محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس

دردِ فراق

ترجمہ: سیدہ رومیلہ حیدر

2026-6-10


دو مہینے گزر گئے اور حوزہ علمیہ کے درس شروع ہوگئے۔ چنانچہ ہم قم روانہ ہوگئے۔ گھر کا پتہ یعنی کوچہ آبشار کے بارے میں قم کی پولیس کو معلوم ہونا اور گھر کے چھوٹے ہونے اور کم کمرے ہونے نے یہ بہانہ بنا دیا کہ ہم خیابان صفائیہ میں ایک اور گھر کرایے پر لے کر منتقل ہوگئے۔ اب ہم 1965 کی سردیوں کے اختتام کی طرف بڑھ رہے تھے اور جدوجہد اپنے عروج پر تھی۔ امام خمینی کو ترکی اور وہاں سے نجف اشرف جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ ساواک (شاہ کی خفیہ پولیس) نے بہت سے مجاہد علماء اور انقلابی عوام کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ "آشیخ اکبر" (آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی) کو بھی ڈھونڈ رہے تھے، لیکن اہلکار انہیں پہچان نہیں پاتے تھے، کیونکہ آقا ہاشمی کی ظاہری شکل اپنی عمر کے لحاظ سے کم عمر دکھائی دیتی تھی اور داڑھی نہیں تھی۔

کئی بار گھر کے دروازے پر آئے اور خود ان سے (جو دروازہ کھولنے گئے تھے) پوچھا: "کیا اکبر ہاشمی یہاں ہیں؟" تو انہوں نے جواب دیا: "نہیں۔" پوچھا: "کہاں ہیں؟" تو انہوں نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا: "یہ ہمیشہ یہاں نہیں رہتے۔ اس گھر میں ان کا ایک کمرہ ہے، کبھی کبھار آجاتے ہیں۔" اہلکار چلے جاتے۔ میں بھی کبھی کبھار یہی جواب دے دیتی تھی۔ وہ باز نہ آئے، انہیں ڈھونڈتے رہے اور کئی بار گھر کے دروازے پر آئے اور میں نے اسی طرح ٹال دیا۔ یہاں تک کہ آخر کار انہیں پہچان لیا کہ یہ خود وہی ہیں اور اسی گھر میں رہتے ہیں۔ وہ (آشیخ اکبر) جدوجہد میں زیادہ سنجیدہ اور پختہ ہوچکے تھے۔ اپنی مخصوص بے باکی، ہمت اور سکون و تحمل سے اپنے کام کرتے تھے۔

2 مارچ 1965 کی صبح، امام خمینی کی تقریر والی کیسٹ اور رژیم کے خلاف ایک طومار جو کسی رومال میں رکھا تھا، لے کر گھر سے نکلے۔ گلی میں قصاب کی دکان کے سامنے (جو گلی کے کونے پر تھی، جہاں سے ہم ہمیشہ گوشت خریدتے تھے اور وہ آدمی پکا مومن تھا)، پولیس  کے دو اہلکار ان کے قریب آئے اور کہنے لگے: "ہم اہلکار ہیں، آپ کو اپنے ساتھ پولیس اسٹیشن  لے جانا ہے۔" ہمیں اطلاع کرنے کے بہانے، وہ قصاب کی دکان پر گئے اور نہر عبور کرتے ہوئے طومار کو عباء کے نیچے سے پانی میں پھینک دیا — اور اہلکاروں کو کچھ پتا نہ چلا۔ پھر انہیں ٹیکسی میں بٹھا کر قم کے پولیس اسٹیشن  لے گئے۔

ان کے کزن رضا ہاشمیان (جو قم میں زیرِ تعلیم تھے اور ان کے بھائی قاسم آقا کے ساتھ رہتے تھے) ہمارے گھر آئے۔ وہ بہت پریشان تھے، رونے لگے۔ میں نے پوچھا: "کیا ہوا آقا رضا؟ اتنے پریشان کیوں ہو؟" کہنے لگے: "روٹی لینے گھر سے نکلا تھا تو دیکھا کہ انہیں گاڑی میں بٹھا کر لے جایا جا رہا ہے۔" میں بہت پریشان ہوگئی۔ میں جانتی تھی کہ وہ گھر سے کیا دستاویزات لے کر نکلے تھے۔ چونکہ انہوں نے اپنی گرفتاری کی خبر گلی کے کونے والے دکاندار کو دے دی تھی، تو پڑوسیوں کو پتا چل گیا اور وہ لگاتار ہمارے گھر آتے اور مجھ سے ہمدردی کرتے۔ کہتے: "اہلکاروں  نے رات ہی سے گلی کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ کس کو ڈھونڈ رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں۔"

ایسی صورت میں، میں سوچتی تھی کہ کیا کروں تاکہ ان کے فائدے میں کوئی کام ہو۔ مجھے کسی نہ کسی طرح ان سے ملاقات ضرور کرنی تھی۔ میں نے اپنے ماموں اور اپنے کزن آقا شریفی کو فون کیا اور انہیں آشیخ اکبر کی گرفتاری کی اطلاع دی۔ میں نے ان سے کہا کہ چونکہ وہ قم کے رہنے والے ہیں اور کچھ جان پہچان ہو سکتی ہے، تو پتا کریں کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔ اگر ملاقات کا کوئی امکان ہو تو ہمیں بتائیں — تاکہ ان کا کوئی پیغام ہو تو ہم تک پہنچ سکے۔

میں بہت پریشان تھی، لیکن اپنے آپ پر قابو رکھے ہوئے تھی۔ میں بالکل نہیں چاہتی تھی کہ دوسروں کو میری پریشانی کا پتا چلے۔ اب سوچتی ہوں کہ اس چھوٹی سی عمر میں، جب کبھی کوئی پولیس والا گھر کے دروازے پر نہیں آیا تھا اور نہ ہی میں نے ایسی مصیبتیں دیکھی تھیں، پھر بھی میں صبر و تحمل سے سب کچھ برداشت کر رہی تھی۔ یہ اللہ کا کرم تھا جس نے میرے دل کو مطمئن اور مجھے ہم آہنگ رکھا۔ آخر کار پتا چلا کہ آشیخ اکبر کو قم کی شہربانی نے حراست میں لیا ہے اور کل انہیں تہران بھیجا جائے گا۔ معلوم نہیں تھا کہ انہیں کس وجہ سے پکڑا گیا ہے اور کب تک قید رہیں گے۔

کسی نہ کسی طرح آقا شریفی نے ملاقات کا انتظام کر لیا اور پولیس اسٹیشن میں ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات کے دوران موجود افسر سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو چند منٹ کے لیے اکیلے چھوڑ دیں تاکہ گھر والوں کے بارے میں بات کر سکیں۔ افسر (جو آقا شریفی سے واقف تھا) مان گیا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ اس اثنا میں آشیخ اکبر نے ٹیکسی کا نمبر دے کر کہا کہ وہ ٹیکسی ڈھونڈیں اور اس میں سوار ہو جائیں، اور وہ کیسٹ جو میں نے پاؤں کے نیچے سیٹ کے اندر رکھی ہے، نکال لیں کیونکہ اگر کسی بندے کی گاڑی میں وہ مل گیا تو ممکن ہے اسے تکلیف پہنچائی جائے۔ ان کا ضمیر اس بات سے پریشان تھا۔ انہوں نے مجھے پیغام بھیجا تھا کہ میں پریشان نہ ہوں۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، جلدی واپس آ جاؤں گا۔

ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔

جب تک آقا شریفی واپس نہ آئے، میں بہت پریشان تھی کہ اگر کیسٹ اور طومار ان کے ہاتھ لگ گئے تو کیا ہوگا؟ وہ آئے تو مجھے معلوم ہوا کہ الحمد اللہ دستاویزات ان کے ہاتھ نہیں لگیں۔ بعد میں پتا چلا کہ کیسٹ اور طومار دونوں اپنی صحیح جگہ پہنچ چکے تھے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا تھا کہ عوام شاہ کے خلاف جدوجہد کے حامی تھے۔ کچھ لوگ بہت بہادر تھے اور براہِ راست جدوجہد میں کود پڑتے اور اللہ کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیتے۔ باقی حمایتی تھے اور جو کچھ ان کے بس میں ہوتا، کرتے تھے۔ برسوں بعد انہی عوام کی تحریک نے انقلاب کو کامیابی تک پہنچایا۔

اگلے دن آشیخ اکبر کو دوسرے چند علماء کے ساتھ تہران لے جایا گیا اور پھر ہمیں ان کی کوئی خبر نہ رہی۔ دوسرے دوستوں کا کچھ سراغ چل جاتا، لیکن ان کے بارے میں کچھ نہیں ملتا تھا، اور وہ مجھے کچھ بتاتے بھی نہیں تھے۔ میں ملاقات کے لیے ہر ہفتے تہران جاتی تھی۔ میں قزل قلعہ جیل، ملٹری کورٹ اور جہاں جہاں جاتی، جس سے بھی کہتی، کوئی کام نہ ہوتا۔ ملاقات نہیں دیتے تھے۔ کبھی بچوں کو ساتھ لے جاتی، کبھی فائزہ کو قم میں چھوڑ کر شام کو واپس آ جاتی لیکن کوئی ملاقات نہ ہوتی، سب بے نتیجہ رہتا۔ تحریکی ساتھی، دوست، جاننے والے کوئی کچھ نہیں بتاتا تھا کہ وہ کہاں ہیں، زندہ ہیں یا مردہ، اور کیوں قید ہیں۔

فاطی (بیٹی) کبھی پریشان ہو جاتی اور روتی تھی۔ وہ اپنے والد کو چاہتی تھی۔ محسن (بیٹا) دن بدن دبلا ہوتا جا رہا تھا۔ بچے کی بھوک ختم ہوگئی تھی اور کھانا نہیں کھاتا تھا۔ کمزور دکھائی دیتا تھا۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی تاکہ کوئی علاج ڈھونڈ سکوں۔ ڈاکٹر نے کہا: "اس بچے کو کوئی بے چینی ہے جسے یہ بیان نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس کی بھوک نہیں ہے اور وہ کمزور ہو گیا ہے، اور اس بیماری کی کوئی دوا نہیں ہے۔" میں نے ڈاکٹر کو والد کی مصیبت بتائی۔ انہوں نے کہا: "ضرور اسے اپنے والد سے ملنا چاہیے، جب تک نہیں ملے گا، یہ پریشانی رہے گی۔" میں نے کہا: "اس کی بہن بڑی ہے، وہ والد کا بہانہ کرتی ہے، لیکن اس کی حالت ٹھیک ہے۔" ڈاکٹر نے کہا: "تمام بچے ایک جیسے نہیں ہوتے، کچھ حساس ہوتے ہیں، اور اس بے چینی کی کوئی دوا نہیں ہے۔"

میں محسن کے لیے بہت پریشان ہوئی، لیکن ڈاکٹر سے کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ میں ہر ہفتے تہران آتی اور بہت بھاگ دوڑ کے بعد کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔ یہ میرے لیے بہت مشکل تھا۔ مجھے ہر کسی اور ناکس کے پاس جانا پڑتا، شاید کوئی خبر مل جائے۔ اکثر آشیخ اکبر کے بھائی میرے ساتھ ہوتے، لیکن میں آگے بڑھ کر ملاقات کی درخواست کرتی، کیونکہ وہ ان سے بات نہیں کرتے تھے۔

تین ماہ کی بے یقینی کے بعد، ہمیں ملٹری کورٹ اور وہاں سے شمیران کی پرانی سڑک موجودہ قصر اسکوائر جہاں عدالتی شاخ تھی، بھیج دیا گیا۔ ہم نے ملاقات کی درخواست کی۔ وہاں کے انچارج نے پھر کہا: "جاؤ، کل ملاقات ہوگی۔" میں بہت غصے میں آگئی اور اونچی آواز میں چیخ کر بولی: "تمہیں ذرا بھی انصاف نہیں؟ میں چھوٹے بچوں کے ساتھ کل نہیں آ سکتی۔ آج ہی ورق دے دو، اندر کل کی ملاقات لکھ دو۔" کرنل صاحب نے (جو کمرے میں تھے) میری بات سن لی۔ انہوں نے قزل قلعہ جیل میں کل دوپہر 2 بجے کے لیے ملاقات کا ورق لکھا، مہر اور دستخط کیے، اور میرے ہاتھ میں تھما دیا۔

 

 

- پابه‌پای سرو، عفت مرعشی، به اهتمام سیدعلی مرعشی، تهران، دفتر نشر معارف، 1391، ص 93 -87.



 
صارفین کی تعداد: 17


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (6 + 1) :
 
محترمہ عفت مرعشی کی یادوں سے اقتباس

دردِ فراق

ملاقات ختم ہونے کے بعد، آقا شریفی نے شہربانی کے قریب چوراہے پر جا کر وہ ٹیکسی ڈھونڈ لی اور سوار ہو گئے۔ انہوں نے پتہ دیا اور کیسٹ ڈھونڈنے لگے تو ڈرائیور بھانپ گیا اور بولا: "جس چیز کو تم ڈھونڈ رہے ہو، انشاء اللہ وہیں پہنچ جائے گی جہاں پہنچنی چاہیے۔" پتا چلا کہ ٹیکسی ڈرائیور بھی تحریکی ساتھیوں میں سے تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔