شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات

راوی کا آخری سفر

نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے

عباس دوزدوزانی کے واقعات سے ایک اقتباس

"انقلابی حلقوں سے لے کر اسلامی حکومت کے عسکری بازو تک"

ہم نے اسی جملے کو " امام کا حکم" سمجھا اور وہاں سے رخصت ہوئے۔ تہران واپسی پر اکیس  اپریل ۱۹۷۹ کو ایک اعلامیہ جاری کیا جسے لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ ہم نے وہ متن اخبارات کو دیا جو اگلے دن شائع ہوا

"رہبر معظم، انقلاب کی راہ میں"

وہ شخصیت، جو اسلامی انقلاب کی جدوجہد اور دفاعِ مقدس (جنگ) کے ایام کی تاریخ نویسی اور اس انقلاب کے پرچار کو ایک تاریخی ضرورت اور مذہبی و قومی فریضہ سمجھتی تھی، اپنے چاہنے والوں کو ان شیریں یادوں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر معبودِ حقیقی سے ملنے کے لیے اپنے ابدی اور عرفانی سفر پر روانہ ہوگئی: "ارجعی الی ربک راضیة مرضیه، فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی"

جنگ کے سائے میں بہار

ان دنوں کی تلخ خبروں کے درمیان کچھ واقعات اتنے سنگین ہیں کہ وہ برسوں تک عوام کے شعور اور حافظے میں نقش رہیں گے۔ رہبرِ انقلاب کی شہادت، میناب میں بچیوں کے پرائمری اسکول پر حملہ، بے گناہ انسانوں کا قتل اور ہسپتالوں و شہری آبادیوں کو پہنچنے والا نقصان؛ یہ وہ واقعات ہیں جو محض میڈیا کی سرسری خبریں نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر واقعہ ایک معاشرے کے جیتے جاگتے تجربات کا حصہ ہے جو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو جاتے ہیں اور بعد میں روایتوں اور یادوں کی صورت میں بیان کیے جائیں گے

تکریت کی اسارتگاہ 16 میں پہلی نوروز

یہاں تک کہ مصطفیٰ نامی ایک دوست، جو قرآن کے استاد تھے، نے ایک تجویز دی جو ہماری ایرانی روح پر گہرا اثر کر گئی۔ اس نے کہا: "آؤ مل کر سورہ ناس پڑھیں۔ اس سورہ میں سین (س) سے شروع ہونے والے سات الفاظ ہیں۔ یہی ہمارا ہفت سین ہو گا۔"

ریفرنڈم کے ایام، بارود کی بدبو سے بھری ہوئی بہاریں

چھاؤنی میں موجود تمام فوجیوں نے "اسلامی جمہوریہ، ہاں" والا پرچہ ڈبے میں ڈالا۔ یہ بات میں نے چھاؤنی کے کھانے کے ہال میں دوسرے ساتھیوں سے سنی۔ ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں ووٹنگ ختم ہوئی اور ہیلی کاپٹر اُڑ گیا۔

جنگ رمضان

جیسے ہی میں چوک میں موجود ہجوم کو دیکھ رہی تھی، میرے ذہن سے گزرا کہ یہ جنگ، میزائل اور بم کی جنگ نہیں ہے، یہ عزم و ارادوں کی جنگ ہے۔ اور ہم برتر ہیں۔

ایک متفاوت نوروز کا دسترخوان

سال تحویل سے ایک رات پہلے گھر پہنچی۔ جمعہ کی رات آٹھ بتیس منٹ اور اکتیس سیکنڈ پر سال تحویل ہونا تھا۔ طے ہوا تھا کہ تحویل سال کے وقت سب بڑے بھائی کے کمرے میں جمع ہوں گے۔ ہفت سین کی سفیدری جو بچھائی گئی تھی، بہت سادہ تھی اور اس میں صرف سیب اور سنجد تھا اور شیشے کے برتن میں سرخ مچھلی کا کوئی نشان نہ تھا

صدیقه سمیعی کی یادداشتیں

فتح المبین کی کارروائی دزفول میں ہوئی تھی۔ اس وقت میں چھٹیوں پر تہران آئی ہوئی تھی اور عید کی تعطیلات تھیں۔ اسی جاننے والے نے فون کیا اور کہا کہ عنقریب حملہ ہونے والا ہے، لہٰذا جلدی سے اپنے آپ کو پہنچاؤ۔

تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ داری

ایسی سنگین اور خوف سے بھری فضا میں، روزہ ایک روحانی ہتھیار تھا جس نے نہ صرف جسم بلکہ روح کو بھی استقامت کے لیے زیادہ مزاحمت بخشی۔ تکریت کی 16 نمبر جیل میں روزہ صرف کھانے پینے سے پرہیز نہیں تھا؛ یہ اس ایمان کے وجود کا اعلان تھا جو سخت ترین قیود میں بھی، آزاد اور ناقابل شکست زیست کرتا ہے۔
1
...
 
شہید سید مرتضیٰ آوینی کی زندگی کے آخری چند واقعات

راوی کا آخری سفر

نو اپریل، شہید سید مرتضیٰ آوینی کی برسی کا دن ہے؛ وہ مستند ساز اور آٹھ سالہ عراق-ایران جنگ کے وہ نامور راوی، جن کا سفرِ عشق بالآخر "فکہ" کے تپتے صحراؤں میں شہدائے کربلا کے قافلے سے جا ملا۔ کتاب "شہیدِ فرہنگ؛ شہید سید مرتضیٰ آوینی در آیینہ خاطرات" ان کی زندگی کے مختلف ادوار اور سرگرمیوں پر محیط مختلف یادوں کا مجموعہ ہے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔