سب سے زیادہ دیکھے جانے والے

جنگ کے سائے میں بہار
ان دنوں کی تلخ خبروں کے درمیان کچھ واقعات اتنے سنگین ہیں کہ وہ برسوں تک عوام کے شعور اور حافظے میں نقش رہیں گے۔ رہبرِ انقلاب کی شہادت، میناب میں بچیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ، بے گناہ انسانوں کا قتل اور ہسپتالوں و شہری آبادیوں کو پہنچنے والا نقصان؛ یہ وہ واقعات ہیں جو محض میڈیا کی سرسری خبریں نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر واقعہ ایک معاشرے کے جیتے جاگتے تجربات کا حصہ ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جاتے ہیں اور بعد میں روایتوں اور یادوں کی صورت میں بیان کیے جائیں گے

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔

