تبریز فوجی بیرکس کا سقوط


انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی

2022-04-29


­۲۴ بہمن کی رات میں تہران میں تھا کہ خبر ملی تبریز کے فوجی بیرکس ابھی تک انقلابی دوستوں کے قبضے میں نہیں آئے ہیں اور مراغہ کی آرمرڈ فورسز بھی تبریز پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اسی لئے میں راتوں رات تبریز پہنچ گیا۔ اسی دن تہران میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ قزوین آرمرڈ فورسز تہران پر حملہ کرنے والی ہیں۔ اور عوام نے سڑکیں اکھاڑ دی تھیں اور کھمبوں کو آپس میں ویلڈنگ کرکے راستہ بند کردیا گیا تھا تاکہ فوج تہران میں داخل نہ ہوسکے۔ حتی تبریز کے رستے میں بھی۔ ہم دیہاتوں سے ہو کر تبریز پہنچنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

آدھی رات کا وقت تھا جب ہم تبریز میں انجینئر یکتا صاحب کے گھر پہنچے۔ شہر پریشان کن حالت میں خالی تھا۔ رات ہی میں سید محمد الہی، ڈاکٹر سلیمی خلق اور جناب میرزا عبداللہ واعظ کو یکتا صاحب کے گھر بلوا لیا۔ واعظ صاحب اس جدوجہد میں بہت زیادہ شامل نہیں تھے لیکن حامی ضرور تھے لیکن انکے والد میرزا حسین واعظ تحریک مشروطہ کے نامور مجاہدین میں سے ایک تھے۔

اسی جگہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ صبح آیت اللہ قاضی کے گھر چلیں گے۔ علی الصبح آیت اللہ قاضی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس نے درخواست کی کہ آپ ابھی تک کیوں بیٹھے ہوئے ہیں، سب جگہیں سقوط کرچکی ہیں اور یہاں ابھی تک کوئی کام انجام نہیں پایا ہے؟ قزوین کا ماجرا بھی انہیں سنایا۔ خوش قستمی سے یہاں بھی مراغہ کی آرمرڈ فورسز کا راستہ روکا گیا تھا اور وہ تبریز میں داخل نہیں ہو پائی تھیں۔ آیت اللہ قاضی کو کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو یہاں بھی اقدامات انجام دیئے ائیں۔

آیت اللہ قاضی کے حکم پر حاجی میرزا عبدالحمید بنابی اور سارجنٹ محمد زادہ کو جو کہ جنرل بیدآبادی کے دفتر کے انچارج تھے گھر بلوایا گیا۔ محمد زادہ آیت اللہ قاضی کے مریدوں میں سے تھے۔ محمد زادہ اور بنابی نے جا کر آیت اللہ قاضی کی تحریر بید آبادی کو دکھائی جو اسوقت تبریز کے بیرکس کا کمانڈر تھا اور کہا کہ یہ بیرکس فی الحال امام خمینی رح کے نمائندے کے زیر نظر کام کرے گا اور بیدآبدی کو بغیر کسی مزاحمت کے نہتا کرکے آیت اللہ قاضی کے گھر لے آئے۔ بیدآبادی آیت اللہ قاضی کے گھر میں نہایت محترمانہ انداز سے قید کیا جاچکا تھا اور یہ خبر کہیں بھی نہیں پھیلی تھی۔ ظہر کے بعد عوام کو خبر ملی کہ تبریز کی فوجی بیرکس بھی سقوط کرگئی ہیں۔

دوپہر تین بجے کا وقت تھا کہ ہمیں خبر ملی کہ بیرکس پر حملہ کردیا گیا ہے اور ہم ایک گاڑی میں سوار ہو کر وہاں پہنچے۔ میں نے بیرکس کے سامنے دیکھا کہ ایک شخص دو عدد اسلحہ اٹھائے بھاگ رہا ہے میں فورا گاڑی سے نیچے اترا اور اسے دومرتبہ روکنے کی رواننگ دی لیکن وہ نہیں رکا لیکن جیسے ہی میں نہتے ہاتھ ہونے کے باجود چلایا"فائر" وہ اسلحہ زمین پر رکھ کر بھاگ اٹھا۔ میں نے اسلحہ اٹھایا اور گاڑی میں رکھ لیا۔ جیسے ہی بیرکس پہنچا دیکھا ایک میجر وہاں بیٹھا رو رہا ہے کہ ان بیرکس کو لوٹا جارہا ہے۔ میں نے اس سے کہا تو تم ان کو لوٹنے نہ دو اور اسے ہوائی فائر کرنے کا حکم دیا۔ بیرکس کے اندر ایک انڈر پاس تھا وہاں سے بھی ہمیں کچھ اسلحہ ملا پھر ہم نے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا جو شخص بھی اسلحلہ لے جاتے ہوئے نظر آیا اس کو گولی مار دی جائے گی۔ اکثریت ان افراد کی تھی جو یا تو بچے تھے یا انہیں اس جدوجہد سے کوئی سروکار نہیں تھا اور موقع پرست تھے۔

البتہ جو اسلحہ لے کر جارہے تھے ان میں سے اکثر یا خراب تھا یا قابل استعمال نہیں تھا۔ جتنا اسلحہ جمع کرسکتے تھے کرکے آیت اللہ قاضی کے گھر بھجوا دیا گیا تاکہ اس کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے۔

مغرب کی اذان کے بعد بیرکس کے انچارج کو کہا کہ اب تم اسے سنبھالو اور اسکی حفاظت کرو۔ بچوں کی طرح رو رو کر کہہ رہا تھا کہ تمہیں خدا کا واسطہ واپس نہ جاؤ اور رات یہیں گذارو۔ ہم نے کہا کہ ہم نہیں سوئیں گے اور شہر میں ہی ہیں یہاں پہرہ دیں گے، مت ڈرو۔

الحمدللہ تبریز میں فوجی بیرکس بھی سقوط کرگئے اور اسکے بعد تمام سرکاری ادارے ایک ایک کرکے قبضے میں آگئے۔

 

 

[1]  مهدی نعلبندی، اعدامم کنید (خاطرات محمدحسن عبدیزدانی)، تهران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 1388، ص 299.

 



 
صارفین کی تعداد: 380


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، بیسواں حصہ

ہندوستان میں گذارے ہوئے آخری سالوں میں ہمیں کئی ایک تلخ تجربات ہوئے  جیسے جنگ بندی کی قرارداد اور اس پر امام  خمینی کا ناخوش ہونا، خود امام خمینی کی رحلت اور ۱۳۶۹ میں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں تعینات ایرانی  سفیر شہید گنجی کی لاہور میں شہادت۔

جناب عبداللہ صالحی صاحب کی ڈائری سے انتخاب شدہ

یہ ایک معمولی سپاہی تھا جسے ٹیلی فون کی تار سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اس بے چارے سے کیا معلومات ملنی تھیں انکو۔ خیر، ہم نے جب حملہ کیا تو وہ تو بھاگ گیے لیکن یہ سپاہی بیچارا لٹکا رہ گیا۔ ابھی زندہ تھا۔ جیسے تیسے اسے نیچے اتارا۔ ٹیلی فون کی تار گوشت کو کاٹ کر اس کے پاؤں کی ہڈیوں تک پہونچا چکی تھی

کہنے لگا: اسکا دل بہت دھڑک رہا ہے۔۔۔۔۔۔

ایک پولیس والے نے پستول کے بٹ سے میرے سر پر مارا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ لوگ حقیقت میں مجھے مارنا چاہتے ہیں ۔ میں نے اپنے آپ سے کہا اب جب مارنا ہی چاہتے ہیں تو کیوں نہ میں ہی انہیں ماروں۔ ہمیں ان سے لڑنا چاہئے۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہہ رہا تھا اور میں نے اسی حالت میں اٹھ کر ان دو تین سپاہیوں کا مارا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام

کیمیکل بمباری کے عینی شاہدین کے واقعات

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۷ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۲ نومبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۷ دسمبر کو منعقد ہوگا۔"
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پرواگرام (۱)

ایک ملت، ایک رہبر اور ایک عظیم تحریک

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۹ واں پروگرام، جمعرات کی شام، ۲۴ جنوری ۲۰۱۹ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اس پروگرام میں علی دانش منفرد، ابراہیم اعتصام اور حجت الاسلام و المسلمین محمد جمشیدی نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے سالوں اور عراقی حکومت میں اسیری کے دوران اپنے واقعات کو بیان کیا۔

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔