سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

سید ناصر حسینی کی قید کے دوران کی یادداشت
جب میں نے واپس حراستی مرکز جانا چاہا، تو ہاتھوں کے شدید درد کی وجہ سے مشکل سے عصا کے سہارے وہاں پہنچا۔ جب بجلی کے کیبل سے ہاتھوں پر ضرب لگتی، چھالے پڑ جاتے اور پھر کئی دنوں تک میں اپنے ہاتھ استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ بغیر عصا کے ایک پاؤں پر کودتا اور خود کو حرکت دیتا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔

