ کے زخموں پر مرہم"، "زندگی کا شہر اہواز"، "بینچوں سے پشتیبانی"، "مادری ہاتھ کا ذائقہ"، "اس دن کے لیے جب مرد نہ ہوں" اور "کاروانِ حضرت زینب (س)"۔
تمام یادوں کو موضوع کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے اور ہر یاد کے آخر میں بیان کرنے والے کا نام درج ہے۔ تقریباً ۲۵ خواتین نے اپنی یادیں بیان کی ہیں اور بعض نے ایک سے زیادہ واقعات ذکر کیے ہیں۔
پہلی یاد میں زہرا شمس بتاتی ہیں کہ: "مجاہدین کے لباس دھونے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں تھی، ہر طرف خون کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ دریا کے کنارے پانی میں گرنے کا خطرہ تھا۔ بی بی علم الہدیٰ اور جناب عادلیان نے ایک چائے خانے (قہوہ خانہ) کو اس کام کے لیے وقف کیا اور صفائی کا سامان لائے۔ جنگ شروع ہوتے ہی وہ قدیم گھر، جو کبھی روضہ اور قرآن کی محفلوں کے لیے استعمال ہوتے تھے، محاذ جنگ کی پشتیبانی کے مراکز میں تبدیل ہو گئے۔ ہر وہ شخص جس نے اس چائے خانے کے بارے میں سنا، مدد کے لیے وہاں پہنچ گیا۔"
سیدہ نرگس آل عمران، جو اس وقت محض ۱۳ سال کی تھیں، اسی چائے خانے میں کپڑے اور چادریں دھونا سیکھ گئیں اور بعد میں اپنی سہیلیوں کو بھی مدد کے لیے ساتھ لے گئیں۔ شروع میں ہر کوئی اپنی مرضی سے آتا جاتا تھا، یہاں تک کہ تہران سے خاتون موحد تشریف لائیں، جنہوں نے محلے وار تقسیم کی اور ہر دن کے لیے ایک مخصوص محلہ مقرر کیا تاکہ کام منظم ہو سکے۔ چونکہ بہت سے لوگ اہواز چھوڑ کر جا چکے تھے اور شہر خالی ہو گیا تھا، اس لیے ہر رات نمازِ مغرب کے بعد مسجدوں میں کارکنوں کی بھرتی کی گئی۔ تقریباً سو خواتین اس کام میں مصروف ہو گئیں، یہاں تک کہ ان کے لیے حاضری رجسٹر اور کارڈز بھی بنائے گئے۔ کچھ کپڑوں کی مرمت کی ضرورت تھی، جس کے لیے لوگوں نے سلائی مشینیں بھی فراہم کیں۔ سیدہ نرگس آل عمران بیان کرتی ہیں: "...میں کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں نے کپڑے دھونا شروع کیے... ہم سرف سے کپڑے دھوتے تھے اور اگر داغ نہ جاتا تو صابن لگاتے تھے۔ ایک بار ایک چادر دھوتے ہوئے میرے ہاتھ میں ایک انگلی آئی، میں چیخ مار کر پیچھے ہٹی۔ میرے پاس کھڑی ایک خاتون نے کہا: 'کوئی بات نہیں، یہ عام سی بات ہے، تم عادی ہو جاؤ گی۔' بعد میں میں نے خود کو سنبھال لیا۔ پھر ایسا ہی ہوا؛ کبھی کھال، کبھی بال، کبھی ہڈیاں... لیکن اب خوف کی جگہ آنسوؤں نے لے لی تھی۔"
کتاب کی یادیں ہسپتالوں میں رضاکارانہ خدمات اور معذور افراد کی دیکھ بھال کے ذکر سے آگے بڑھتی ہوئی اسکولوں اور ہسپتالوں تک پھیلتی ہیں۔ ان مختصر یادوں سے جنگ کے دوران خواتین کی پشتیبانی کی سخت ترین صعوبتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب یہ خواتین مجاہدین کے لیے خشک میوہ جات اور دیگر ضروری اشیاء بھیجتی تھیں، تو ان پر "اے مجاہد! آپ کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی" یا اس جیسے دل پر اثر انداز ہونے والے جملے لکھتی تھیں۔ ان خواتین کی مادری اور بہنوں جیسی شفقت نے مجاہدین کے حوصلوں کو بلند کیا، جس کا احساس ان یادوں کے ہر ورق سے ہوتا ہے۔
کتاب کے آخر میں رنگین تصاویر اور ان کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ، بیان کرنے والی خواتین کی موجودہ دور کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اگر ہم انٹرنیٹ پر محاذ کے پس پردہ خواتین کی خدمات کے بارے میں تلاش کریں تو ہمیں بہت محدود تصاویر ملتی ہیں، لیکن اس کتاب میں موجود تصاویر انتہائی متنوع اور منفرد ہیں۔
صارفین کی تعداد: 25
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
