زبانی تاریخ میں سچ اور جھوٹ

دکتر علی‌اصغر سعیدی

ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2026-5-5


ہمارے ملک میں مختلف اسباب، جن میں انقلاب اور جنگ (ایران-عراق) شامل ہیں، کی وجہ سے پچھلے کچھ سالوں میں مختلف بیانیوں (روایتوں) کی تخلیق میں اضافہ ہوا ہے۔ اس امر نے زبانی تاریخ کی اہمیت کو ہمارے معاشرے میں دو چنداں کردیا ہے۔ اگرچہ ان بیانیوں کو جمع کرنے کی حد تک بہت سی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن زبانی تاریخ کے سب سے اہم مباحث میں سے ایک ان روایتوں کی اعتبار کا مسئلہ ہے جو زبانی تاریخ تخلیق کرتی ہے۔ یہ سوال کہ بنیادی بیانیے جو مسلسل زبانی تاریخ کے طریقوں سے تخلیق ہوتے رہتے ہیں اور بطور سمعی، بیانیاتی اور زبانی متون، ایک ناقابلِ انکار حقیقت کی خبر دیتے ہیں، کیسے زیرِ بحث آتے ہیں، قبول یا رد اور باطل کیے جاتے ہیں؟ دنیا بھر میں زبانی تاریخ کے محققین طویل عرصے سے بنیادی بیانیوں کی تخلیق کر رہے ہیں جو کہ یہی روایتیں ہیں۔ اسی وجہ سے، یہ سوال علمِ معرفت (Epistemology) کی رو سے زیرِ کاوش ہے کہ آخر کیا ضمانت ہے کہ یہ بنیادی بیانیے قبول کیے جائیں؟ کوئی کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ جس طرح کچھ روایات کو آج کی زبانی تاریخ کے لیے ناقابلِ تغیر، ثابت شدہ، بنیادی اور بدیہی حقائق تصور کیا جاتا ہے جو باہر کی دنیا میں پیش آنے والے حقیقی واقعات کی خبر دیتے ہیں، اسی طرح دوسرے بھی ان کے یقینی ہونے کی تصدیق کریں؟

اس سوال کا معرفتی جواب ابتدائی طور پر یہ ہے کہ چاہے جمع آوری کے مرحلے میں کوئی غلطی نہ ہوئی ہو اور پہلے مرحلے میں، یعنی روایات کو جمع کرنے اور متون کو تبدیل کرنے کا کام مکمل درستی کے ساتھ کیا گیا ہو، تب بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ دوسرے محققین اور ماہرین بھی انہیں ابدی حقائق تصور کریں۔ اس مسئلے کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ زبانی تاریخ میں یہ بنیادی بیانیے، جو افراد کے اپنے واقعات اور تجربات کے بارے میں بیانیے ہیں، نہ صرف یہ کہ نظریہ سازی پر ختم ہو جائیں بلکہ نظریات کی تردید (ابطال) اور تصدیق میں بھی مدد کریں۔ لہٰذا، زبانی تاریخ میں بنیادی بیانیوں کی پائیداری ایک اہم معرفتی مسئلہ ہے۔ لیکن روایات کی صدق و کذب (Truth and Falsehood) کے بارے میں فیصلے کے معرفتی بحث میں ابھی بہت کام کیا جانا باقی ہے۔ جمع کی گئی روایات کے بارے میں فیصلے کے مقام پر معرفتی سوال مختلف طریقوں سے قابلِ بحث ہے۔ کچھ زبانی تاریخ کے محققین، زبانی تاریخ کے اعداد و شمار کو جمع کرنے یا بنیادی بیانیے تخلیق کرنے کے مقام کو فیصلے کے مقام سے ایک سمجھ لیتے ہیں اور زبانی تاریخ کی روایات کو ایسے بیانیے تصور کرتے ہیں جو چونکہ باہر کی دنیا اور حقیقت کی خبر دیتے ہیں، اس لیے وہ سچے بیانیے ہیں۔ جبکہ کچھ دوسرے انہیں صرف بنیادی بیانیے مانتے ہیں جو راوی کی رائے کے مطابق باہر کی دنیا کے حقیقی واقعات کی خبر دیتے ہیں، لیکن فیصلے کا مقام اور صدق و کذب کا معیار تلاش کرنا ایک الگ مقام ہے۔

اس نقطہ نظر کے مطابق، زبانی تاریخ میں بنیادی بیانیوں کی پائیداری ایک اہم معرفتی مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر توجہ دینے کی اہمیت یہ ہے کہ ہم نے حالیہ برسوں میں روایات کو جمع کرنے کے مرحلے میں تیز رفتاری اختیار کر لی ہے جبکہ روایات کی حقانیت کے بارے میں معرفتی مبادیات پر کم بحث ہوئی ہے۔ اس بارے میں بحث روایات کو جمع کرنے کے طریقہ کار (Methodology) کو مضبوط کرنے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔ بنیادی بیانیے بیرونی حقیقت کے بیانات ہوتے ہیں۔ زبانی تاریخ میں اگرچہ یہ بیانیے راوی کی طرف سے بیان کیے گئے ہوتے ہیں اور انہیں حقیقت کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی خبر دیتے ہیں، لیکن علم میں بنیادی بیانیوں کو قبول کرنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ حقیقت میں جڑے ہوئے ہیں، اور نہ ہی ہم انہیں ان کی سو فیصد حقیقت نمائی کی وجہ سے اہمیت دیتے ہیں، کیونکہ اگر ایسا یقین ہوتا تو پھر کوئی بحث نہ رہتی۔ بلکہ یہ بنیادی بیانیے انفرادی تجربہ یا انفرادی فکر ہوتے ہیں جنہیں "بین الاذہانی" (Intersubjective) بنانے کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، لہٰذا انفرادی ذہنی تجربہ بین الاذہانی نہیں ہوتا، یعنی ابھی وہ اجتماعی نہیں ہوا۔ علم میں سب کو بنیادی یا علمی بیانیوں کی آزمائش اور انجام دہی میں حصہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ پس فرق ہے ذہنی تجربے سے حاصل ہونے والے بنیادی بیانیے (ایک ذہنی یا بین الذہنی) اور بین الاذہانی بنیادی بیانیوں کے درمیان۔ البتہ کچھ بنیادی بیانیے ایسے ہوتے ہیں جو ہمیشہ بنیادی ہی رہتے ہیں اور کوئی ان کی صحت و غلطی میں شرکت بھی نہیں کرتا۔ تاریخ میں ایسے بیانیوں کی بہتات ہے۔

مصنف کے نزدیک جنگ اور انقلاب کی روایتیں بھی انہی میں شامل ہو سکتی ہیں۔ مثلاً، ایک جنگجو جنگی کارروائیوں کے بارے میں اپنی روایتیں بیان کرتا ہے، یا ایک مزدور کسی ورکشاپ میں کام کرنے کے طریقے کے بارے میں۔ لیکن ایسی رپورٹیں قطعی نہیں سمجھی جاتیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ بیانیے تبدیل ہونے کے قابل ہوتے ہیں اور مستقبل میں کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔ جرمن ماہرِ عمرانیات یورگن ہیبرماس (Jürgen Habermas) کی انسانی دلچسپیوں (Human Interests) کی تشریح کے مطابق، زبانی تاریخ میں بنیادی بیانیے ابدی بیانیے نہیں سمجھے جاتے، اور یہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ جو کچھ بھی کوئی بیان کرے وہ ناقابلِ تغیر حقیقت تک پہنچ گیا ہے، خواہ خود بیان کرنے والا فرد کسی ایسی حقیقت کی خبر دے جس کی صحت کی وہ خود پوری تصدیق کرتا ہو۔

ان روایات کی اصلاح پذیری (Revisability) یہ سوال پیدا کرتی ہے کہ ہمیں کس چیز کو بنیاد بنانا چاہیے؟ ایک طرف ہمیں بیانیوں کی ضرورت ہے۔ یہ بیانیے نظریات کو تشکیل دیتے ہیں اور اسی طرح کسی نظریے کی تصدیق یا تردید کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ہم روایات کو جمع کرنے کے مقام پر بھی اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کے مقام پر بھی اپنی اقدار کو دخل دینے سے بچ نہیں سکتے۔ یہ معاشرتی علوم کے فلسفے میں ایک تسلیم شدہ مسئلہ ہے، خواہ ہم تمام ضروری عمل اور سفارشات کو اپنی ذات کو اقدار اور ذاتی فیصلوں سے پاک کرنے کے لیے انجام دیں۔ لہٰذا، قدرتی علوم کے برعکس جہاں معروضیت (Objectivity) کو علم کی ذات میں سمجھا جاتا ہے اور محقق اور موضوع تحقیق کا سامنا ذہن اور چیز (Subject-Object) کا سامنا ہوتا ہے، انسانی اور معاشرتی علوم کے بیشتر موجودہ نقطہ ہائے نظر میں محقق اور موضوع تحقیق کا سامنا ذہن-ذہن (Subject-Subject) ہوتا ہے۔

لیکن جب کوئی انفرادی بنیادی بیانیہ بین الاذہانی بن جاتا ہے اور دوسروں کی اس میں شرکت ہو جاتی ہے تو اس کی صحت و غلطی کیسے متعین ہوتی ہے؟ ہیبرماس (1971) کی کتاب "علم معرفت اور انسانی دلچسپیاں" (Knowledge and Human Interests) کے مطابق، انسان کی دلچسپیوں میں سے ایک دلچسپی "فہم" (Understanding) سے تعلق رکھتی ہے جو تفسیری-تاریخی علوم کو تخلیق کر سکتی ہے۔ یہاں ہم صرف سمعی متن (Listenable Text) کو سمجھنے کے خواہاں ہیں۔ لہٰذا ہمارا طریقہ کار تفسیری (Hermeneutic/Interpretive) ہے۔ سمعی متن سے سامنا کرنے کا طریقہ بھی، جو خود بھی صاحبِ شعور تصور کیا جاتا ہے، اور محقق بطور ایک صاحبِ شعور، دوسرے صاحبِ شعور (جو کہ سمعی متن ہے) سے سامنا کرتا ہے۔ یعنی محقق اور سمعی متن ہم جنس ہیں، دونوں شعور رکھتے ہیں۔ اگر ہم یہاں سمعی متن کا استحصال کرنے یا اسے تبدیل کرنے کے درپے ہوں تو ہم متن کے مقصدِ فہم میں ناکام رہیں گے۔ پس ہم وہ دلچسپی (Interest) جو تجربی علوم میں "کنٹرول" (Control) کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہاں استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی متن سے سواری حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم صرف بیرونی چیز (Object) سے سواری حاصل کر سکتے ہیں، سمعی متن سے نہیں۔ ورنہ ہم اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔ لیکن یہاں سمعی متن کی صدق و کذب کا کیا ہوگا؟ اگر محقق بنیادی بیانیوں کی صدق و کذب میں نہ پڑے تو کیسے معلوم ہوگا کہ اس نے متون کو صحیح سمجھا ہے؟

ہیبرماس یہ بحث اٹھاتے ہیں کہ سمعی متون کو صحیح طور پر سمجھنے کا معیار "ماہرین کا اجماع" (Consensus of Scholars) ہے۔ تاہم، یہ اجماع ممکن ہے کہ اس مقصد اور نیت سے متصادم ہو جو راوی نے ابتدائی بیانیہ تخلیق کرتے وقت رکھی ہو۔ اس صورت میں معیار راوی کی نیت اور مقصد نہیں بلکہ پھر بھی ماہرین کا اجماع ہی ہے۔ اسی سبب بنیادی بیانیوں کی قدر و قیمت اور ان کی صدق و کذب کا تعین ماہرین کے اجماع پر منحصر ہے۔ ہیبرماس (1978) کی کتاب "علم معرفت اور انسانی دلچسپیاں" کے مطابق، جب "عملی علمی دلچسپی" (Practical Cognitive Interest) ظاہر ہوگی تو زبانی تاریخ کی علمیت کی توقع کی جا سکتی ہے، جس کا مقصد سمعی متون کے معنی کو واضح کرنا ہے (سیدمن، 1392، ص 167؛ Habermas, 1978)۔ تاریخ میں یہ دلچسپی "فہم" کی طرف معطوف ہے اور اس کی تمیز تجزیاتی اور تجربی علوم سے یہ ہے کہ محقق کی اپنے مطالعے کے موضوع کو کنٹرول کرنے اور پیش گوئی کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ دوسرے الفاظ میں، محقق متون کو سمجھنے کے سوا کسی اور چیز کے درپے نہیں ہوتا۔ یہی چیز اس کا طریقہ کار متعین کرتی ہے جو کہ تفسیری (ہرمینیوٹکس) ہے۔ اس صورت میں محقق کا بطور صاحبِ شعور، صاحبِ شعور سے سامنا ہوتا ہے کیونکہ سمعی متن بھی محقق کی ہم جنس ہے۔ چونکہ محقق کا مقصد فہم ہے، اس لیے سمعی متون یا زبانی تاریخ کے بنیادی بیانیوں کی صدق و کذب کا کوئی معنی نہیں۔ بنیادی بیانیوں کی صحیح اور سچی فہم کا معنیٰ ماہرین کا اجماع ہے۔ یہ دعویٰ ان بیانیوں کو جو کہ حقیقت ہیں، مخدوش نہیں کرتا۔ یہ بیانیے درحقیقت راویوں کے نقطہ نظر سے درست ہیں اور حقیقی دنیا کی خبر دیتے ہیں۔ بنیادی بیانیے وہی ہیں جو باہر کی دنیا کی خبر دیتے ہیں یا ہمارے احساسات کی خبر دیتے ہیں۔ اگر تاریخ جنگ ہے تو اس کی بنیاد وہ بیانیے ہونے چاہئیں جو جنگجوؤں نے محاذوں کی دنیا سے رپورٹ کیے ہوں۔ بس اتنا ہی کافی ہے۔ لیکن فیصلے کے مقام پر ماہرین کا اجماع ہے جو ان کی صدق و کذب پر رائے دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، زبانی تاریخ کی علمیت کے اس عمل کو راوی یا راویوں کے افراد پر انحصار کرتے ہوئے تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ بنیادی بیانیوں پر ایسا اجماع معاشرے کی سماجی اقدار پر منحصر ہے۔ اس کے باوجود، اگرچہ ماہرین کا بیانیوں کی صحیح فہم پر اجماع ممکن ہے کہ راوی کے اپنی روایت کی درستی کے بارے میں استنباط سے مختلف ہو، لیکن یہاں جو چیز اہم ہے وہ روایت کا بین الاذہانی پہلو ہے۔

ماہرین کا اجماع وہی بین الاذہانی بحث ہے۔ یعنی جس چیز پر اجماع ہو وہی معتبر ہے۔ لہٰذا افراد کی روایات کو کسی بھی موضوع میں سب کی طرف سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے تاکہ وہ ایک سائنسی بیانیہ بن سکے۔ یعنی سب اس کی آزمائش اور انجام دہی میں شریک ہوں۔ پس روایات کو جمع کرنا اور نقل کرنا ذہنی تجربے سے بین الذہنی (یا فکری) کی طرف جانے کا راستہ کھولتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ زبانی تاریخ میں ہمیں کم از کم دو مراحل کو مدِنظر رکھنا چاہیے: اول، متون کی تدوین کے مراحل اس طرح کہ ان کی زبانی نوعیت برقرار رہے، اور دوسرا مرحلہ ان متون کی صدق و کذب کو واضح کرنا۔ سمعی متون کی کذب و صدق کی آزمائش کا واحد راستہ ماہرین کا اجماع ہے، کیونکہ ہرمینیوٹکس کا طریقہ کار متون کو سمجھنے کے لیے ہے نہ کہ صدق و کذب کے تعین کے لیے۔ محققین کا اجماع یہ تعین کرتا ہے کہ بنیادی بیانیوں کی کون سی فہم درست ہے۔ لہٰذا، بنیادی بیانیوں یا راویوں کی روایات کی اصلاح پذیری ماہرین کے اجماع کے سائے میں تبدیلیاں پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین کے اجماع میں قدرتی بار (Value-Ladenness) کا مسئلہ بھی دلیل اور عقل پر مبنی اجماع کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اقدار سے پاک ہونا اب بھی ماہرین کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔


حوالہ جات:

  • استیون سیدمن (1392). کشاکش آراء در جامعه‌شناسی. ترجمہ ہادی جلیلی. تہران: نشر نی۔

  • Habermas, Jürgen. "Knowledge and human interests." (1978).


مصنف: ڈاکٹر علی اصغر سعیدی
ماخذ: دو ماہانہ علمی خصوصی جریدہ "تاریخ شفاہی" (زبانی تاریخ)، سال سوم، شمارہ 6، تحقیقاتی ادارہ برائے دستاویزات، تنظیم برائے دستاویزات و کتب خانہ جمہوریہ اسلامی ایران، خزاں و سرما 1396، ص 10-7



 
صارفین کی تعداد: 4


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (7 + 1) :
 

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔