میں اپنے اسماعیل کو تیرے حوالے کرتی ہوں!

"ایک سوم سیب" یعنی ایک تہائی سیب نامی کتاب دفاع مقدس کے دو شہید مصطفی اور مجتبی بختی کی والدہ "خدیجہ شاد" کی زندگی کے واقعات پر مشتمل ہے جس کو محمد محمودی نے تحریر کیا ہے۔ ۲۹۶ صفحات پر مشتمل اس کتاب "خط مقدم" پبلیکیشنز نے شائع کیا ہے۔

سید یحیی صفوی کی داستان

سنندج سے خرم شہر تک

دفاع مقدس کی زبانی تاریخ

یہ کتاب دفاع مقدس کے دوران سید یحیی(رحیم) صفوی کے واقعات کی بیان گر ہے۔ یہ کتاب ۲۸نشستوں میں سردار یحیی صفوی کے ساتھ ہونی والی گفتگو کا حاصل ہے جس میں ان کی ابتدائی زندگی سے لے کر بیت المقدس آپریشن اور خرم شہر کی آزادی تک کے حالات کو قلم بند کیا گیا ہے۔

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – ستائیسویں قسط

جب ایرانی فورسز نے مٹی کے بندوں پر قبضہ کیا تو ٹینک، آر پی جی کے گولوں کا ٹارگٹ بننے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایرانی چاہتے تھے کے ٹی این ٹی کا استعمال کرتے ہوئے مٹی کے بند کو مختلف جگہوں سے اڑا دیں، لیکن ٹینکوں کی فائرنگ کے ساتھ ہماری فورسز کے حملے نے پریشانی میں مبتلا ایرانی فورسز کو مہلت نہ دی

سالہائے جنگ کی روٹیاں

" سالہائے جنگ کی روٹیاں" یہ کتاب دفاع مقدس کے زمانے میں سبزوار کے ایک گاوں صدخرو کی خواتین کے کردار پر ایک نظر ہے۔ یہ کتاب " محمد اصغرزادہ" کی جانب سے ۲۴ گھنٹے کے انٹرویو کا حاصل ہے جو انہوں نے صدخَرو کی خواتین سے کیے اور "محمود شم آبادی" نے اس کو قلمبند کیا ہے۔ صدخرو گاوں کی خواتین کی جانب سے جنگ کی حمایت اور ان کے کردار سے متعلق داستان ۱۶ فصلوں اور ۱۲۶ عنوانات پر بیان کی گئی ہے۔ کتاب کی آخری دوفصلیں ان دلیر خواتین اور اس گاؤں کی شہداء کی تصویروں پر مشتمل ہے۔...

تیسری ریجمنٹ: ایک عراقی قیدی ڈاکٹر کے واقعات – پچیسویں قسط

محاذ پر سکون کے ساتھ ساتھ بے چینی چھائی ہوئی تھی۔ ہمارے اردگرد "سام" میزائلز کی تنصیب کے بعد پھر کبھی علاقے میں ایرانی طیارے نظر نہیں آئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوگیا۔

اس نے خود کو ("شام" میں) شہادت کی بس تک پہنچادیا

"پچاس سالہ خزاں" نامی کتاب پر ایک نظر

شہید کمانڈر جمالی کی زوجہ کی زبانی، ان کی کہانی کی روشن تصویر کے طور پر اور زبانی تاریخ اور دستاویزی فلم کی شکل میں اس کتاب کا جائزه لیا جا سکتا ہے۔ کتاب کی مصنفہ نے شام میں ہونے والی جنگ کی ان کہی یادوں کو آسان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ساده زبان میں لکھا ہے

حسن کمالیان کے نشیب و فراز سے بھرپور واقعات کی داستان

"آقای کاف میم"

"آقای کاف میم" حسن کمالیان کے اُس زمانے میں نشیب و فراز سے بھرپور واقعات  کی داستان پر مبنی کتاب ہے جب وه مسلط کرده جنگ کے دوران فوٹوگرافر اور دستاویزی فلم ساز کی حیثیت سے موجود تھے۔  اس کتاب کی تحقیق اور تألیف کی ذمہ داری "رضا پاکسیما" کو دی گئی تھی اور اسے "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب"، "راه یار" پبلی کیشنز نے جنوری ۲۰۲۰ء  میں شائع کیا ہے۔ "اداره مطالعات محاذ ثقافتی اسلامی انقلاب" کے "زبانی تاریخ یونٹ"...

حمید حسام سے اُن کی زندگی اور اُن کی تالیفات کے بارے میں انٹرویو

"در جستجوی مہتاب: حمید حسام کی زندگی اور تالیف" ایسی کتاب کا نام ہے جو حسین قرائی کے انٹرویو سے تشکیل پائی ہے۔

دفاع مقدس کے بارے میں اہل قلم حضرات کے واقعات

یہ کتاب مؤلف (آذر خزاعی سرچشمہ) کی تین سالہ کوشش کا نتیجہ ہے جس میں انھوں نے ۱۴۰ آرٹسٹوں اور لکھاریوں کی زندگی کے واقعات کو جمع کیا ہے کہ دفاع مقدس کے زمانے میں ایرانی عوام کی زندگی کو بامقصد دکھانے کیلئے غیر داستانی روایتوں، دل کی باتوں اور اُن کی یادوں سے مرتب کیا ہے

"غربت کے ایام" دو خواتین کی زبانی

امام موسی صدر کے بارے میں حاصل ہونے والی زبانی تاریخ

اس کتاب کی تالیف امام موسی صدر تحقیقاتی ثقافتی مرکز کی زبانی تاریخ کے پروجیکٹ میں انٹرویو سننے سے شروع ہوئی ۔۔۔ انٹرویو دینے والے دو افراد ایک دوسرے سے کچھ شباہتیں رکھتے ہیں؛ دونوں افراد دو خاندانوں صدر اور خمینی کے افراد سے مربوط تھے
4
...
 

ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔