شہید کاظم عاملو کی زندگی کی روداد: بانہ کا خواب

محیا حافظی

ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-7-26


کتاب "رؤیای بانہ" (بانہ کا خواب) شہید کاظم عاملو کی زندگی کی ایک جامع روداد ہے۔ یہ کتاب علی رضا کلامی کے قلم سے لکھی گئی ہے اور 'انتشاراتِ مرز و بوم' نے اسے شائع کیا ہے۔ کتاب کا آغاز ناشر کے پیش لفظ اور مصنف کے مقدمے سے ہوتا ہے، جس کے بعد شہید کے اہل خانہ، دوستوں اور ہم محاذ ساتھیوں کی زبانی ۷۵ یادیں بیان کی گئی ہیں۔

کاظم عاملو ۱۹۶۵ میں سمنان میں پیدا ہوئے۔۱۹۸۳ میں بطور بسیج اہلکار انہیں 'بانہ' کے محاذ پر تعینات کیا گیا۔ واپسی کے بعد وہ دوسری بار ایک فوجی کے طور پر کردستان گئے اور 'شہدا اسپیشل بریگیڈ' میں اپنی فوجی خدمات انجام دیں۔ وہ ۸ مارچ ۱۹۸۸ کو عراق کے علاقے 'ماووت' میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور ان کے جسدِ خاکی کو سمنان کے امام زادہ یحییٰ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اس کتاب کی جلد 'انتشاراتِ مرز و بوم' کی دیگر کتابوں کی طرح تین مختلف تہوں پر مشتمل ہے جس میں کرافٹ اور کوٹڈ کاغذات کا استعمال کیا گیا ہے۔ پہلی تہہ پر راوی کی ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر کرافٹ کارڈ بورڈ پر چھپی ہے، جبکہ دوسری تہہ کے اوپر والے حصے پر سبز رنگ کے پس منظر میں کتاب کا عنوان تحریر ہے۔

کتاب میں درج متن دراصل ان مشاہدات کا مجموعہ ہے جو عاملو کے دوستوں اور ہم محاذ ساتھیوں نے بانہ کے دوران ان کی مخصوص روحانی حالتوں کے بارے میں بیان کیے ہیں۔ یہ یادیں مختصر انداز میں اور زمانی ترتیب کے مطابق لکھی گئی ہیں۔ کتاب کے ابتدائی حصے میں شہید کی انفرادی خصوصات اور اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا ذکر ہے، جو ان کے اہل خانہ اور دوستوں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔

یادداشت نمبر ۱۵ سے محمد حسن حمزہ کی زبانی عاملو کی بانہ روانگی کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کی یادوں میں ان کی ان روحانی کیفیتوں کا تذکرہ ہے جنہیں ان کے دوستوں نے "خلسہ" (وجد یا وجدانی کیفیت) کا نام دیا ہے۔ کتاب کے مطابق، بعض اوقات آرام کے دوران عاملو ایک ایسی منفرد کیفیت میں چلے جاتے تھے جس میں وہ ایسی عرفانی باتیں کرتے تھے جو وہ عام حالات میں بیان نہیں کرتے تھے۔ ان کے دوست بتاتے ہیں کہ اس حالت میں وہ نہ مکمل طور پر بیدار ہوتے تھے اور نہ ہی سو رہے ہوتے تھے، بلکہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور کمرے میں ہونے والے واقعات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔

ان کے ایک دوست کو ان کی ان باتوں کو تحریر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، جبکہ ساتھ ہی ان کی گفتگو کو 'واک مین' کے ذریعے کیسٹ پر ریکارڈ کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں عاملو نے ان تمام کیسٹوں کو تلف کر دیا اور اپنے دوستوں کے اصرار پر صرف ایک کیسٹ باقی رکھی۔ اس کیسٹ کے ایک حصے کی تحریر کتاب کے آخر میں دی گئی ہے، جو ۱۹۸۳ کی ایک روحانی کیفیت سے متعلق ہے، یعنی ان کی شہادت سے چار سال پہلے کی۔

ان یادوں کو بیان کرنے والے راوی اس شہید کے روحانی تعلقات کے بارے میں مزید دعوے بھی کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی ان روحانی حالتوں کی خبریں اس قدر پھیل گئیں کہ 'سپاہ پاسداران' کے حفاظتی شعبے (Security wing) نے مداخلت کی اور ان کی نگرانی کے لیے ایک محافظ مقرر کیا گیا۔ تاہم، ان کے دوست اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ یہ معاملہ بہت زیادہ عام نہ ہو۔

اس موضوع کی نزاکت اور انفرادیت کے پیش نظر، ناشر اور مصنف نے ۳۰ صفحات پر مشتمل پیش لفظ اور مقدمے میں قارئین کی ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ان یادوں کو قبول کر سکیں۔ مصنف نے مقدمے میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شہید کی صرف ایک کیسٹ سنی ہے اور وہ شہید کی ان خوابوں اور 'خلسہ' کی یادداشتوں والی چند سو صفحات کی ڈائری تک رسائی کے لیے ان کے دوستوں کی رضامندی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ناشر نے اپنے پیش لفظ میں واضح کیا ہے کہ اگرچہ ان کا مقصد راویوں کے بیانات کی تصدیق یا تردید کرنا نہیں ہے، لیکن وہ اس کتاب کو "جنگ کے میدان میں موجود لوگوں کے سچے خوابوں، مکاشفات، مشاہدات اور روحانی دریافتوں" کے اظہار کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

کتاب کے اختتام پر تصاویر کا ایک البم، شہید کی ہاتھ سے لکھی ہوئی وصیت اور اعلانات کی فہرست شامل ہے۔ یہ اثر ۲۰۲۲ میں ۱۰۰۰ نسخوں کی تعداد میں شائع ہوا، جس کے کل ۲۰۰ صفحات ہیں اور قیمت ۷۴ ہزار تومان مقرر کی گئی ہے۔



 
صارفین کی تعداد: 4


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (3 + 8) :
 

یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔