ایک شام بیتی یادوں کے نام

صحت و سلامتی کے محافظ

ترتیب: محترمہ سپیدہ خلوصیان
ترجمہ: سید نعیم حسین شاہ

2022-10-26


اس سیمینار کا انعقاد 26 مئی 2022 کو سورہ آرٹ کلب میں ہوا جس میں ڈاکٹر حضرات اور صحت و سلامتی کے ذمہ دار اہلکاروں نے شرکت کی، جناب داود صالحی سٹیج سیکرٹری تھے۔ اس سیمینار میں صحت و سلامتی کی راہ میں  شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ،  ادارہ صحت کے عملہ کے اراکین اور رضا کار حضرات نے شرکت کی اور کرونا وائرس کے آغاز اور پھر اس کے شدت پکڑنے تک کے واقعات پر گفتگو کی۔


ساتویں راوی جناب محمد جواد سلیمان تھے جنہوں نے کرونا کے سخت ایام میں اپنی فعالیت کو بیان کیا اور کہا: " ہم علما، وہ لوگ ہیں جو آپ کی زندگی کے پہلے مرحلے سے لے کر آخری مرحلے تک آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ ہمارے لباس سے آشنا ہیں، بلکہ حتی آپ میں سے کئی ایک کے والدین نے تو شادی سے پہلے شادی کے متعلق ہم سے مشورے لیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم آپ کی ولادت سے بھی پہلے کے آپ کے ساتھ تھے۔ ولادت کے موقع پر نومولود کے کان میں اذان اور اقامت ہم پڑھتے رہے اور پھر ان کے نکاح بھی پڑھاے، ہاں ایک کام تھا جو ہم نے نہیں کیا تھا اور وہ تھا میت کو غسل دینا، اور جب کرونا وائرس پھیلا تو یہ فرائض بھی ہم نے ہی سنبھالے!


یہ انہی دنوں کا واقعہ ہے کہ مجھے اپنی بیگم کے ساتھ مشھد زیارت کے لیے جانے کا موقع ملا، ہم ایئرپورٹ پہونچے، ابھی جہاز میں سوار ہوے ہی تھے کہ اچانک بیگم بولیں:  "ایک اہم بات ابھی یاد آئی۔۔۔ رہبر معظم نے آپ کا شکریہ ادا کیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ: "ہم ان ڈاکٹر اور نرسنگ اسٹاف کے افراد کے نہایت شکر گزار ہیں جو ان کٹھن ایام میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ہم پہلے بھی شکریہ ادا کر چکے ہیں اور اب بھی مشکور ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان رضا کار جوانوں اور دینی طلاب کے بھی ممنون احسان ہین جو ان سخت حالات میں جان ہتھیلی پہ رکھ کر غسل کفن دفن تک کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔"


یہ بات سن کر مجھ پہ عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی، جہاز کے اڑنے سے پہلے میں نے خود کو بادلوں کی بلندیوں پہ محسوس کیا۔ میں نے اپنے آپ سے کہا کہ: اگر ہم ایسے کاموں کو بار بار انجام دیں اور امام زمانہ عج کی خوشنودی کے لیے قدم اٹھائیں تو اس وقت اس زندگی کی مٹھاس کتنی ہوگی۔" اور یہ بہت شیرین احساس تھا اور میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ جو لوگ یہاں تھے انہوں نے بھی رہبر معظم انقلاب کی اس گفتگو سے فخر کا احساس کیا ہوگا۔


ایک دن ایک دوست نے فون کیا اور پوچھا کہ: "کیا "مسیح دانشوری ہاسپٹل" میں آپ کا کوئی جاننے والا ہے؟ اگر ہے تو مجھے اپنے بھائی کے لیے تعاون کی ضرورت ہے"۔ میں نے فون کر کے کہا کہ اس طرح میرے ایک جاننے والے آے ہیں، ان کی ہر ممکنہ مدد کی جاے۔ اس وقت انہوں نے بھی اوکے کردیا۔ دوبارہ میں نے فون کیا تو پتہ چلا کہ آدھا گھنٹہ پہلے اس بیمار کا انتقال ہوگیا ۔۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اب کیسے اس دوست کو یہ خبر دوں، خیر اس کو میں نے فون کیا اور آرام آرام سے سب بتا دیا اور ایسی اطلاع دینا ایک نہایت سخت کام ہے۔


خیر ہم نے ابتدائی ایام میں ہسپتال جانا شروع کیا اور کرونا کے بیماروں کو تیمم کروانے کی ذمہ داری لے لی۔ البتہ یہ منظر بھی وحشتناک تھا۔ ہم خلائی مخلوق جیسا لباس پہن لیتے اور وارڈ میں داخل ہوتے۔ مطلب اس کام کی تھیوری کتابوں میں تو پڑھ رکھی تھی مگر اب اس کو عملی طور پر انجام دینے کا وقت تھا۔ اور پھر اس وقت تک کسی مردے کو ہاتھ تک بھی نہیں لگایا تھا، اب تو غسل دینے کی نوبت آچکی تھی۔ یا یوں کہوں کہ حج کے اعمال کے بارے میں کتابیں تو بہت پڑھ چکے تھے لیکن حج پہ جانا نصیب نہ ہوا ہو تو اکثر یہی سوچوں گا نا کہ حج کا سفر کیسا ہے۔ پروردگار آقاے مجتہدی کے درجات بلند فرماے، انہوں نے یہ باتیں ہمیں بتائی تھیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ پہلی بار جب میں گھر واپس پہونچا تو جوتوں کپڑوں اور جیکٹ سمیت شاور کے نیچے گھس گیا، کیونکہ در اصل اس بیماری کے بارے میں درست آگاہی نہیں تھی۔


انہی دنوں ہسپتال کے انچارج نے مجھے کال کی اور کہا کہ آپ آجائیں اور ہسپتال میں میت کو غسل دینے کے لیے غسال خانہ تعمیر کریں۔ میں نے اس وقت تک کوئی ایسا تعمیراتی کام نہیں کیا تھا لیکن میں گیا اور معائنے کے بعد ایک چھوٹے سے کمرے کا انتخاب کیا کیونکہ یہ سیوریج پائپ لائن کے نزدیک تھا۔ لیکن اگلے دن ہی قبرستان بہشت زہرا سلام اللہ علیہا نے ہمیں اس بات کی اجازت دے دی کہ ہم وہیں میت کو غسل دیں۔ خیر ہم نے لوازمات لیے اور خوف و وحشت کی کیفیت کے ساتھ وہاں پونچ گئے۔ پہلا دن تو ذرا سخت تھا۔ وہاں کے افراد نے ہم سے پوچھا کہ کیا آپ مردوں کو ہاتھ لگانے یا غسل دینے کے خطرات سے نہیں ڈرتے؟ ہم نے پوچھا کہ آپ کیوں نہیں غسل دیتے؟ تو اس کا جواب یہ ملا کہ اتنے بڑے پیمانے پر اس غسل کا پانی کہاں جائے گا؟

جواب میں ہم نے کہا کہ جہاں زندہ افراد کا پانی جاتا ہے۔۔۔ تو وہ پھر سے کہنے لگے کہ زندہ افراد کے پانی کی سیوریج لائن الگ ہے۔ پھر ہم  نے سوال کیا کہ اس بیمار کا پانی کہاں جاےگا جو قدرے بہتر ہے اور گھر میں ہے؟! وہ بھی تو اسی سیوریج لائن میں ہی جاے گا نا۔۔۔؟! خیر ایسی بحث کا زیادہ فائدہ نہیں تھا۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ ہم اپنے بارے میں بھی ڈرتے تھے لیکن گفتگو میں وہ ہم سے آگے نہ نکل پاتے۔
اس سے پہلے کچھ قصبوں کے جوانوں نے یہ کام شروع کردیا تھا۔ ہم نے اس کا آغاز تہران اور کچھ دیگر جگہوں سے کیا۔ پہلے دن میں نے زیارت عاشورا پڑھی اور زرد رنگ کے کور میں لپٹی ہوئی میت کو غسل دینے کے لیے آستینیں چڑھا لیں۔ رفتہ رفتہ کچھ مزید حقائق بھی ہمارے سامنے آنے لگے۔ مثلا چند دنوں میں ہم نے دیکھا کہ سب میتیں کرونا کے مریضوں کی نہیں، شروع میں تو میں نزدیک جانے سے گھبرا رہا تھا، کیونکہ بالآخر میں بھی انسان ہوں، لیکن میں ان سے گفتگو کرتا، مثلا ان کو جب غسالخانے میں لایا جاتا تو میں ان کو خوش آمدید کہتا اور دعا دیتا کہ انشاء اللہ یہ وقت آپ کی آسانیوں کے آغاز کا ہو۔ 
ایک بار ایسے جوان کی میت لائی گئی جو اپنے گھر پہ فوت ہوا تھا، اس کی جیب سے پرفیوم کی شیشی برآمد ہوئی، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ اس جوان کی نگاہ میں خوشبو کتنی اہم تھی، پھر اسے دعا دی کہ انشاء اللہ جنت میں بھی اسے خوشبو والی جگہ نصیب ہو۔ تو یہ چیزیں دیکھ کر ہم دنیا و مافیہا کو بھول جاتے تھے۔ ایک بار آقاے زندگانی معاینہ کرنے کچھ ذمہ دار افراد کے ساتھ آے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کہا کہ برادر محترم آپ نے کیوں زحمت کی۔ ہمیں اپنا کام کرنے دیتے۔۔۔اور پھر وہیں سے دوستی ہوگئی۔ میں نے مزید کہا: ہماری حالت میں اس سے زیادہ بہتری ایسے نہیں آے گی۔ کاش آپ کسی سے مشورہ کر لیتے۔ اللہ ان کا بھلا کرے، اسی رات ٹی وی پہ انہوں نے یہی رائے پیش کر دی۔
ایک بار ایک شہید مدافع حرم کی میت لائی گئی جو جنگ میں زخمی ہو کر بعد شہید ہوے تھے۔ واقعی کچھ لوگ بہت متاثر کن شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ ہم ان میتوں کو واپس کرتے وقت ان کے بارے میں کچھ پوچھ گچھ کرتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ مثال کے طور پر یہ بندہ نماز تہجد کا پابند تھا یا مثلا فلاں اچھے کام کی عادی تھی اسے۔ اس کے بعد میری تقاریر میں اکثر یہ جملہ زبان پہ آجاتا کہ ہم اپنی عمر کے جس حصے میں ہوں، جس عہدے یا مقام پہ فائز ہوں، آخر ہم نے اس دنیا سے کوچ کرنی ہے۔ وہاں اس طرح کی فضا بنی ہوئی تھی۔ وہاں ایک بندہ تھا جس کی سب سے بڑی حاجت اللہ سے یہی تھی کہ اس کرونا بیماری کا خاتمہ ہوجاے۔
*جاری ہے۔۔۔*



 
صارفین کی تعداد: 297


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

مشترکہ کمیٹی کے زندان میں تبدیلی، سال ۱۳۵۷، پچاس کی دہائی

وہ ہمیں گاڑی میں سوار کرکے مشترکہ کمیٹی کی جیل میں لے گئے۔ اس وقت سڑکوں پر سناٹا طاری تھا۔ فوجی حکومت نے سڑکوں پر یوں دھاک بٹھا رکھی تھی جیسے شہر میں کوئی نہ ہو۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔