ایران میں ایک جاپانی ماں کی داستان

انتخاب: فائزہ ساسانی خواہ
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2022-07-07


1983 کے موسم بہار کی آمد تھی۔ گھر کے سبھی افراد "ھفت سین" کے دسترخوان پہ جمع ہوئے اور نئے سال کے آغاز کی دعا میں مشغول ہوگئے۔ دعا کے بعد امام خمینی رح کا نوروز کا پیغام سننے کی خاطر ٹی وی لگا کر بیٹھ گئے۔ امام خمینی رح  نے حسب سابق قرآن کریم کی تلاوت کی اور بچوں میں عیدی تقسیم کی۔ ان دنوں سب کی نگاہیں محمد پر تھیں جو دوبارہ محاذ جنگ پہ جانا چاہ رہا تھا۔ نوروز کے ایام تھے۔ محمد نے کہا: " امی آپ کو یاد ہے نا جب میں سکول جایا کرتا تھا تو ایک بار آپ نے میرے بال بنائے تھے؟!" میں نے خوشی سے کہا: ہاں بہت اچھی طرح یاد ہے۔ یہ بھی یاد ہے کہ جب تمہارے بال بہت چھوٹے ہوگئے تو آئینہ دیکھ کر تم نے کہا تھا: "بہت برے لگ رہے ہیں۔"


محمد نے ہنستے ہوئے کہا: "اتنے برے لگ رہے تھے کہ اگلے دن جب میں سکول گیا تھا تو ٹیچر نے کہا کہ اب تمہارے ڈسپلن کے نمبر کٹیں گے۔ مجبور ہو کر میں حجام کے پاس گیا۔ وہ بھی بہت  باتیں کرنے لگا کہ پہلے کیوں نہیں آے میرے پاس؟!"


خیر، میں نے پوچھا: "اب بال بنوانے کا قصہ کیسے یاد آگیا؟!"


کہنے لگا: "میں چاہتا ہوں آپ آج پھر میرے بال بنائیں۔" مامتا بھری مسکراہٹ میرے چہرے پہ آئی، میں نے کہا: "اب پھر خراب کاٹوں گی بال!" محمد نے دیر نہ کی۔ جھٹ سے کنگھی قینچی لا کر میرے ہاتھ میں تھما دی۔ میں اپنے آنسو روک لئے تھے۔ لاڈ پیار میں اس کے بال بنانا شروع کردیئے۔ جب بال بن چکے تو محمد نے کہا: "ایک شہید کی جاپانی ماں کی سلامتی کے لئے صلوات۔" اور خود بھی اونچی آواز میں صلوات پڑھتے ہوئے کرسی سے اٹھا اور میرے مدمقابل کھڑا ہو گیا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے لگا کہ وہ پہلے کی نسبت کس قدر بڑا اور خوبرو ہو چکا ہے۔ اچانک ایسا لگا جیسے میرا دل مجھے کہہ رہا تھا کہ میں اپنے بیٹے کو دوبارہ نہیں دیکھ پاؤں گی، یہ آخری ملاقات ھے۔ اگلے دن صبح اس نے بیگ اٹھایا اور سب گھر والوں سے خداحافظی کر کے روانہ ہوگیا۔


اسے ابھی گئے ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بسیجیوں کی جانب سے ایک خط مجھے موصول ہوا۔ لفافے پر محمد کے دستخط دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ خط کھولا تو اس میں لکھا تھا: " پہلے میں مغربی جنگی محاذوں پر، جو پہاڑی علاقوں میں ہیں، مصروف تھا۔ لیکن اب جنوبی علاقے کی طرف آگیا ہوں۔ یہاں ایسے بیابان ہیں جو شہیدوں کی قدمگاه ہیں۔ یہاں کی مٹی ان کا بے گناہ خون اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ خون اس لئے گرا تا یہ ملک دشمنوں سے محفوظ رہ سکے۔ خدا کی قسم یہاں سے جانے کو دل نہیں کرتا۔" روتے ہوئے خط میں نے کئی بار پڑھا۔ مجھےفخر کا احساس ہوا۔ میرے شوہر نے بھی خط پڑھا تو کہنے لگے: "محمد نے درست راستے کا انتخاب کیا ہے۔ ہم اللہ کی رضا پہ راضی ہیں۔" ان کی زبان سے یہ جملہ سن کر میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے ایمان کی بدولت اور جہاد کی حقیقت سے آگاہی کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی سانحے کے لئے تیار ہیں۔ میری بھی یہ کوشش رہنے لگی کہ قرآن مجید کی تلاوت کی برکت سے اپنے یقین اور قلبی سکون میں اضافہ کروں۔ کچھ دنوں بعد تمام ملکی اخبارات میں ایران کی جانب سے والفجر آپریشن میں بڑے حملے کی خبر چلنے لگی۔


13 اپریل کو میں رفاہ سکول میں بچیوں کی کلاس لینے میں مصروف تھی کہ اچانک میرا دل بیٹھنے لگا۔ ایک دل دہلا دینے والی کیفیت طاری ہوئی اور پھر میں زار و قطار رونے لگی۔ طالبات مجھے تعجب سے دیکھ رہی تھیں۔ خود مجھے بھی نہیں سمجھ نہیں آئی کہ اچانک کیوں ایسا ہوا۔ اکثر طالبات ملک کی بڑی شخصیات کی بیٹیاں تھیں۔ میں خود پہ قابو نہ رکھ پائی اور کلاس سے باہر آگئی۔ ایک لڑکی نے باہر آکر مجھ سے پوچھ ہی لیا کہ: خانم بابائی، آپ کا بیٹا محاذ پہ گیا ھے۔ خدا نخواستہ اسے تو کچھ نہیں ہوا؟!" میں نے کہا: "میں خود بھی نہیں جانتی۔ بس ایک دم یوں لگا جیسے جان نکلی جارہی ہے۔ سکول میں میں نے نہ اطلاع دی اور نہ کسی سے خداحافظی کی، بس سیدھی گھر آگئی۔ گھر سب نارمل تھا۔ سلمان اپنی لیبارٹری میں کام میں مشغول تھا۔ بلقیس اور زینب دونوں کھیل رہی تھیں۔ شام کو میرے شوہر گھر آئے تو میرا اڑا ہوا رنگ دیکھ کر کہا: خانم آپ کی طبیعت اچھی نہیں لگ رہی!" میں نے کہا: "ابھی تو بھتر ہوں لیکن کلاس میں نہیں پتہ کیا ہوا اچانک دل بیٹھنے لگا۔؟! کیا محمد کو کچھ ہوا ہے؟!' وہ بولے: "نہیں۔" میرے شوہر مجھ سے کچھ چھپاتے نہیں۔ اگر علم ہوتا تو لازمی آگاہ کرتے۔ اس رات وہ اور سلمان نماز مغرب ادا کرنے مسجد انصار الحسین ع گئے۔ نماز کے بعد میرے شوہر خلاف معمول جلدی واپس آگئے؛ چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ بالکل بات نہیں کر پا رہے تھے۔ میں نے پوچھا: "محمد شہید ہوگیا کیا؟"۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور سر جھکا دیا۔ میں گر گئی۔ زار و قطار رونے لگی۔ بلقیس نے میرے رونے کی آواز سنی تو وہ بھی رونے لگی۔ لیکن میرے شوہر بالکل چپ چاپ ایک جگہ نظریں ٹکائے رہ گئے۔ جب میری بے تابی دیکھی تو بولنے لگے: "محمد کی صورت میں اللہ کی ایک امانت تھی ہمارے پاس جو اس نے واپس لے لی۔ ہمیں بھی اس کی رضا پر راضی رہنا ہوگا۔" میں روتے ہوئے اٹھی اور وضو کیا۔ کچھ دیر میں سلمان بھی آگیا۔ اس کی خاموشی اور آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے بھی پتہ ہے۔ اس رات اہل محلہ کی بڑی تعداد اور امام جماعت کافی سارے نمازیوں کے ساتھ ہمارے گھر آئے تھے۔ میں دیگر شہدا کی ماؤں کے سامنے نہیں رو رہی تھی لیکن غم کا ایک پہاڑ تھا جو دل پر تھا۔ اگلے دن سے عزیز و اقارب اور لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو کئی روز جاری رہا۔ باہر گلی میں رکھا ہوئے بورڈ، جس پر محمد کی تصویر لگی تھی، پر جب بھی نگاہ پڑتی تھی میرا دل کلیجہ منہ کو آ جاتا۔ اور اس کی خدا حافظی کا منظر آنکھوں کے سامنے مجسم ہوجاتا۔


کچھ دنوں بعد میں اکیلے گھر میں بیٹھی تھی کہ دروازے پہ دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دو پولیس والوں کو پایا۔ کہنے لگے: "یہ محمد کا بیگ ہے۔" بیگ لیتے ہی دروازہ بند کر دیا اور وہیں بیٹھ گئی۔ بیگ سے مجھے محمد کی خوشبو آرہی تھی۔ ایک چھوٹا سا قرآن مجید اور تعقیبات نماز بیگ میں تھی۔ میرا دکھ پھر سے تازہ ہوگیا۔ اب ایسے ماتم کرنے لگی جیسے ایرانی شہدا کی ماؤں کو دیکھا۔ شاید اس سے پہلے میں نے خود کو حضرت زینب ع کے زیادہ قریب نہیں پایا تھا۔ میرے میاں ہمیشہ مجھے ماتمداری اور مصائب کا فلسفہ بتایا کرتے تھے اور اس کے بعد حاصل ہونے والے سکون کی طرف اشارہ کرتے۔ کچھ روز کے بعد مجھے واقعی سکون سا آگیا۔ البتہ دل میں ایک سنگینی کا احساس رہتا۔ ایک ہفتے بعد محمد کی میت ایک اور شہید کے ساتھ لائی گئی۔ نماز جنازہ میں شرکاء کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ بہت ساروں نے بہشت زہرا قبرستان تک جنازے کی ہمراہی کی تھی۔ محمد کو جب قبر میں اتارا گیا تو اس کا آخری دیدار کیا، چہرے پہ تازگی ایسی تھی جیسے دنیا جہاں کے غموں سے بے خبر سو رہا ہو، جیسے وہ بچپن میں سوتا تھا۔ میرے میاں نے میرا ہاتھ پکڑا اور ذرا پیچھے لے گئے۔ شہدا کمیٹی سے آے ہوئے فرد سے میرے شوہر نے کہا کہ قبر کے کتبے پر لکھو:


"ماں کا نام: کونیکو یامامورا"۔ اس سے پہلے کبھی میاں نے مجھے میرے جاپانی نام سے نہیں پکارا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ کہنا چاہتے کہ تم ایران میں واحد جاپانی خاتون ہو جو ایک شہید کی ماں ہے۔ اور یہ وہی جملہ تھا جو محمد نے خداحافظی والے دن کہا تھا۔ اس کے بعد جہاں میری نگاہ پڑتی اس کی یادیں تازہ ہوجاتیں۔ میری آرزو تھی کہ محمد کے ہم محاذ دوستوں کو دیکھوں۔ اتفاق سے آپریشن ختم ہونے کے بعد ان میں سے کچھ جوان ہمارے گھر بھی آئے۔ سلمان نے مجھے بتایا تھا کہ محمد کا سب سے قریبی دوست احمد نصر اللھی نامی جوان ھے۔ وہ بھی آیا تھا۔ اس کی خاموش اور غمگین حالت دیکھ کر یہی لگ رہا تھا کہ وہ اس موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کے دوست بتا رہے تھے کہ محمد کی میت کو وہی اٹھا کر پیچھے لایا تھا۔ میرے میاں نے جیسے ہی یہ سنا تو اس سے اصرار کرنے لگے کہ بتاؤ اس رات کیا واقعہ اور کیسے پیش آیا تھا۔ اس نے سر جھکا دیا اور نہ چاہتے ہوئے بولنے لگا:
" ہم شرهانی کے علاقے میں تھے اور پیدل فوجیوں کی روانگی سے قبل، رکاوٹوں کو ہٹانے والی بٹالین کے ساتھ ہم جلدی روانہ ہوگئے تاکہ بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا جاسکے اور مشن کامیاب کرنے کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔ بظاہر دشمن ہم سے نبرد آزمائی کے لیے تیار تھا۔ جونہی کچھ سرنگوں کو ناکارہ بنایا گیا تو دشمن نے ماہور کے ٹیلوں پر مشین گن کا فائر کھول دیا۔ فائرنگ اس قدر شدید تھی کہ ہم زمین سے چپک کر رہ گئے۔ محمد میرے ساتھ تھا۔ ہم نے اپنی آہنی ٹوپیوں سے زمین کھودنا شروع کردی تا کہ اوٹ بنا کر جان بچائی جاسکے۔ لیکن زمین سخت تھی۔ 60 ملی میٹر کے مارٹر گولے اور مشین گن کی فائرنگ بغیر کسی وقفے کے جاری تھی۔ ہم نے وہ ٹوپیاں سر پر رکھیں کہ "اتنے میں وائرلیس پہ پیغام آیا کہ پیادہ دستوں کی آمد ممکن نہیں، آپ لوگ بھی پیچھے واپس آجائین۔" اتنے میں میں نے دیکھا کہ محمد کا سر ایک طرف جھک گیا۔ در اصل بم کا ٹکڑا اس کی آہنی ٹوپی سے گزر کر اس کے سر میں پیوست ہو چکا تھا۔اور سر کے پچھلے حصے سے خون جاری تھا۔"



 
صارفین کی تعداد: 552


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

تم اشارہ کرتے کہ زیادہ نہ ماریں

ہمارے تفتیشی افسر کا نام رحیم خانی تھا، جو بہت عجیب، عمدہ اور ماہرانہ طریقے سے کام کرتا تھا۔ہم میں سے جس سے بھی پوچھ گچھ کرتا ، کہتا تھا،" میں نے سنا ہے کہ تمہیں قید میں مارتے ہیں؟اگر کوئی شکایت  ہے تو بتاوَتاکہ اسکی خبر لگاوَں
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔