کتاب ’’بہ وسعت واژہائی بی مرز‘‘[1] پر ایک طائرانہ نظر

پہلی لڑائی خلق مسلمان تحریک سے ہوتی ہے۔ سپاہ میں قدم رکھے ابھی بیس دن ہی ہوئے ہوتے ہیں کہ ارومیہ اور تبریز میں خلق مسلمان کا واقعہ پیش آجاتا ہے۔تبریز میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے مگر ارومیہ میں بھی ان کے کارندے موجود ہوتے ہیں جن کو گرفتار کر کے ان سے اسلحہ لے لیا جاتا ہے۔

کتاب  ’’حاج حمزہ‘‘ پر ایک نظر

حاج حمزہ قربانی کے واقعات

پہلی چیز جو قاری کو اس کتاب کی جانب متوجہ کرتی ہے وہ اس کی خوبصورت جلد اور بہترین صفحہ بندی اور لکھائی کی خوبصورتی ہے۔ مثال کے طور پر اس کتاب کا انتسابی صفحہ چفیہ (بسیجی رومال) کی تصویر سے مزین ہے اور فصول کے عناوینی صفحات کو فوجیوں کے نام کی تختیوں اور زنجیر وغیرہ سے سجایا گیا ہے

شہید کلانتری اندیمشک کے  رضا کار صغریٰ بستاک کی زندگی کی کہانی

کتاب  ’’نعمت جان‘‘ کا اجمالی تعارف

جنگی حالات حساس موڑ پر تھے۔ تمام دوسرے لوگوں کی طرح صغریٰ کا من بھی یہی تھا کہ جہاں تک ممکن ہو جانباز سپاہیوں کے لئے کچھ نہ کچھ کیاجائے۔ جب اس کو خبر ملتی ہے کہ  فوج کے مرکز امداد کو مدد کی ضرورت ہے تو بلا تاخیر اپنی ایک دوست کے ساتھ  وہاں امداد کے لئے چلی جاتی ہے

اسماعیل سپہ وند کی حکایت

کتاب بلدچی کا تعارف

آٹھ سالہ دفاع مقدس میں لرستان کے جنگجوؤں کے واقعات

اذان فجر کے وقت میرے والد میرے  سرہانے آئے اور کہا: ’اٹھو اور نماز پڑھو۔‘ میں نے خود سے کہا: ’یہ ابھی نماز پڑھ کر دوبارہ آئیں گے مجھے اٹھانے۔‘ دس منٹ گذر گئے مگر والد نہ آئےوالدہ محترمہ بیدار ہوچکی تھیں اور وضو کر رہی تھیں کہ عجیب انداز سے انہوں نے مجھ سے کہا: ’اسماعیل دیکھو تمہارے والد جاء نماز پر  ہی ڈھیر ہوگئے ہیں

 1979 کے ایرانی انقلاب کا پس منظر اور اسباب

کتاب کے مصنف حسین غیوری کا خیال ہے کہ نیشنل فرنٹ ، فریڈم موومنٹ، رائٹرز ایسوسی ایشن ، مارکسی دھارے وغیرہ جیسے گروہوں میں سے ہر ایک کا انقلاب کے بارے میں دعویٰ ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے پہلوی حکومت کے خلاف کارروائیاں کیں ، لیکن ان میں سے کسی تحریک نے بھی عوام کو متحرک نہیں کیا

 ایک سیاستدان کی سماجی سیاسی زندگی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم

 سید مصطفی ہاشمی طبا کی یادوں کا تعارف

کتاب کے پہلے چند صفحات میں مصنف نے راوی کی زندگی کے سالوں کی تعداد بتائی ہے اور انہیں چار ابواب میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی ایک کشش لوگوں اور موضوعات کا بیان ہے جو صرف معلومات کے پہلو پر غور کرتے ہیں اور لوگوں اور حالات کے تجزیے کو ہر ممکن حد تک گریز کیا گیا ہے

1979 کے ایرانی انقلاب کا پس منظر اور اسباب

کتاب "1979 ایرانی انقلاب کے پس منظر اور اسباب" 2009ع میں 216 صفحات میں تیار اور ترتیب دی گئی تھی اور اسے "انارام" پبلشنگ آرگنائزیشن نے شائع کیا اور 35000 تومان کی قیمت پر پبلشنگ مارکیٹ میں داخل ہوٸی

میں اپنے اسماعیل کو تیرے حوالے کرتی ہوں!

"ایک سوم سیب" یعنی ایک تہائی سیب نامی کتاب دفاع مقدس کے دو شہید مصطفی اور مجتبی بختی کی والدہ "خدیجہ شاد" کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے جس کو محمد محمودی نے تحریر کیا ہے۔ ۲۹۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب "خط مقدم" پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

سید یحیی صفوی کی داستان

سنندج سے خرم شہر تک

دفاع مقدس کی زبانی تاریخ

یہ کتاب دفاع مقدس کے دوران سید یحیی(رحیم) صفوی کے واقعات کی بیان گر ہے۔ یہ کتاب ۲۸نشستوں میں سردار یحیی صفوی کے ساتھ ہونی والی گفتگو کا حاصل ہے جس میں ان کی ابتدائی زندگی سے لے کر بیت المقدس آپریشن اور خرم شہر کی آزادی تک کے حالات کو قلم بند کیا گیا ہے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ستائیسویں قسط

جب ایرانی فورسز نے مٹی کے بندوں پر قبضہ کیا تو ٹینک، آر پی جی کے گولوں کا ٹارگٹ بننے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایرانی چاہتے تھے کے ٹی این ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کے بند کو مختلف جگہوں سے اڑا دیں، لیکن ٹینکوں کی فائرنگ کے ساتھ ہماری فورسز کے حملے نے پریشانی میں مبتلا ایرانی فورسز کو مہلت نہ دی
1
...
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

جناب عبداللہ صالحی صاحب کی ڈائری سے انتخاب شدہ

یہ ایک معمولی سپاہی تھا جسے ٹیلی فون کی تار سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اس بے چارے سے کیا معلومات ملنی تھیں انکو۔ خیر، ہم نے جب حملہ کیا تو وہ تو بھاگ گیے لیکن یہ سپاہی بیچارا لٹکا رہ گیا۔ ابھی زندہ تھا۔ جیسے تیسے اسے نیچے اتارا۔ ٹیلی فون کی تار گوشت کو کاٹ کر اس کے پاؤں کی ہڈیوں تک پہونچا چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔