تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"ریفرنڈم کے ایام، بارود کی بدبو سے بھری ہوئی بہاریں
چھاؤنی میں موجود تمام فوجیوں نے "اسلامی جمہوریہ، ہاں" والا پرچہ ڈبے میں ڈالا۔ یہ بات میں نے چھاؤنی کے کھانے کے ہال میں دوسرے ساتھیوں سے سنی۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ووٹنگ ختم ہوئی اور ہیلی کاپٹر اُڑ گیا۔جنگ رمضان
جیسے ہی میں چوک میں موجود ہجوم کو دیکھ رہی تھی، میرے ذہن سے گزرا کہ یہ جنگ، میزائل اور بم کی جنگ نہیں ہے، یہ عزم و ارادوں کی جنگ ہے۔ اور ہم برتر ہیں۔ایک متفاوت نوروز کا دسترخوان
سال تحویل سے ایک رات پہلے گھر پہنچی۔ جمعہ کی رات آٹھ بتیس منٹ اور اکتیس سیکنڈ پر سال تحویل ہونا تھا۔ طے ہوا تھا کہ تحویل سال کے وقت سب بڑے بھائی کے کمرے میں جمع ہوں گے۔ ہفت سین کی سفیدری جو بچھائی گئی تھی، بہت سادہ تھی اور اس میں صرف سیب اور سنجد تھا اور شیشے کے برتن میں سرخ مچھلی کا کوئی نشان نہ تھاصدیقه سمیعی کی یادداشتیں
فتح المبین کی کارروائی دزفول میں ہوئی تھی۔ اس وقت میں چھٹیوں پر تہران آئی ہوئی تھی اور عید کی تعطیلات تھیں۔ اسی جاننے والے نے فون کیا اور کہا کہ عنقریب حملہ ہونے والا ہے، لہٰذا جلدی سے اپنے آپ کو پہنچاؤ۔تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ داری
ایسی سنگین اور خوف سے بھری فضا میں، روزہ ایک روحانی ہتھیار تھا جس نے نہ صرف جسم بلکہ روح کو بھی استقامت کے لیے زیادہ مزاحمت بخشی۔ تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز نہیں تھا؛ یہ اس ایمان کے وجود کا اعلان تھا جو سخت ترین قیود میں بھی، آزاد اور ناقابل شکست زیست کرتا ہے۔میکائیل احمد زادہ کی یادداشت کا ایک ٹکڑا
عراقی سپاہی چیخنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے بہادر کمانڈو نے چاقو پر اور زور دےکر اسے سمجھا دیا کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا اور اسے خاموش رہنا چاہیے۔ وہ درخت کے پتے کی طرح کانپ رہا تھا اور اس کی زبان گنگ ہو گئی تھیمحمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں کا ایک ٹکڑا
جب یہ ریلی خیابان ویلا میں موجود اسرائیلی ائیر لائن العال کے دفتر پر پہنچی تو لوگوں نے اس پر پتھراؤ کردیا اور کوکٹل موٹولف پھینک کر آگ لگا دی۔ یہاں پر اچانک ساواک اور پولیس نے مظاہرین پر حملہ کرکے کئی ایک کو گرفتار کرلیا لیکن اکثر افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت
جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔محرم آپریشن کا پہلا مرحلہ
ہمارے محاذ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر دشمن ایک گولی بھی ہمارے رزمندگان پر نہیں چلا سکا۔ ہمارے دستے فرنٹ لائن میں عراقیوں پر بجلی کی طرح ٹوٹ پڑے اور "یا حسینؑ" اور "یا زینبؑ" کے نعروں کے ساتھ انہیں تباہ کرتے ہوئے آگے بڑھے1
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز
یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
