عباس دوزدوزانی کے واقعات سے ایک اقتباس
"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"
فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ
2026-5-30
ان دنوں یہ ضروری محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ ایسے ادارے جلد از جلد قائم کیے جائیں جو اس وقت کی فضا، نوجوان نسل کی توقعات اور ان کی برسوں کی حسرتوں کے مطابق ہوں۔ یہ وہ نوجوان تھے جو انقلاب سے پہلے ہی متحرک تھے اور مختلف واقعات کے دوران گرفتاریوں، جیلوں اور شکنجوں کی صورت میں شاہی حکومت، ساواک (SAVAK)، مشترکہ انسدادِ تخریب کاری فورس، پولیس کی انٹیلیجنس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا قریب سے سامنا کر چکے تھے۔ نوجوانوں کے اس گروہ نے اس وقت کے ایران کے حالات اور نازک مواقع کو بھانپتے ہوئے یہ جان لیا تھا کہ انقلاب کی مرکزیت اور اقدار کے تحفظ کے لیے ایک ایسی عوامی طاقت کی تشکیل ناگزیر ہے جو صالح بھی ہو اور باصلاحیت بھی۔ یہ عوامی طاقت درحقیقت وہ "عسکری بازو" تھا جسے سیاسی اور انٹیلیجنس کے میدانوں میں انقلاب کی بقا اور ایرانی معاشرے کی اقدار کا پہرہ دینا تھا اور پاسداری کرنی تھی۔
اگر ہم انقلابیوں کے دائرے کو تھوڑا اور محدود کریں، تو ایک گروہ وہ تھا جس کے ہاتھ میں تحریک اور مختلف جدوجہد کرنے والے گروہوں کی قیادت تھی۔ ان کے ذہنوں میں شاید خود لیڈر بننے کا خیال بھی موجود تھا۔ دوسرا گروہ وہ تھا جو قیام کے میدانوں میں موجود رہا، سابقہ نظام سے ٹکرایا اور اس دور میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ یہ لوگ حکومت کے خلاف مختلف طریقوں سے جدوجہد کا سابقہ ریکارڈ رکھتے تھے، چنانچہ یہ فطری تھا کہ ان گروہوں میں سے ہر ایک کے ذہن میں کسی نہ کسی طرح کے خاکے موجود ہوں۔ مزید برآں، ان دنوں فوج کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور وہ مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ ایسے میں جو لوگ حالات کو منظم رکھنا چاہتے تھے، ان کے ذہن میں یہ بات گردش کر رہی تھی کہ ایک ایسی تازہ دم اور تربیت یافتہ فورس تیار کی جائے جو ضرورت پڑنے پر میدان میں اتر سکے اور ایک "مخلص عسکری بازو" کے طور پر کام کرے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے " رفاہ اسکول" کی عمارت کو اس ابتدائی اتحاد کے مرکز کے طور پر منتخب کیا گیا۔ جس رات انقلاب کی کامیابی کا اعلان ہوا، ہم فوراً رفاہ اسکول کی عمارت پہنچ گئے۔
اس عسکری ادارے کی تشکیل کئی گروہوں کی توجہ کا مرکز تھی۔ ایک طرف "عبوری حکومت" اس نوساز ادارے پر نظریں لگائے ہوئےتھی اور اس کا استدلال یہ تھا کہ چونکہ پیسہ اور اسلحہ حکومت کے پاس ہے، اس لیے اس گروہ کی سرپرستی بھی حکومت کو کرنی چاہیے۔ دوسری طرف انقلاب سے پہلے کے وہ قیدی تھے جو اسلامی حاکمیت کے قیام کے خواب دیکھ رہے تھے؛ ان کا ماننا تھا کہ چونکہ وہ برسوں سے ملک کے سیاسی مسائل اور جدوجہد سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے ایسے ادارے کی تشکیل میں ان کا حق زیادہ بنتا ہے۔ ایک تیسری کیٹیگری ان مفرور گروہوں کی تھی جو ملک چھوڑ کر جا چکے تھے اور زیادہ تر ملک کے اندرونی عناصر سے رابطے میں تھے، جیسے شہید شیخ محمد منتظری (اعلیٰ اللہ مقامہ) جنہوں نے شہید موسیٰ نامجو اور شہید یوسف کلاہدوز جیسی عظیم شخصیات کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی تھی۔ ایک چوتھی کیٹیگری میں بھی تھی جس میں وہ فکری اور اسلامی گروہ تھے جو سات حلقوں پر مشتمل تھے اور جنہوں نے انقلاب کے بعد "ادارہ مجاهدین انقلاب اسلامی" کی بنیاد رکھی۔ ان چاروں گروہوں میں سے ہر ایک نے اپنے تین تین نمائندے سپاہ (پاسداران) کی تشکیل کے لیے مرکزی کمیٹی میں شامل کیے اور یوں بالاخر بارہ افراد پر مشتمل ایک گروہ تشکیل پایا۔
البتہ اس وقت تک امام خمینی (رح) نے سپاہ پاسداران کی تشکیل کا واضح حکم جاری نہیں فرمایا تھا، لیکن یہ مرکزی کمیٹی امام سے جڑی ہوئی تھی اور ان کے نظریات کی مکمل پیروی کر رہی تھی۔ ہمارا ماننا تھا کہ امام اس حق میں ہیں کہ ایسا ادارہ جلد از جلد تشکیل پائے تاکہ تمام معاملات انقلاب کے اصل دھارے کے اندر رہیں۔ انقلابی کونسل (شورای انقلاب) کے ساتھ موجودہ روابط کی بنا پر اس بارہ رکنی کمیٹی میں کچھ اور لوگ بھی شامل کیے گئے جن میں جناب موسوی اردبیلی اور جناب ہاشمی رفسنجانی شامل تھے۔
اس کونسل میں عبوری حکومت کی طرف سے جو تین افراد شامل تھے وہ حاج محسن رفیق دوست، جناب علی محمد بشارتی اور جناب علی دانش منفرد تھے۔ کبھی کبھار کچھ ارکان ایک دوسرے کی جگہ بھی آ جایا کرتے تھے، مثلاً ڈاکٹر جلیل ضرابی کبھی عبوری حکومت کے نمائندے کے طور پر شریک ہوتے۔ کونسل کے ارکان میں سے عبوری حکومت کے نمائندوں کا مؤقف دیگر ارکان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تھا اور ان کا خیال تھا کہ چونکہ طاقت اور وسائل حکومت کے پاس ہیں، اس لیے اختیار بھی انھی کا ہونا چاہیے۔ برسوں جیل کاٹنے والوں کی جانب سے ابو شریف، جواد منصوری، میں خود اور کبھی کبھی جناب ابراہیم حاجی محمد زادہ کونسل میں ہوتے تھے۔
شہید محمد منتظری کے گروہ سے خود شہید محمد منتظری، شہید نامجو اور شہید کلاہدوز شامل تھے جو بعد میں تینوں شہید ہو گئے۔ تنظیم مجاہدین انقلاب اسلامی سے شہید محمد بروجردی اور محسن رضائی شامل تھے۔ اس گروہ کے تیسرے فرد کبھی جناب مرتضیٰ الویری اور کبھی محسن سازگارا ہوتے تھے۔ یہ بارہ افراد کونسل کے تقریباً مستقل ارکان تھے جو اتفاقاً ایک دوسرے کے ساتھ بہت گھل مل گئے تھے۔ یہ بارہ رکنی کمیٹی بالآخر انقلابی کونسل کے ایک رکن سے مربوط ہوتی تھی جو اس وقت جناب موسوی اردبیلی تھے۔
اجلاس عموماً اور زیادہ تر "چھاؤنی جمشیدیہ" کی گلی میں منعقد ہوتے تھے جہاں اس وقت فوج کے بعض اعلیٰ افسران کے گھر تھے۔ کبھی یہ "کیا عمارت" ( "کیا" نام ہے) میں بھی ہوتے تھے جو کسی زمانے میں تنظیم مجاہدین خلق کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ یہ بارہ رکنی گروہ انقلابی کونسل کے نمائندے کی شمولیت کے ساتھ تیرہ افراد پر مشتمل ہو جاتا تھا۔ اپریل ۱۹۷۹ تک اس گروہ کے اجلاس اپنی ضرورت کے مطابق طے شدہ اوقات پر منعقد ہو رہے تھے، یہاں تک کہ بیس اپریل کو یہ فیصلہ ہوا کہ تین نمائندوں کا انتخاب ہم بارہ افراد میں سے ہوگاجو قم جا کر امام خمینیؒ سے ملاقات کریں اور ان سے "سپاہ پاسداران" (آئی آر جی سی) کے قیام کا باقاعدہ حکم حاصل کریں۔
آخر کار محسن رفیق دوست، محسن رضائی اور میں امام کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رات کے وقت امام کی مصروفیات زیادہ تھیں، اس لیے ہم نے وہ رات قم میں ایک صاحب کے گھر گزاری اور صبح سویرے امام سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔ اس ملاقات میں آدابِ تسلیمات اور دست بوسی کے بعد سپاہ کی تشکیل پر بات شروع ہوئی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ امام کو پہلے سے ہی تمام معاملات کا علم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ عملدرآمد کہاں تک پہنچا ہے۔ اس دن میں امام کے پہلو میں بیٹھا تھا جبکہ آقامحسن رضائی اور محسن رفیق دوست امام کے سامنے بیٹھے تھے۔ میں نے وہیں امام سے عرض کی کہ دوستوں کا مشورہ ہے کہ آپ کو بتائیں کہ عبوری حکومت اور انقلاب کے امور میں وزیرِ مشیر ڈاکٹر ابراہیم یزدی کا اصرار ہے کہ یہ ادارہ حکومت کے تحت بنے تاکہ حکومت اسے ایک اوزار کے طور پر استعمال کر سکے۔ جیسے ہی میں نے یہ بات کہی، امام نے واضح طور پر مخالفت کی اور فرمایا: "آپ خود جائیں اور سپاہ تشکیل دیں۔"
ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا۔ یہ اعلامیہ ایک طرح سے "سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی" کی تشکیل کا پہلا باضابطہ اعلان تھا۔
بنیادی طور پر سپاہ کے قیام کے لیے کوئی تحریری حکم نامہ موجود نہیں تھا۔ امام نے اس کی تشکیل کے لیے زبانی حکم جاری کیا تھا اور ۲۲ اپریل ۱۹۷۹ کو سپاہ نے میری نگرانی میں کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ اس کے قیام کی خبر صرف "روزنامہ اطلاعات" میں چھپی، کیونکہ باقی اخبارات یا تو انقلاب مخالفین کے زیرِ اثر تھے یا بنی صدر کے حامی۔ شروع میں سپاہ کی ذمہ داری یہ تھی کہ عوام کے پاس پہلے سےموجود اسلحہ جمع کریں، اسے اپنے تربیت یافتہ دستوں میں تقسیم کریں اور پھر ایسے افراد کی تربیت کریں جو انٹیلی جنس، پاسداری (پہرے داری) اور حفاظتی امور کو آگے بڑھا سکیں۔
اس دوران جناب لاہوتی، اس سپاہ میں جو عبوری حکومت نے بنائی تھی، امام کے نمائندے اور ناظر تھے، لیکن امام، خود آقائے لاہوتی اور ہم سب جانتے تھے کہ سپاہ کی تشکیل عبوری حکومت کے بس کا کام نہیں، بلکہ اس تنظیم کو ایک عوامی ادارہ بننا چاہیے اور اس کی ذمہ داری ان لوگوں کے پاس ہونی چاہیے جو ایسی ذمہ داریوں کا جوش و جذبہ رکھتے ہوں، اور آخر کار ایسا ہی ہوا اور محمد منتظری اور جناب لاہوتی جیسے افراد کے گروہ اس ادارے کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کرنے لگے۔ شہید منتظری تو ہمارے ساتھ اسی بارہ رکنی بنیادی گروہ کے ممبر تھے۔
ابتدا میں دستوں کی پہلی تنظیم سازی اور اتحاد کا مرکز " رفاہ اسکول" بنا۔ وہاں "حزب ملل" کے ارکان بھی تھے اور دیگر گروہوں کے نمائندے بھی۔ اس وقت حزب ملل کے ارکان کی عمریں چالیس سال کے لگ بھگ تھیں۔ اس اسکول کی کئی خصوصیات تھیں؛ ایک تو یہ کہ یہ اسلحہ کا گودام تھا اور دوسرا یہ کہ یہاں اہم قیدیوں کو بھی رکھا جاتا تھا۔ بعد میں اسی مرکز میں فورسز کی تربیت شروع ہوئی۔ شروع میں ہم نے دو ہفتوں کے تربیتی کورسز رکھے؛ جس کا طریقہ کار یہ تھا کہ سپاہ کے رضاکاروں کے لیے ایک تقریر ہوتی تاکہ ان میں جوش و جذبہ پیدا ہو، اس کے بعد نظریاتی اور سیاسی دورہ ہوتا۔ راتوں کو ان کو انفرادی تربیت دی جاتی اور ساتھ ہی فوجی مشقیں بھی ہوتیں۔ سپاہ میں شامل ہونے والے افراد ہر طبقے اور پیشے سے تعلق رکھتے تھے، یہاں تک کہ ڈاکٹروں اور ڈینٹل سرجنٹس نے بھی رضاکارانہ طور پر شرکت کی۔ ان افراد کو دو ہفتے کی تربیت دی جاتی اور پھر ان کی صلاحیتوں کے مطابق مناسب جگہوں پر تعینات کر دیا جاتا۔
ان سرگرمیوں کے تسلسل میں یہ فیصلہ ہوا کہ سپاہ کے لیے چھ ماہ کے لیے ایک عبوری کمانڈر منتخب کیا جائے۔ ہم جواد منصوری صاحب کو منتخب کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ قید و بند کی صعوبتوں سے واقف تھے اور ہم سب ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ اورانہیں چھ ماہ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ چھ ماہ بعد یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر ڈالی گئی۔ چونکہ یہ ایک شرعی فریضہ تھا، اس لیے میں نے اسے قبول کر لیا۔ [1]
[1] ماخذ: حاجی محمدی، زہرا، شوقِ ایمان، خاطرات عباس دوزدوزانی، تہران، انتشارات سورہ مہر، صفحہ ۱۸۳
صارفین کی تعداد: 5
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"
ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
