پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 70
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-7-22
نوریاب کو ترک کرنا اور پاوہ میں سکونت پذیر ہونا
ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ مسلح ایرانی فورسز اور جلال طالبانی صاحب کی آرگنائزیشن سے وابستہ عراقی فورسز نے نوریاب گاؤں کو طاقت کے مظاہرے کی جگہ بنایا لیا تھا۔ اسی وجہ سے میری نوریاب سے پاوہ آمد و رفت دن بدن مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی تھی۔ اس لیے میں شہر کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ البتہ مجھے اس بات کا اطمینان تھا کہ خلیفہ محمد سعید پیاب صاحب،(میری جگہ) نماز جماعت پڑھائیں گے۔
جون 1979 میں، میں اپنی زوجہ اور اپنے دو بچوں مسلم اور مکرم اور اپنی والدہ کے ساتھ، اپنے سسر کی عمارت کے ایک کمرے میں سکونت پذیر ہوگیا تھا، جو سپاہ کی عمارت سے اگلی گلی میں واقع تھی اور جس کی جنوبی اور مغربی جانب کوئی رہائشی عمارت نہیں تھی۔ مُسلِم دو سال اور مُکرِم چھ ماہ کا تھا۔ ہماری زندگی سہولیات کے اعتبار سے بہت مشکل تھی اور ساتھ ہی ساتھ خوشگوار بھی تھی۔ ہم آزاد تھے اور ہم پانچ لوگوں کا خاندان ایک نو میٹر کے کمرے میں رہ رہا تھا اور ہم زندگی کی چمک دمک کے بارے میں بہت کم ہی سوچا کرتے تھے۔
صارفین کی تعداد: 6
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں
جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
