پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 65

مصنف: علی رستمی

ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2026-5-23


عوام کو انتخابات میں شرکت کی ترغیب دینا اور ان کے ووٹوں کی امانت سنبھالنا

جمعیت طرفداران حکومت قرآن نے فرہنگ و ہنر لائبریری میں دھمکیوں کے مقابلے کے لیے الیکشن کمیشن کے اراکین کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور اس میٹنگ کا سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ ووٹنگ والے دن، دیہاتوں اور محلوں میں بااثر افراد کے اثر و رسوخ کو استعمال کیا جائے اور ہر گروہ کو ان کے مقام کے مطابق ایسے علاقے میں بھیجا جائے جہاں ان کی حیثیت اور مقبولیت ہو۔ الیکشن کمیشن کے مطابق، میں اور ماموستا شیخ محمد قادری(شیخ نجار)، ہیروی اور بَلَبزان کے سرحدی دیہاتوں کے لیے مناسب ترین افراد تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دیہاتوں کے باسی آپ لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور آپ لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے کوئی بھی الیکشن کمیشن کی کمیٹی کی توہین یا بے عزتی نہیں کرے گا۔

ووٹنگ والے دن صبح سویرے، میں اور شیخ صاحب جینڈرمیری کے دو مسلح اہلکاروں اور الیکشن کمیشن کے کچھ اراکین کے ساتھ دو گاڑیوں میں ہیروی کے سرحدی گاؤں کے لیے روانہ ہوگئے۔ ایک گھنٹے کا اوبڑ کھابڑ راستہ طے کرنے کے بعد ہم گاؤں میں داخل ہوئے۔ دوپہر تک ہم گاؤں کی ایک چھت پر رہے۔ کسی نے بھی انتخابات میں شرکت کے لیے رجوع نہیں کیا۔ ظہر کے وقت ہم تھک کر اور عوام کی شرکت سے ناامید ہوکر، نماز ظہر کی ادائیگی کے لیے گاؤں کی مسجد چلے گئے۔ جب ہم نے نماز ادا کرلی تو ہم لوگوں سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے ہمارے جواب میں واضح الفاظ میں کہا: ’’ہم شیخ عزالدین حسینی کی تجویز پر انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے۔‘‘

ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ تمام باسیوں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر کسی نے انتخابات میں حصہ لیا تو ہم تمہارے ساتھ یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔ ہم نے ان لوگوں سے مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور دین کے مخالفین کے منفی پروپیگنڈے پر دھیان نہ دینے کے متعلق گفتگو کی اور انہیں سن 1976 کے موسم خزاں اور موسم سرما کے واقعۂ تخفیف اسلحہ کی یاد دلائی اور کہا کہ اگر ہم اسلامی جمہوریہ کو ووٹ نہیں دیں گے، تو وہی پرانے لوگ دوبارہ اقتدار میں آجائیں گے اور وہی ظلم و ستم دہرایا جائے گا۔ آپ لوگوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی شرکت کے ذریعے شاہی نظام پر تردیدی مہر لگانی چاہیے۔

ہماری ہمدردانہ باتوں کا ہیروی گاؤں کے باسیوں پر اثر ہوا اور ہماری یہ باتیں، ان سب کے ووٹنگ میں حصہ لینے کا باعث بنیں۔ ہم خوشی خوشی دوپہر دو بجے بَلَبزان گاؤں چلے گئے۔ ووٹنگ کے لیے گاؤں کی مسجد کا انتخاب کیا گیا تھا۔ مسجد کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی کچھ مسلح افراد ہماری گاڑی کے سامنے نمودار ہوئے اور ہمیں رکنے کا حکم دیا اور انہوں نے کہا کہ مسجد، میہنی اتحاد کے افراد یعنی جلال طالبانی صاحب[1] سے وابستہ افراد کی تحویل میں ہے۔ ’’عراقی کُردستان میہنی اتحاد‘‘ پیشمرگہ  کے قریب چالیس مسلح افراد، ہماری سرحدوں پر بے نظمی کا فائدہ اٹھا کر ہمارے ملک میں داخل ہوگئے تھے اور پوری آزادی کے ساتھ گاؤں کی مسجد میں آرام کر رہے تھے۔ علاقے کا کوئی مالک نہیں تھا اور وہ خود ہی مالک بن گئے تھے اور انہوں نے ہمیں ہمارے ہی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے لوگوں کو دھمکی دے رکھی تھی کہ کوئی بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گا۔

بن بلائے مہمانوں سے بغیر کسی بحث کے ہم بَلَبزان گاؤں میں دربدر اور بے یار و مددگار تھے کہ اتفاق سے سید امام حسینی صاحب جو ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ملازم اور اس گاؤں کے رہائشی تھے، وہاں پہنچے اور انہوں نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا اور انہوں نے ہم سے پولنگ اسٹیشن کو ان کے گھر کے قریب لے جانے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو ووٹنگ کے لیے بلانے کی درخواست کی۔ ایسا ہی کیا گیا۔ ان کی تجویز کام آئی اور ہم اکثر لوگوں کو بیلٹ باکس تک لے آئے۔

ووٹنگ ختم ہونے کے بعد، پوری کامیابی اور سلامتی کے ساتھ ہم پاوہ لوٹ آئے۔ کاؤنٹی کے ووٹوں کی گنتی سے معلوم ہوا کہ پاوہ اور اورامانات کے انتخابی حلقے میں جن میں پاوہ، جوانرود، باینگان، روانسر، ازگلہ اور ثلاث باباجانی کا علاقہ شامل تھا، مجموعی طور پر ڈالے جانے والے 40 ہزار 227 ووٹوں میں سے 39 ہزار 909 ووٹ، اسلامی جمہوریہ کے حق میں ’’ہاں‘‘ میں ڈلے تھے اور اس کے مقابلے میں 318 افراد نے ’’نہ‘‘ کا سرخ پرچہ، بیلٹ باکس میں ڈالا تھا۔ ووٹنگ کا طریقۂ کار کچھ یوں تھا کہ ووٹرز کی ذاتی معلومات کے اندراج کے بعد، انہیں ایک پرچہ دیا جاتا تھا جس کا آدھا حصہ سبز رنگ کا تھا اور آدھا سرخ رنگ کا۔ سبز حصے پر ’’ہاں‘‘  اور سرخ حصے پر ’’نہ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ جن لوگوں کی رائے اسلامی جمہوریہ حکومت کے حق میں تھی، وہ سبز حصے کو بیلٹ باکس میں ڈالتے تھے اور سرخ حصے کو پھاڑ کر پھینک دیتے تھے اور دوسرے لوگ اس کے برعکس کرتے تھے۔

انتخابات کے نتائج سے یہ واضح ہوگیا کہ دیہاتی علاقوں میں تمام تر دھمکیوں کے باوجود، پاوہ اور اورامانات کے صرف کچھ فیصد لوگوں نے ہی سیاسی اور بائیں بازو کی جماعتوں کی انتخابات کے بائیکاٹ کی درخواست اور عزالدین حسینی صاحب کے فتوے پر انتخابات میں یا حصہ ہی نہیں لیا تھا یا ’’نہ‘‘ کا ووٹ دیا تھا اور 99 فیصد اہل لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ کے ریفرنڈم میں سیاسی کامیابی کے بعد، علاقے میں ایک ناقابل بیان امن و امان قائم ہوگیا تھا، عوام کی امیدیں بڑھ چکی تھیں اور کُرد علاقوں کی عوام کا تہران اور قم سے رابطہ بہت مضبوط ہوچکا تھا۔ 19 مئی 1979 کو جوانرود اور اورامانات کے قبیلوں کے بیگ زادوں اور سرداروں کے ایک گروہ نے قم میں امام خمینی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں، کچھ امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر امام خمینی کی تقریریں نشر ہونے کا اس علاقے پر بہت مثبت اثر ہورہا تھا۔ عوام کا ماننا تھا کہ اورامانات اور قم کے درمیان ایک پل قائم ہوگیا ہے۔ دوسری جانب، 1 اپریل کے انتخابات میں عوام کی غیر معمولی شرکت، اسلامی جمہوریہ کی مخالف فورسز اور جماعتوں کی بے چینی اور پریشانی کا باعث بنی گئی تھی۔ اس کے بعد، ان لوگوں کی خفیہ اور اعلانیہ تقریریں اور اعلامیے دیکھنے میں آرہے تھے اور انہوں نے اپنی نجی محافل میں ’جمعیت طرفداران حکومت قرآن‘ کے اراکین پر شدید تنقید شروع کردی تھی۔ پاوہ کاؤنٹی کے شہر اور دیہات میں صرف ڈیموکریٹک پارٹی ہی مؤثر طور پر موجود تھی۔ باقی بائیں بازو کی جماعتیں اور گروہ یا موجود ہی نہیں تھے یا اگر موجود بھی تھے تو ان کی کوئی عوامی حیثیت نہیں تھی۔ عوام کے ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس جماعت کے اراکین، واضح اور اعلانیہ طور پر اسلام کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی جماعت کو کُرد قوم کے حقوق کے حامی کے طور پر متعارف کروا رکھا تھا اور نرم زبان اور عوام کی ثقافت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے مقاصد کی جانب بڑھ رہے تھے۔ وہ لوگ، تہران کے اس وقت کے عہدیداروں سے کُرد قوم کے حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے اور علاقے کی کُرد عوام ان مطالبات کے حوالے سے حساس بھی نہیں تھی۔ کچھ عرصے بعد یہ صورتحال تبدیل ہوگئی اور کُرد اور ’مدافع حقوق ملت کُرد‘ کے نام سے کچھ اتنہا پسند اور مطلب پرست لوگوں نے قومی مفادات کے خلاف، اقدامات کرنا شروع کردیے، جن میں سرحدی چیک پوسٹوں کو غیر مسلحہ کرنا اور سرحد پار اسلامی جمہوریہ کی مخالف فورسز کے ساتھ آشکار طور پر رابطے قائم کرنا شامل تھا۔

کُرد قوم کے حقوق، کُرد زبان اور ثقافت کی اشاعت اور اداروں اور تنظیموں کے عہدے مقامی لوگوں کو سونپنے جیسے مطالبات اگرچہ معقول مطالبات تھے، لیکن آہستہ آہستہ یہ نعرے عوام میں ماند پڑنے لگے اور یہاں تک کہ ان میں اختلافات اور تفرقے کا باعث بن چکے تھے۔ ایک گروہ کہہ رہا تھا: ’’ہم مسلم کُرد ہیں۔‘‘ اور دوسرا گروہ اسے کے برخلاف اعلان کر رہا تھا: ’’ہم کُردی مسلمان ہیں۔‘‘ پہلا گروہ اپنے نعرے سے نظام کا مدافع بن گیا اور انہوں نے ’’پیشمرگہ مسلم کُرد آرگنائزیشن‘‘ تشکیل دی اور اعلان کیا کہ ہمارے حقوق کا مطالبہ، اسلامی شریعت کے پرچم کے سائے تلے کیا جانا چاہیے اور دوسرے گروہ نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ہمیں دین سے کوئی سروکار نہیں ہے اور کُرد قوم کے حقوق کا حصول ہماری اولین ترجیح ہے اور کرُد قوم کے حقوق کے حصول کے بعد لوگ آزاد ہیں، وہ جس دین اور مذہب کو چاہیں، اپنائیں۔ ان دو طرح کی سوچوں نے دو محاذوں کو جنم دیا اور ایک گروہ کا نعرہ یہ تھا کہ ’’دین کو سیاست اور حکومت سے الگ ہوجانا چاہیے۔‘‘ دوسری جانب، دینداروں کا ماننا تھا کہ ہمارا دین، عین سیاست ہے اور ان نعروں کو عملی شکل دینے اور مذکورہ مقاصد کو بیان کرنے کے لیے سن 1979 کے اپریل اور مئی کے مہنیوں میں شمالی کُردستان کے کچھ ذمہ داران نے پاوہ کے سفر کیے۔

 

 


[1]  جلال طالبانی، سن 1933 میں عراقی کُردستان کے کلان گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد کے کویسنجق شہر میں آستانۂ طالبانی کے مرشد کے طور پر منتخب ہونے کے بعد وہ، اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر میں منتقل ہوگئے تھے۔ 1950 کی دہائی کے اوائل میں کُردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی طلباء یونین کے بانی رکن کی حیثیت سے انہوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اگلے چند سالوں میں وہ پارٹی کے اعلیٰ عہدے تک پہنچ گئے۔ سن 1961 میں انہوں نے اس وقت کے عراقی صدر، عبدالکریم قاسم کی حکومت کے خلاف، بغاوت میں حصہ لیا اور قاسم کی معزولی کے بعد، اس کمیٹی کے رکن بنے جسے عراقی صدر سے مذاکرات کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ جلال طالبانی نے کچھ عرصے بعد ایک دوسرے گروہ کے ساتھ مل کر کُردستان میہنی اتحاد کی بنیاد رکھی۔ مئی 1992 میں عراقی کُردستان میں بلدیاتی انتخابات ہوئے اور میہنی پارٹی نے 42.6 فیصد ووٹ حاصل کیے اور چونکہ دونوں میں سے کسی بھی پارٹی نے واضح اکثریت حاصل نہیں کی تھی، لہٰذا فیصلہ ہوا کہ علاقے کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر پارٹی ایک حصے کا نظام چلائے، لیکن اس سب کے باوجود 1994 میں دونوں پارٹیوں کے درمیان شدید خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ دونوں پارٹیوں کے سینیئر اراکین کے درمیان کئی میٹنگز کے بعد، آخرکار سن 1998 میں دونوں پارٹیوں کے سربراہوں ۔ مسعود بارزانی اور جلال طالبانی ۔ نے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے۔ جلال طالبانی عرف ’مام جلال‘، صدام اور بعث پارٹی کے زوال کے بعد 6 اپریل 2005 کو عراق کے ساتویں صدر منتخب ہوئے۔ سن 1966 میں عبدالرحمٰن عارف کے بعد طالبانی پہلے عراقی صدر ہیں جنہوں نے ایران کا دورہ کیا۔



 
صارفین کی تعداد: 2


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (4 + 4) :
 

"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"

وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔