جناب عبداللہ صالحی صاحب کی ڈائری سے انتخاب شدہ

فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2022-07-01


28ستمبر 1980 کا دن تھا۔ خرمشهر کے محلہ طالقانی کے گلی کوچوں تک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ مسلح بکتر بند گاڑیوں سے ہمارا سامنا تھا۔ یہاں پھرتی اور رفتار سے لڑنا زیادہ اہم تھا۔ ذرا سی بھی دیر ہماری موت کا باعث بن سکتی تھی۔ میں خود گلیوں کے نکڑ پہ گھات لگاتا تا کہ عراقیوں کی غفلت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ایسے ہی ایک موقع پر میں اپنی گاڑی بند کر کے ان کا انتظار کرنے لگا۔ ساتھ والی گلی سے رونے کی آواز آرہی تھی۔ در اصل کئی لوگوں نے ابھی تک شہر سے ہجرت نہیں کی تھی۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور بند گلی کے آخر تک پہونچا۔ البتہ میں الٹی گاڑی  لے کر اندر گیا تھا تا بھاگنے کے لیے احتیاط کا راستہ باقی رہے، خیر گھر کے سامنے گاڑی سے میں اترا۔ دروازہ کھٹکھٹاتے ہی بکتربند گاڑی کی آواز سنائی دی۔ میں اپنی گاڑی کی طرف لپکا۔ گلی بند تھی، سو بھاگنے کا راستہ نہیں تھا۔ اور مجھے پہلے ہی راکٹ میں بکتربند کا کام تمام کرنا تھا۔ بکتربند کی آواز سن کر رونے کی آوازیں مزید بلند ہوگئیں، اتنے میں بکتربند نے ہماری ہی گلی کا رخ کر لیا، اب معلوم نہیں فوجیوں نے ان بیچاروں کے رونے کی آواز سن لی تھی یا مجھے دیکھ لیا تھا، بے ساختہ میرے منہ سے نکلا: یا عباس ع۔ اور پھر میں نے ٹریگر دبا دیا۔ اگلے ہی لمحے راکٹ نے بکتربند کو ہوا میں اڑا دیا۔ اندر بیٹھے دو فوجیوں کو آگ نے اپنی لپیٹ میں لے لیا، گاڑی سے باہر نکلے اور چند قدم سے زیادہ نہ بھاگ پائے اور گر گئے۔ اب یہاں رکنا گویا دیدہ و دانستہ اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے مترادف تھا۔ ضرور اس بکتر بند کے پیچھے ٹینک تھے جو ابھی پہونچنے ہی والے تھے۔ میں نے گھر کے اندر والوں کو گھر سے باہر نکالا۔ ایک بوڑھا مرد، ایک بوڑھی خاتون اور چند بچے جو انکے پوتے تھے۔ میں نے کہا:
"اب یہان رکنے کی جگہ نہیں۔ جلدی نکلیں۔"
انہوں نے کہا:
"کہاں جائیں کیسے جائین! گاڑی نہی، ورنہ کب کے جاچکے ہوتے۔۔"
میں نے کہا: 
"اس گاڑی میں بیٹھین، میں خود کہیں پہونچاتا ہون۔"
خیر ہم وہاں سے نکلے اور خرمشہر  پل کی طرف روانہ ہوے. عراقیوں کے بم ہمارے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ جن کی آواز سے وہ بوڑھی خاتون اور بچے ڈر کے مارے چلا رہے تھے۔ہم پل پہ پہونچے۔ہم سے آگے ایک گاڑی جارہی تھی۔ فاصلہ اتنا کم تھا کہ اندر بیٹھے مسافروں کو، جو ایک ہی گھر کے افراد تھے، ہم دیکھ پا رہے تھے۔ بمباری کی وجہ سے سڑک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ تھی۔ اسی وجہ سے گاڑی تیز چلانا ممکن نہیں تھا۔ آگے والی گاڑی نے قدرے رفتار سے پل کو عبور کیا، اس سے ہمارا درمیانی فاصلہ زیادہ ہوگیا۔ میں بھی ورد بزبان تھا تاکہ اس کی برکت سے ان مسافروں کو پل کے اس پار پہونچا دوں۔ پل عبور کرنے بعد ہم نے کیا دیکھا کہ وہی گاڑی بم کا نشانہ بن چکی تھی۔ مسافر جل چکے تھے۔ ہم سواے افسوس کے کچھ اور کر بھی کیا سکتے تھے۔ رکتے تو ہم بھی کسی بم کی زد میں آجاتے۔ سو، رکے بغیر اور افسوس کرتے ہوے ہم آگے بڑھ گئے، آگے "کوی بہروز" نامی مقام پر پہونچے۔ جو کافی امن و امان والی جگہ تھی۔ مسافروں کا اترتے وقت اصرار تھا کہ میرا ہاتھ چومیں۔ میں نے خدا حافظی کی اور اسلحے والے ٹرک کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہاں سے توپ کے گولے گاڑی میں لوڈ کیے اور دوبارہ خرمشهر کی راہ لی۔ چھاؤنی میں افراد کی کمی تھی۔ جو تھے وہ ایک وقت میں کئی کام نمٹا رہے تھے۔ یوں لگا کہ مجھے بھی اپنا کام اکیلے کرنا پڑے گا۔ کسی نے کہا: "کیوں مولانا رضوی کو ساتھ نہیں لے کر جاتے؟" میں ان کو نہیں جانتا تھا۔ وہ عالم دین تھے اور خرمشہر مدد کے لئے آے تھے۔ البتہ توپ اور بندوق وغیرہ سے انہیں نہ لگاؤ تھا اور نہ معلومات۔ ایسے میں ان کو ساتھ رکھنا خطرے مول لینے والی بات تھی، جیسے آقای اراکی والے معاملے میں ہوا تھا۔ لیکن مرتا کیا نہ کرتا۔ مجھے ایک آدمی کی اشد ضرورت تھی۔ اور لے دے کے یہی ایک مولانا ہاتھ لگے۔ ان کو ساتھ لیا اور روانہ ہوگئے۔ مولانا عبا اور عمامہ کے ساتھ ہی چل پڑے۔ میں نے کہا:
"آقا صاحب! اس لباس مین مشکل تو نہیں ہورہی؟"
کہنے لگے: نہیں، ٹھیک ہے۔
میں نے کہا: "عمامہ اتار دیں۔ سفید ہے نا۔ دور سے با آسانی نظر آرہا ہے۔ دیکھتے ہی بم مار دیں گے اور پھر نہ آپ بچیں گے، نہ میں اور نہ یہ توپ۔"
سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوے انہوں نے جلد ہی عمامہ اتارا اور بیگ میں رکھ دیا۔
طالقانی ٹاؤن کی سڑکوں پہ عراقیوں سے نبرد آزمائی جاری تھی۔ سو میٹر کے فاصلے پر ایک ٹرک اور کار کھڑی تھی۔ در اصل کار والے اپنے سامان سمیت یہاں سے نکلنا چاہ رہے تھے۔ ٹرک سامان لادنے کے لئے لاے تھے۔ اگرچہ سامان کی خاطر رکنا انتہائی خطرناک تھا۔ لیکن امید کے آسرے پہ وہ لوگ خطرہ مول لے رہے تھے۔ ہماری پوری توجہ عراقیوں کی طرف تھی۔ اکا دکا بم بھی ان کی طرف سے آرہے تھے۔ خیر، ان لوگوں نے سامان لاد دیا اور بس نکلنے ہی لگے تھے۔ مجھے بھی خوشی کا احساس ہوا کہ یہ لوگ خیر و عافیت سے یہاں سے نکل جائیں گے۔ لیکن افسوس، ٹرک کے سٹارٹ ہوتے ہی ایک بم سیدھا آکر ٹرک کی چھت پہ لگا۔ ہم ٹرک کی سمت بھاگے۔ اندر بیٹھے سبھی افراد آگ کی لپیٹ میں تھے۔ ٹرک کے دروازے نہی کھل رہے تھے۔ ان کی داد و فریاد سنائی دے رہی تھی، لیکن افسوس ہم ان کے لئے بھی کچھ نہیں کرپائے۔دیکھتے ہی دیکھتے پورا گھرانہ سامان سمیت نظر آتش ہو گیا۔ میرا تو دل کلیجہ منہ کو آرہا تھا۔
انتیس ستمبر کو عراقیوں نے چھاونی کی طرف پیش قدمی کی۔ شروع میں تو ہم ان کو نہیں روک پاے۔ ہمارے سرکاری کوارٹر چھاؤنی کے ساتھ ہی تھے، اور ہر عمارت پانچ منزلہ تھی اور ہر اپارٹمنٹ ایک سو چالیس میٹر پر محیط تھا۔ سب کوارٹر عراقیوں کے قبضہ میں آچکے تھے۔ ہم دور سے انکو دیکھ رہے تھے۔ وہ بڑی تعداد میں ان گھر میں گھسے اور سامان نکال نکال کر باہر لانا شروع کیا۔ وہ اس لوٹ مار میں آزاد تھے۔ جو سامان اٹھایا نہیں جارہا تھا اسے، اسی منزل سے نیچے گرا رہے تھے۔ ٹی وی، سلائی مشین اور اس طرح کی دیگر اشیاء وہ خوشی خوشی اپنے ٹینکوں کی طرف لے جارہے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔ توپ کو سیٹ کیا اور چند بم ان کی طرف فائر کر دیے۔ بم سیدھے ان کی صفوں میں جا کر لگے۔ یوں وہ لوٹ مار سے دستبردار ہوگئے۔ لیکن چند ہی گھنٹوں بعد عراقی ٹینک اہواز پہونچ گئے جن میں سے دو کو صابن فیکٹری کے نزدیک تباہ کر دیا گیا تھا۔ لیکن جو آگے آے تھے ان کو ہم نے اپنی توپوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔
عراقیوں کے فرار کے بعد ہم نے گھروں کی خبر لی۔ جو ان وحشیوں کے ہاتھ لگا انہوں نے لوٹ لیا تھا اور جسے لوٹ نہ سکے اسے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ ایک نے تو قالین بھی نجس کر دیا تھا۔ ان حالات میں دھونے سے بھتر یہی تھا کہ اسے ہم آگ لگا دیں۔ اسی ارادے سے قالین کو نیچے پھینکا اور آگ لگا دی۔اتنے میں ایک سپاہی دوڑتا ہوا اور مدد مانگنے لگا۔ اصل میں عراقیوں نے چھاونی کے ایک سپاہی کو ہاتھ پاؤں باندھ کر پانچویں منزل سے الٹا لٹکا دیا تھا۔
یہ ایک معمولی سپاہی تھا جسے ٹیلی فون کی تار سے الٹا لٹکایا گیا تھا۔ اس بے چارے سے کیا معلومات ملنی تھیں انکو۔ خیر، ہم نے جب حملہ کیا تو وہ تو بھاگ گیے لیکن یہ سپاہی بیچارا لٹکا رہ گیا۔ ابھی زندہ تھا۔ جیسے تیسے اسے نیچے اتارا۔ ٹیلی فون کی تار گوشت کو کاٹ کر اس کے پاؤں کی ہڈیوں تک پہونچا چکی تھی۔ زیادہ دیر الٹا لٹکے رہنے کی وجہ سے بیچارہ بول نہیں پا رہا تھا۔ بدن کا سارا خون اس کے سر میں جمع ہو چکا تھا۔۔۔



 
صارفین کی تعداد: 194


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 
حسن مولائی کی یادیں

سو افراد، سینکڑوں افراد، ہزاروں

وہ لوگ جو چند گھنٹوں پہلے جمرات جا رہے تھے تاکہ رمی جمرات کا فریضہ ادا کرسکیں اب تولیہ اوڑھے سو رہے تھے۔ جب جنازے ختم ہوئے، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ مجھے کہاں لوٹنا چاہئیے۔ اچانک میرے پیروں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور میں نے پہلی مرتبہ وہاں گریہ کرنا شروع کردیا۔ واپس پلٹ کر ان سفید پیکروں کو دیکھنا شروع کیا۔ پوری سڑک جنازوں سے سفید ہوچکی تھی۔ ایک جوان مرد کی آواز پر چونکا جو میرے ساتھ کھڑا تھا اور میرے پیروں کے سامنے چپلیں رکھ رہا تھا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔