جہد مسلسل کا مثالی نمونہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی

سلام علی ابراہیم

یوشع ظفر حیاتی

2024-5-21


آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی مشہد مقدس کے ایک مذہبی اور متدین گھرانے میں نومبر ۱۹۶۰ کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بزرگوار حجت الاسلام سید حاجی رئیس الساداتی اور والدہ سیدہ عصمت خداداد حسینی کا سلسلہ نسب دونوں طرف سے سادات حسینی سے ملتا ہے۔ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی پانچ سال کی عمر میں ہی یتیم ہوگئے تھے جس کے بعد آپ کی تربیت کی ذمہ داری والدہ کے کاندھوں پر آگئی تھی۔

آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ جوادیہ میں حاصل کی اور پھر دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ نواب اور مدرسہ آیت اللہ موسوی نژاد جیسے شہیر مدارس کا رخ کیا۔ ۱۹۷۶ میں اپنے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے جہاں مدرسہ آیت اللہ بروجردی میں زیر تعلیم رہے اور کچھ عرصہ امام خمینی رہ کے زیر نظارت اور آیت اللہ پسندیدہ کی نظامت میں چلنے والے مدرسے سے بھی کسب فیض کیا۔

۱۹۷۶ میں ایران کے معروف اخبار "اطلاعات" میں امام خمینی رہ کے خلاف توہین آمیز آرٹیکل کی اشاعت کے بعد ایک عوامی تحریک کا آغاز ہوا۔ آیت اللہ رئیسی ان مظاہروں میں کافی سرگرم رہے اسی دوران انہوں نے شاہ کی جیلوں سے آزاد ہونے والے یا شہر بدر کردیئے جانے والے انقلابی علماء اور سرگرم شخصیات سے رابطہ مہم شروع کی۔ اسی کے ساتھ ساتھ تہران یونیورسٹی میں دینی طلاب اور علمائے کرام کی جانب سے منعقد کئے جانے والے مظاہروں میں بھی بھرپور شرکت کرتے رہے۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سید ابراہیم رئیسی نے آیت اللہ ڈاکٹر شہید بہشتی کی جانب سے اسلامی نظام کی مدیریت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے نوجوان طبقے کی تربیتی نشستوں میں بھی شرکت کی اور اسی دوران مارکسسٹوں کی جانب سے "مسجد سلیمان" نامی علاقے میں فتنہ و فساد اور دیگر مشکلات کے حل کے لئے دینی طالبلعموں کے ایک گروہ کے ہمراہ ثقافتی امور انجام دینے کے لئے تشریف لے گئے۔ شاہرود میں ایک سیاسی اور عقیدتی کیمپ کی بنیاد ڈالی اور کچھ عرصہ اس کی مدیریت کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔

آیت اللہ رئیسی نے ۱۹۸۰ سے "کرج" شہر میں پراسیکیوٹر کے عہدے پر پیشہ ورانہ خدمات کے ساتھ اپنے کیرئر کا آغاز کیا اور کچھ عرصۃ کے بعد آیت اللہ شہید قدوسی کے حکم پر کرج کے اٹارنی جنرل منصوب ہوئے۔ اپنے پیشے سے ایمانداری اور وفاداری کی وجہ سے جلد ہی شہر کی پیچیدہ صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے اور دو سال کے مختصر عرصے میں ہی آپ کو کرج کے ساتھ ساتھ ہمدان کے اٹارنی جنرل کا عہدہ بھی تفویض کردیا گیا۔ دو شہروں کی ذمہداری نبھانا آسان کام نہیں تھا لیکن اپنی اس ذمہ داری کو بطور احسن نبھایا اور سن ۱۹۸۱ میں آپ کو صوبہ ہمدان کا اٹارنی مقرر کردیا گیا۔

آیت اللہ رئیسی سن ۱۹۸۳ میں حرم امام رضا علیہ السلام کے متولی اور مشہد میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ سید احمد علم الہدیٰ کی بڑی صاحبزادی محترمہ ڈاکٹر سیدہ جمیلہ سادات علم الہدیٰ کے ساتھ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ محترمہ نے علم فلسفہ میں پی ایچ ڈی کیا ہے اور تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی کے فلسفہ ڈپارٹمنٹ میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کو خداوند متعال نے دو بیٹیاں عطا کی ہیں جن میں سے بڑی صاحبزادی نے سوشل سائنسز اور علوم قرآن و حدیث جیسے اہم موضوعات میں دو ایم فل کئے ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی صاحبزادی شیعف یونیورسٹی میں فزکس کے شعبے میں زیر تعلیم ہیں۔

آیت اللہ رئیسی سن ۱۹۸۵ میں تہران کی انقلابی عدالتوں میں ڈپٹی اٹارنی جنرل مقرر ہوئے۔ امام خمینی رہ نے آپ کی داریت کے پیش نظر آپ کو اور حجت الاسلام نیری کو صوبہ لرستان، کرمانشاہ اور سمنان کی مشکلات کے حل کے لئے براہ راست ذمہ داری سونپی۔

امام خمینی رہ کی رحلے کے بعد اس وقت کے چیف جسسٹس کے حکم پر آپ کو تہران کا اٹارنی جنرل منصوب کردیا گیا جس عہدے پر آپ نے پانچ سال اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ۱۹۹۴ میں آپ کو نیشنل انسپیکشن کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا جس عہدے پر آپ نے دس سال اپنی ذمہداریاں نبھائیں اور اس مدت میں آپ نے اقتصادی میدان میں انگنت مشکل کیسز کو حل کیا اور ملکی اقتصاد میں موجود گرہ کھولنے کے لئے نہایت شجاعت اور بہادری سے انتہائی اہم اور سخت قدم اٹھائے۔

ڈاکٹر ابراہیم رئیسی نے سن ۲۰۰۴ میں چیف جسٹس آف ایران کے فرسٹ ڈپٹی کا عہدہ سنبھالا اور اپنے تجربات اور عہدے سے ایمانداری کے نتیجے میں آپ کو سن ۲۰۱۴ میں اسلامی جمہوریہ ایران کا اٹارنی جنرل بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ آپ رہبر انقلاب اسلامی کے حکم پر سن ۲۰۱۲ سے لے کر دس سال تک شرعی کورٹس کے اٹارنی بھی رہ چکے ہیں۔

سن ۲۰۱۵ میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے حکم پر حرم امام رضا علیہ تحیۃ و الثناء کی تولیت آپ کے سپرد کردی گئی اور آپ نے تین سال تک اس ذمہ داری کو بطور احسن نبھایا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے آیت اللہ رئیسی کو اس عہدے پر منصوب کرتے ہوئے اپنے حکم نامے میں جن سات اہم نکات کی جانب اشارہ فرمایا تھا سید نے ان آٹھ محوروں کو ہی اپنا نقشہ راہ بنایا اور ان تین سالوں میں اس نقشہ راہ پر عمل کرتے ہوئے حرم رضوی کی تعمیرات، اسلامی معارف کی ترویج، زائرین کی بے پناہ خدمت، اقتصادی حوالے سے مکمل پلاننگ وغیرہ جیسے اہم امور کی تکمیل میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

سن ۲۰۱۸ کو رہبر انقلاب اسلامی نے آیت اللہ ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کو اسلامی جمہوریہ ایران کا چیف جسٹس مقرر کیا اور رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے ملک کے عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی خواہش کی تکمیل کو عملی شکل دی جس کی وجہ سے رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے بے پناہ قدردانی کے حقدار قرار پائے۔

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی سن ۲۰۲۱ میں ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہوں صدارتی الیکشن میں اٹھارہ میلین سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کے آٹھویں صدر منتخب ہوئے۔ الیکشنز میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرنے کا بہت ہی کم سابقہ موجود ہے لیکن عوام نے آپ کی مظبوط شخصیت پر ہر دفعہ اعتماد کرتے ہوئے آپ کو اہم مناسب کا حقدار ٹہرایا جس کی مثال اسلامی جمہوریہ ایران میں مجلس خبرگان رہبری کے اراکین کے انتخاب کے لئے منعقد ہونے والے الیکشنز ہیں۔ سید اس ادارے میں سن ۲۰۰۶ سے منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں اور سن ۲۰۲۳ میں ہونے والے انتخابات میں آیت اللہ رئیسی کو ۸۲۔۵۷ فیصد ووٹوں سے کامیابی ملی جو خود ایک ریکارڈ تصور کی جاتی ہے۔

آپ نے فقہی موضوعات پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں جن میں قواعد فقہ، وراثت، اور اوقاف جیسے اہم موضوعات پر قلم فرسائی کی گئی ہے۔

آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے اپنے تین سالہ دور صدارت میں عملی طور پر یہ بات ثابت کردی ہے کہ اگر کوئی عہدیدار ایمانداری سے اپنی ذمہ داریاں نبھانا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اس کا راستہ نہیں روک سکتی بلکہ خدا کی لطف و عنایات اسکے شامل ہوجاتی ہیں۔

آپ کے دور صدارت میں کرونا جیسی وباء کے سدباب کے لئے ماہرانہ اقدامات کئے گئے جس کی وجہ سے اسلامی جمہوری ایران نے اس وباء پر نہ صرف یہ کہ قابو پالیا بلکہ مقامی سطح پر اسکی ویکسین بھی تیار کی گئی جس نے دنیائے ساؕنس کے ماہرین کو انگشت بہ دنداں کردیا، یقیننا یہ ایک قابل تحسین اور چونکا دینے والا کام تھا چونکہ عالمی طاقتوں کی جانب سے بے پناہ پابندیوں کے باوجود یہ مہارت حاصل کرلینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔

ایٹمی معاہدہ ہو یا فلسطین کاز سید ابراہیم رئیسی نے شجاعانہ موقف اپناتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کو صرف تین سال کے مختصر عرصے میں ایک نئی شناخت دی اور ایران کو دنیا کے سامنے ایک حقیقی سپر پاور کے طور پر روشناس کروایا۔

آج اسلامی جمہوریہ ایران عالمی ظالمانہ سسٹم کے خلاف دنیا بھر کے مظلوم عوام کی حقیقی آواز بن چکا ہے جن کا تعلق چاہے کسی بھی رنگ و نسل اور مذہب سے ہو۔ مظبوط علمی اور سیاسی شخصیت اور شجاعانہ اقدامات آیت اللہ ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کا وہ خاصہ ہے جو ایک عالمی لیڈر میں بہت ہی کم نظر آتی ہے۔

۱۹ مئی ۲۰۲۴ کو آذربائیجان اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحد پر تعمیر ہونے والے ڈیم کے افتتاح کے بعد واپسی کے سفر کے دوران سید ابراہیم رئیسی، ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، صوبہ آذربائیجان کے نمائندہ ولی فقیہ اور امام جمعہ آیت اللہ سید آل ہاشم اور صوبہ آذربائیجان کے جواں سال گورنر مالک رحمتی کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوگیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ہردلعزیز اور محبوب صدر اور دیگر تمام افراد شہید ہوگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ہم مصیبت کی اس گھڑی میں امام عصر حضرت مہدی آخرالزماں عج، رہبر انقلاب اسلامی اور شہداء کے اہل خانہ کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔

 

 

 



 
صارفین کی تعداد: 578


آپ کا پیغام

 
نام:
ای میل:
پیغام:
 

خاموش فریاد

مجاہدین ناامید ہوگئے۔ ایک طرف سے بھوک اور پیاس تو دوسری طرف سے برف اور سردی نے انکی ہمت توڑ دی تھی۔ اگر مزید چند دنوں تک یہ سامان یہاں نہیں پہنچتا تو بہت سارے جوان شہید ہوجاتے۔ اس لئے جوانوں میں سے پانچ بہترین جوانوں نے رضاکارانہ طور پر اس درے میں اترنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ یہ ساز و سامان واپس لا سکیں۔ وہ لوگ درے میں اترے لیکن ہم نے جتنا بھی انکا انتظار کیا وہ واپس نہیں آئے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔