ہم بھی لڑے تھے (ما هم جنگیدیم)

زہرا قاسمی
ترج،ہ: سید نعیم حسین شاہ

2026-8-19


دفاعِ مقدس کی یادیں ایک ایسا موضوع ہے جس پر نشریاتی دنیا میں بہت کام ہوا ہے۔ اس سلسلے میں "جبهہ فرهنگی انقلابِ اسلامی" (انقلابِ اسلامی کا ثقافتی محاذ) ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس نے "زبانی تاریخ" کے عنوان سے ان یادوں کو جمع کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ کتاب "ہم بھی لڑے تھے" (ما هم جنگیدیم) "جنگی پشتیبانی" سلسلے کی پانچویں اور "انقلابی خواتین" سلسلے کی بارہویں کتاب ہے، جسے "انتشاراتِ راہ یار" نے شائع کیا ہے، جو کہ انقلابِ اسلامی کے ثقافتی فرنٹ سے وابستہ ہے۔ اس کتاب میں 'ملارد' شہر کی خواتین کی ان سرگرمیوں کا ذکر ہے جو انہوں نے جنگ کے دوران محاذوں کی پشتیبانی کے لیے انجام دیں۔

اس کتاب کے محقق محمد مہدی رحیمی ہیں، جن کی ملارد کی فعال خواتین سے شناسائی نے انہیں ان کی یادیں جمع کرنے پر ابھارا۔ اگرچہ انٹرویو کیے جانے والی خواتین کی کل تعداد واضح نہیں ہے، لیکن ۱۳ خواتین کی روداد کو ۶۶ حصوں میں شائع کیا گیا ہے۔ بظاہر انٹرویو کیے جانے والوں کی تعداد اس سے زیادہ تھی، لیکن مصنفہ "نرجس توکلی لشکاجانی" نے صرف ان رودادوں کا انتخاب کیا جن میں کہانی کی ترتیب موجود تھی اور انہیں تاریخی ترتیب کے ساتھ مرتب کیا۔ انٹرویو کس وقت ہوئے یہ تو واضح نہیں، لیکن ان کی تحریریں پہلی بار ۲۰۱۶ میں مصنفہ کے پاس آئیں، مگر مواد کی بکھری ہوئی صورت کی وجہ سے اس وقت انہیں مرتب نہ کیا جا سکا۔ بعد ازاں ۲۰۲۰ میں مصنفہ نے دوبارہ کام شروع کیا اور ۱۰۰۰ صفحات پر مشتمل مواد میں سے اس کتاب کو ترتیب دیا۔

کتاب کا مرکزی موضوع ملارد کی خواتین کی جنگی سرگرمیاں ہیں۔ یہ خواتین (جمیلہ ناکینی، خدیجہ اسکندری، ربابه ارشادی، رقیہ چراغی، ستارہ طاہری، شمسی کندری، گلچین حسین آبادی، معصومہ رسولی، معصومہ شوربائی، ملوک عطاء اللہی، منیر زاہد پناہ، مہری حیدری مجد اور مہین خمیس آبادی) اپنا زیادہ تر وقت کھانے پینے کی اشیاء، خاص طور پر روٹیاں تیار کرنے میں گزارتی تھیں۔ شمسی کندری ان خواتین اور "جہادِ سازندگی" (تعمیراتی جہاد) کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر کام کرتی تھیں اور تمام سرگرمیوں کی نگرانی کرتی تھیں؛ ان کا گھر ہی ان تمام کاموں کا مرکز تھا۔

کتاب کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ پہلے ناشر کا پیش لفظ، پھر مصنفہ کا مقدمہ اور آخر میں ایک تاریخی مقدمہ دیا گیا ہے۔ مصنفہ نے مقدمے میں کام کرنے کے طریقے اور وقت کی وضاحت کی ہے، جبکہ تاریخی مقدمہ "ملارد" کی ثقافتی اور سماجی تاریخ پر ایک نظر ڈالتا ہے۔

خواتین کی رودادوں کو ۴ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:

پہلا باب:

"انقلاب سے پہلے" کے عنوان سے معنون ہے، جس میں انقلاب سے قبل کی سرگرمیوں کی ۷ یادیں شامل ہیں۔

دوسرا باب:

"انقلاب اور جنگ کا آغاز" کے عنوان سے ہے، جس میں انقلابی سرگرمیوں اور جنگ کے ابتدائی ایام کے حوالے سے ۱۰ رودادیں درج ہیں۔

تیسرا باب:

"جہاد کا آغاز" کے عنوان سے ہے، جس میں ۳۹ رودادیں شامل ہیں اور یہ کتاب کا سب سے تفصیلی حصہ ہے۔ اس میں خواتین کی کام کے دوران کی کیفیات، دیگر سرگرمیاں اور کام کرنے کے طریقوں وغیرہ کو بیان کیا گیا ہے۔

چوتھا باب:

"قرارداد پر دستخط اور جنگ کا خاتمہ" کے عنوان سے ہے، جس میں ۹ رودادیں شامل ہیں اور یہ بنیادی طور پر پشتیبانی کے کام کے اختتام اور جنگ کے بعد کی سرگرمیوں پر مبنی ہے۔

زیادہ تر رودادیں صرف ایک یا دو صفحات پر مشتمل ہیں۔ یہ مختصر یادیں اگرچہ ایک مسلسل کہانی کی صورت میں نہیں ہیں، لیکن ایک ہی موضوع پر مبنی ہونے کی وجہ سے ان ایام میں جنگی پشتیبانی میں خواتین کے کردار کی ایک مکمل تصویر پیش کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

کتاب کے آخر میں "عکس نوتے" کا ایک حصہ ہے، جہاں یادیں بیان کرنے والی خواتین کا تعارف ان کی تصاویر کے ساتھ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے دنوں اور خواتین کی سرگرمیوں کی کچھ ایسی تصاویر بھی شامل ہیں جو اپنے اندر ایک تازگی اور انفرادیت رکھتی ہیں۔

کتاب "ہم بھی لڑے تھے" ۲۱۶ صفحات پر مشتمل ہے، جسے "انتشاراتِ راہ یار" نے ۲۰۲۲ میں شائع کیا اور جون ۲۰۲۲ میں صوبہ البرز میں ایک تقریب کے دوران اس کی رونمائی کی گئی۔



 
صارفین کی تعداد: 39


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
سیکورٹی تصویر (7 + 8) :
 

محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس

کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔