پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں
ماموستا 72
مصنف: علی رستمی
ترجمہ: ضمیر علی رضوی
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی
2026-8-30
اورامانات میں سیاسی اور عسکری تحریکوں کا آغاز(دوسرا حصہ)
9 اگست 1979 بمطابق 15 رمضان المبارک کو باینگان ضلع کے ایک ڈرائیور کی مولوی چوک پر اسلحہ خریدتے وقت، پاوہ کی ایک خاتون سے کہا سنی ہوگئی تھی قصور وار ڈرائیور کے ساتھ لڑائی جھگڑے کے بعد، شہر کے کچھ نوجوان، اس خاتون کی توہین پر ہم آہنگی اور اجتماع کے بعد مظاہرے کی شکل میں گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے اور اس برے کام پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے دھرنا دیا۔
اس دن میں مدرسۂ قرآن کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ ریلی کے آغاز میں ہی میں نے سب لوگوں کی اللہ اکبر کی آواز سنی۔ ہم نے ایک طالب علم کو اجتماع کی جگہ بھیجا۔ اس طالب علم نے آکر مدرسۂ قرآن کے اراکین کو ریلی کی خبر اور اس کے مقصد سے آگاہ کیا۔ بغیر دیر کیے ہم شہر کے نوجوانوں کی غیرت اور حمیت کا ساتھ دینے کے لیے گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوگئے اور مظاہرین کے ساتھ شامل ہوگئے۔ اس دھرنے میں مدرسۂ قرآن کے اراکین کی شرکت، اس کے سرکاری حیثیت اختیار کرنے اور اس کے خبر بننے کا باعث بنی۔
اس دھرنے کے شروع ہونے کے دو دن بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے ’’ماؤ‘‘[1] نعروں کی نقل کرتے ہوئے 11 اگست ہفتے کے روز کسانوں کی حمایت میں، ہزاروں گاؤں والوں اور جوانرود، روانسر اور پاوہ کے گرد و نواح کے شہروں، ثلاث اور باینگان سے اپنے کارکنوں کو بلا کر قوری قلعہ[2] گاؤں میں ایک اجتماع کیا اور پاوہ کے دھرنے کے مقابلے پر دھرنا دیا۔ انہوں نے کرمانشاہ ۔ پاوہ روڈ بند کرنے اور مسافروں کو پریشان کرنے کے ساتھ ساتھ، پوری تیاری کے ساتھ میٹنگز رکھ کر اور توہین آمیز بیانیے جاری کرکے غیر مقامی پاسداران اور فوج کے پاوہ سے انخلاء کا مطالبہ کیا۔
پاوہ کی خانقاہ سے تعلق رکھنے والے ملا سید عبد القادر عزیزی صاحب، سپاہ کے ساتھ تعاون کرنے والے کچھ افراد کے ساتھ کسی کام سے کرمانشاہ گئے ہوئے تھے اور واپسی پر انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے محافظوں نے پکڑ لیا۔ انہوں نے سید عبد القادر اور ان کے دوستوں کو کچھ گھنٹوں تک قوری قلعہ کے باغات میں رکھا اور پھر دو شرطوں پر انہیں رہا کیا؛ پہلی یہ کہ وہ سپاہ پاسداران کے ساتھ تعاون سے استعفیٰ دیں اور دوسری یہ کہ وہ متعدد بار ان کے سامنے ترانہ ’’اے رقیب‘‘ پڑھیں۔
قوری قلعہ کے مظاہرین کے برخلاف، پاوہ کے گورنر ہاؤس کے سامنے موجود مظاہرین، سپاہ کی تقویت، خطے میں قیام امن اور سرحدوں کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ 10 اگست یعنی دھرنے سے ایک روز قبل، قوری قلعہ کے مظاہرین نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں خطے کے معاملات کے تجزیے کے بعد، انقلاب اسلامی کمیٹی پاوہ اور سپاہ پاسداران کے عہدیداروں سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا ’’وہ مزید طاغوتی حکومت کے ایجنٹوں[3] کے آلۂ کار نہ بنیں۔‘‘ جبکہ سب جانتے تھے کہ اس اعلامیے کو جاری کرنے والے افراد خود پالیزبان جیسے افراد اور ساواک کے ایجنٹس کے آلۂ کار ہیں۔ اس کے باوجود کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنان نے ہر طرف سے پاوہ کا پوری طرح محاصر کر رکھا تھا اور اپنی طاقت کے عروج پر تھے، اپنے اعلامیے کے آخری حصے میں انہوں نے از راہ عاجزی، امام خمینی کی قیادت کی تائید کرتے ہوئے انجینیئر بازرگان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس خطے میں ہر قسم کے تصادم اور فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے چارہ جوئی کی جائے۔
پاوہ گورنر ہاؤس کے دھرنے کے مظاہرین کی طاقت اتنی تھی کہ دھرنے کے دوسرے روز ہم نے اعلان کیا کہ اگر پاوہ کے موجودہ امام جمعہ ضیائی صاحب ہمارے پاس نہ آئے تو آج لوگ جامع مسجد نہیں جائیں گے۔ انہیں دھرنے کی جگہ پر ہی نماز جمعہ پڑھانی ہوگی اور ایسا ہی ہوا۔ پاوہ کے امام جمعہ ملا ناصر ضیائی صاحب نے گورنر ہاؤس کے صحن میں نماز جمعہ پڑھائی۔ انہوں نے احتیاط سے کام لیا اور اپنے خطبے میں جو کچھ پاوہ میں ہو رہا تھا اس کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیا۔ انہوں نے ہورامی زبان میں کچھ مختصر جملے بولے اور دو خطبے عربی میں پڑھے اور وہاں سے چلے گئے لیکن دھرنے کی جگہ پر ان کی موجودگی اور نماز جمعہ پڑھانا ہمارے لیے ایک بڑی کامیابی تھی اور اس سے ظاہر ہوگیا کہ شہر کا مذہبی طبقہ، ثابت قدم اور نظام کا حامی ہے۔
مظاہرین کی رابطہ کمیٹی نے ایک مناسب اقدام کرکے پاوہ کی عوام کا پیغام اور ان کے مطالبات، تہران اور کرمانشاہ تک پہنچائے۔ پاوہ کی عوام کی درخواست کے جواب میں خطے کی مشہور و معروف شخصیات ایک ایک کرکے پاوہ آئیں۔ آیت اللہ اشرفی اصفہانی[4] اور آیت اللہ محمد رضا کاظمی ایک وفد کے ساتھ دھرنے کے مظاہرین کی حوصلہ افزائی کے لیے گورنر ہاؤس آئے، انہوں نے نماز جمعہ میں بھی شرکت کی اور انہیں دیکھ کر ہم سب کی آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔ مفتی زادہ صاحب کے نمائندے کے طور پر ملا محسن امینی صاحب، سنندج کے کچھ لوگوں کے ساتھ پاوہ آئے۔ مظاہرین کی نمائندگی کرتے ہوئے سید راغب احمدی صاحب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
13 اگست کے روز، صوبے کے کچھ عہدیدار، جن میں کرمانشاہ کے وزیر اعلیٰ سپہری پور صاحب، آیت اللہ حاجی مجتبی حاجی آخوند کرمانشاہی، آیت اللہ عراقی، حجت الاسلام خرم شاہی اور صوبے کی جینڈرمیری کے کمانڈر شامل تھے، ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظاہرین کے مطالبات سننے کے لیے علاقے میں آئے تھے۔ وہ لوگ پاوہ میں داخل ہونے سے پہلے قوری قلعہ کے دھرنے کے مظاہرین کے اجتماع میں گئے تھے اور ان کے مطالبات سنے تھے۔ ان لوگوں کے مطالبات غیر منطقی ہونے اور ان کے مطالبات میں تضاد کے باوجود، وزیر اعلیٰ صاحب نے حیران کن طور پر پاوہ کے دھرنے کے مظاہرین کے درمیان کہا: ’’آپ لوگ بھی صحیح کہہ رہے ہیں اور وہ لوگ بھی۔‘‘
وزیر اعلیٰ صاحب کی باتوں نے ہماری تکلیفوں کو مزید بڑھا دیا اور ہمارے پاس آہ و افسوس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ عجیب وقت تھا، مذہبی افراد تنہا تھے۔ سب لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ قوری قلعہ کا دھرنا تو درحقیقت پورے پاوہ پر حملے اور اورامانات سے اسلامی جمہوریہ کے حامیوں کا صفایا کرنے کی، نظام مخالف افراد کی ایک سازش تھی، لیکن ہمارا دھرنا، انقلاب کے دفاع اور خطے میں قیام امن کے لیے تھا، تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ دونوں فریقوں کے مطالبات ایک ہوں اور بقول وزیر اعلیٰ دونوں فریق صحیح کہہ رہے ہوں؟!
14 اگست، ہمارے دھرنے کے چھٹے روز روڈ ایڈمنسٹریشن آفس کی ہموار زمین پر دو ہیلی کاپٹر اترے، جن سے اصغر وصالی صاحب کی کمانڈ میں قریب تیس پاسدار اترے۔
اصغر وصالی صاحب کا گروپ، مریوان کے موسک[5] ملٹری بیس سے آیا تھا۔ بظاہر یہ گروپ مریوان کے پاسداران کی مدد کرنے کے لیے وہاں گیا تھا، لیکن یہ لوگ اس وقت وہاں پہنچے کہ جب مریوان کی سپاہ پر دشمن نے قبضہ کرلیا تھا۔ یہ لوگ وہیں رک گئے تھے اور جب افسران نے محسوس کیا کہ پاوہ کی سپاہ کو مدد کی ضرورت ہے تو انہوں نے ان لوگوں کو پاوہ کی سپاہ کی مدد لیے بھیج دیا تھا۔ ان لوگوں نے ہیلی کاپٹر سے اترنے کے بعد، جوشیلے نعرے لگاتے ہوئے سپاہ کے ہیڈکوارٹر کی جانب مارچ کیا۔ جب یہ لوگ ہیڈکوارٹر پہنچے تو ہمارے دھرنے کے مظاہرین کا ایک گروہ ان سے ملاقات کے لیے گیا اور ہماری جانب سے شوکت سابقی صاحب نے انہیں خوش آمدید کہا۔
[1] ماؤ زے تونگ(1976۔1893 بیجنگ، چین)، ایک لیننزم اور مارکسسٹ تھیورسٹ اور کمیونسٹ سیاستدان تھے۔ انہوں نے سن 1949 میں چین کے اس وقت کے صدر چیانگ کائی شیک کی فورسز کو شکست دے کر عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی۔
[2] قوری قلعہ، روانسر کاؤنٹی کے شاہو ضلع کا نواحی گاؤں ہے جس میں ایک مشہور اور خوبصورت غار ہے۔
[3] اس سے ان لوگوں کی مراد، محمد رضا شاہ پہلوی کے ایجنٹ تھے۔
[4] عطاء اللہ اشرفی اصفہانی (1902 خمینی شہر ۔ 1982 کرمانشاہ) بارہ سال کی عمر میں اپنے والد کے کہنے پر اصفہان چلے گئے اور وہاں انہوں نے اپنی دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ مقدماتی کورس اور فقہ و اصول کی تعلیم کے بعد انہوں نے قم ہجرت کرلی اور اعلیٰ اور اجتہادی تعلیم کے لیے فقہ و اصول، عبدالکریم حائری یزدی، سید محمد تقی خوانساری، سید صدر الدین صدر، سید محمد حجت، سید حسین طباطبائی بروجردی اور سید روح اللہ خمینی کی خدمت میں پڑھے۔ آپ، آیت اللہ بروجردی کے حکم پر تبلیغ دین کے لیے کرمانشاہ آگئے۔ وہ ایک انقلابی مولانا تھے جو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد امام خمینی کے حکم پر کرمانشاہ کے امام جمعہ بنے۔ 15 اکتوبر 1982 کو جب آیت اللہ اشرفی اصفہانی نماز جمعہ پڑھانے کی تیاری کر رہے تھے تو کرمانشاہ جامع مسجد میں ایک منافق نے گرینیڈ دھماکہ کرکے انہیں شہید کردیا۔
[5] پہلوی حکومت کے اوائل میں موسک دژی گاؤں میں، مریوان شہر کے پاس ’دژ شاہپور‘ نامی ایک ملٹری بیس بنایا گیا تھا، انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اس کا نام شہید عبادت بیس رکھ دیا گیا تھا۔ میجر جنرل رسول عبادت شہید، کُردستان کی ڈویژن۔28 کے کمانڈروں میں سے ایک تھے جو عراقی بعثی فوج کے ایران پر حملے کے آخری دنوں میں قوچ سلطان پہاڑیوں میں شہید ہوئے۔
صارفین کی تعداد: 37
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
محمد ہادی اردبیلی کی یادداشتوں سے ایک اقتباس
کچھ مومن اور انقلابی نوجوان تماشائیوں کے روپ میں امجدیہ اسٹیڈیم کے اندر پہنچ گئے۔ ہم بھی پولی ٹیکنک یونیورسٹی کے کچھ مذہبی طلبہ کے ساتھ وہاں گئے اور اسٹینڈز پر بیٹھ گئے۔ مقابلہ شروع ہوا اور اللہ کی مدد سے ایرانی ٹیم نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے صیہونی حکومت کی ٹیم کو دو-ایک سے شکست دے دی۔"1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
