سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

جیل میں کتاب، شہید سید اسد اللہ لاجوردی کی زبانی
کچھ ایسی کتابیں جو درمیانی درجہ کی تھیں، جیسے انجینئر بازرگان کی کتب، ان کے مطالعے کا طریقہ کار یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی ایسی کتاب پڑھنی ہوتی تو وہ پہلے سے طے کر دیتے کہ فلاں صفحے سے فلاں صفحے تک پڑھنا ہے۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔

