ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 48 واں حصہ

زینب عرفانیان
ترجمہ: سید صائب جعفری
ویرائش: یوشع ظفر حیاتی

2023-9-7


مہدی کی آواز میرے کانوں میں آرہی تھی مگر  میرا دماغ مجھے حکم نہیں دے رہا تھا کہ میں اس کو چپ کراوں اس کو تسلی دوں یا اس کو گلے لگا لوں۔ اسی عالم میں پولیس دوبارہ آ گئی اور چلا چلا کر پوچھنے لگی کہ ہم لوگ کہاں ہیں ؟ کیا کر رہے ہیں؟ مہدی نے جب دیکھا کہ میرا حجاب ہمیشہ کی مانند نہیں ہے اور میرے پیروں مِیں موزے نہیں ہیں  اور میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہوں تو اس نے ڈانٹ کر پولیس والوں کو باہر نکال دیا۔ اب خانہ فرہنگ کی پوری عمارت میں ہم تنہا تھے ۔ میں دوبارہ کمرے سے باہر آگئی اور تمام منظر کا پھر سے مشاہدہ کرنے لگی مگر میں اس حادثے کی گہرائی کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اگر سمجھ جاتی تو شاید زندہ نہ رہ پاتی۔ راہداری کو دیکھا تو اس میں بے حس و حرکت جسم پڑے تھے۔جن کے سروں کے نیچے خون کی نہریں جاری تھیں اس وقت میں سمجھی ہوا کیا ہے۔ دروازہ سے داخل ہونے کے بعد جو بھی ان کے سامنے آیا اس کو انہوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا  تاکہ کوئی مزاحمت نہ کرسکے۔  سب سے پہلے رحیم داد تھا اس کو کتنا ارمان تھا امام رضا علیہ السلام کی قدم بوسی کا اور اب وہ حقیقی قدم بوسی کو جا چکا تھا۔ اس سے کچھ فاصلے پر حبیب کی لاش پڑی تھی وہ شور شرابہ سن کر اپنے قول پر عمل کرنے کے لئے اطلاعات سے باہر نکلا تھا تاکہ علی کے کمرے کی طرف جائے اور اس کی حفاظت کرے سرِ راہ اس پر پورا برسٹ مارا گیا تھا  اور اس کا سینہ چھلنی تھا یعنی اس نے اپنا قول پورا کردیا تھا۔ اس کے چاکلیٹی قمیض شلوار کو اس کے خون نے سیاہ کردیا تھا۔میں اس کے قریب گئی تو خون کی بو میرے دماغ میں چڑھ گئی۔ حبیب کے بعد فقیر محمد، بڑھئی اور اس کے شاگرد کی لاشیں پڑیں تھیں سب کو بے دردی سے قتل کردیا گیا تھا۔ روز صبح صبح فقیر محمد جس راہداری کو  شعر پڑھتے ہوئے پونچھا لگا لگا کر چمکایا کرتا تھا آج وہ اس کے لہو سے رنگین ہو گئی تھی۔ راہداری کے آخر میں کمپیوٹر انچارج کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔اس بے چارے نے ڈر کے مارے خود کو میز کے نیچے چھپا لیا تھا۔اس کا نام دلدار حسین تھا اور ابھی نیا نیا خانہ فرہنگ میں ملازم بھرتی ہوا تھا اور دیگر لوگوں سے اس کی جان  پہچان بھی نہ ہوئی تھی۔اس کا کمزور جسم بھی خون میں ڈوبا ہوا میز کے نیچے پڑا تھا۔دہشت گردوں میں سے ہر ایک ایک شخص کو سنبھالتا اور باقی آگے  بڑھ جاتے تاکہ کمترین وقت میں اپنا کام نمٹا سکیں اور اپنا ہدف حاصل کرکے فرار کر جائیں۔ پہلے وہ ڈبنگ کے کمرے کو علی کا کمرہ سمجھے اور پر برسٹ مارا مگر  جب دیکھا کہ علی وہاں نہیں ہے تو اس کے برابر والے کمرے میں داخل ہو گئے جو واقعی علی کا کمرہ تھا۔علی نے جب یہ شور شرابہ سنا تھا تو وہ زہیر کے کمرے کا دروازہ بند کرکے اپنے دروازے کی طرف دوڑا تھا تاکہ ہماری خبر لے سکے مگر اجل نے مہلت نہ دی  اور اس کو دروازہ کے پاس ہی قتل کر دیا گیا۔ایک گولی  اس کے بازو میں لگی تھی اور ایک اس  کے حلقوم میں سوراخ کرتی ہوئی پار نکل گئی تھی۔اس کے بعد قاتل اسی دروازہ سے باہر نکل گئے تھے مگر جاتے ہوئے دروازہ قفل کر گئے تھے۔  خانہ فرہنگ کے دروازوں کے تالےگول دستی تھے جن کے بٹن کو اگر اندر سے دبا دیا جائے تو بغیر چابی کے باہر سے کوئی دروازہ نہیں کھول سکتا۔ دہشت گردوں نے یہی کام کیا تھا اسی لئے پولیس والے علی کو ڈھونڈنے میں مشکل سے دوچار تھے۔   زہیر سمیت سب یہی سمجھ رہے تھے کہ علی کے دفتر کا دروازہ بند ہے اور علی دفتر میں نہیں ہے۔ دہشت گردوں کا اصلی نشانہ علی تھا مگر ان کے راستے میں جو بھی آیا اس کو انہوں نے راستے ہٹا دیا تاکہ کوئی رکاوٹ  نہ بن سکے۔  مہدی نے جب حبیب کی لاش دیکھی تو دوبارہ رونے لگا فریاد کرنے لگا۔

-اے خدا۔بابا کو تو قتل کیا ہی تھا حبیب کو کیوں مار دیا؟

معلوم نہیں کتنی بار میں راہداری سے علی کے کمرے تک گئی اور واپس آئی اور کتنی بار سب لاشوں کو دیکھا۔ جب بھی گھر آتی تو سوچتی کہ یہ واقعہ حقیقی نہیں ہے اس لئے دوبارہ آجاتی تاکہ یقین حاصل کر سکوں۔ مہدی بھی میرے ساتھ ساتھ آجاتا تھا۔  ہم پریشان و سرگردان ، بے حس و حرکت پڑے لاشوں کے درمیان ،شہیدوں کے خون پر ٹہل رہے تھے۔جب بھی میں باہر آتی غیر ارادی طور پر راہداری سے گذر کر علی کے دفتر تک پہنچ جاتی۔  علی کے تازہ خون پر میرا پیر پڑتا تو کلیجہ منہ کو آجاتا وہ بے جان ہوا پڑا تھا۔ میرا سانس رک جاتا اور میں گھر پلٹ آتی گھر کے دروازے سے سر ٹکراتی اور رو پڑتی۔

اسی آمد و رفت کے دوران میں نے دیکھا کہ تیسری گولی علی کی تھوڑی میں لگی تھی اور اس کے بالوں کے درمیان سے اس کی کھوپڑی سے باہر نکل گئی تھی۔ اسی کے سبب اس کے سر سے خون کی ندی بہہ رہی تھی۔ مہدی نے پولیس کو باہر نکال دیا تھا اور دوسری طرف پولیس کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ حتیٰ کہ زہیر کی زوجہ کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔کوئی بھی میرے پاس نہیں تھا جو مجھے ایک سیلی لگا کر ہوش میں لاتا۔مہدی کا حال بھی برا تھا اس نے بھی یہ خون آشام منظر دیکھا تھا۔ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکتی کہ آخر کیوں میں اپنے حواس اس طرح سے کھو بیٹھی کہ میرا بچہ بےچارا دیواروں سے سر ٹکراتا رہا اور میں اس کو گلے بھی نہ لگا سکی۔



 
صارفین کی تعداد: 854


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

گل محمد شکاری کی یادیں

اگلی صبح علامان کے عوام اعلان پڑھنے کے لیے جمع ہوتے اور امام کا پیغام سب تک پہنچ جاتا ۔ ایک اور ذریعہ جو ہمیں اعلانات پہنچاتا تھا، کرنل مسعود وحیدی کے والدتھے ،جو  مجھے اعلانات  دیا کرتے تھے۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔