پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 70

جون 1979 میں، میں اپنی زوجہ اور اپنے دو بچوں مسلم اور مکرم اور اپنی والدہ کے ساتھ، اپنے سسر کی عمارت کے ایک کمرے میں سکونت پذیر ہوگیا تھا، جو سپاہ کی عمارت سے اگلی گلی میں واقع تھی اور جس کی جنوبی اور مغربی جانب کوئی رہائشی عمارت نہیں تھی۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 69

ساواک کے سابقہ دفتر میں، سپاہ پاسداران کے قیام کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکنان شہر میں بہت کم ہی مسلح ہو کر باہر نکلتے تھے، لیکن حسب سابق وہ شہر اور دیہاتوں کے کچھ مقامات پر اپنی ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 68

29 مئی 1979 کو پاوہ، جوانرود اور روانسر سے دو سو افراد پر مشتمل، جمعیت طرفدان حکومت قرآن کا ایک گروپ، انقلاب کے سربراہ سے ملاقات کے لیے قم روانہ ہوا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 67

جیسے ہی شیخ صاحب نے ہمارے دفتر میں قدم رکھا، ان کی نظر اس نعرے پر پڑی تو انہوں نے غصے سے کہا: ’’کس نے کہا خدا ایک ہے؟ کس نے کہا کہ رہنما اور وطن ایک ہے؟‘‘ میں نے بہت آرام سے کہا: ’’ماموستا یعنی ایک سے زیادہ خدا، وطن اور رہنما ہیں؟!‘‘

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 66

مفتی زادہ اور موسوی صاحب نے ہلال احمر کی پہاڑی[1] پر رات گزاری۔ اگلی رات ہم تقریباً تیس گاڑیاں لے کر جوانرود تک ان کے ساتھ ساتھ گئے۔ جوانرود میں داخل ہونے سے پہلے، سررود[2] گاؤں میں ایک بوڑھی خاتون جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی گاڑیاں اور اتنے لوگ نہیں دیکھے تھے، گاڑیوں کے قافلے کے قریب پہنچیں اور انہوں نے حیرت سے ہمارے ایک دوست سے پوچھا: ’’کیا ہوا ہے؟‘‘

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 65

ہماری ہمدردانہ باتوں کا ہیروی گاؤں کے باسیوں پر اثر ہوا اور ہماری یہ باتیں، ان سب کے ووٹنگ میں حصہ لینے کا باعث بنیں۔ ہم خوشی خوشی دوپہر دو بجے بَلَبزان گاؤں چلے گئے۔ ووٹنگ کے لیے گاؤں کی مسجد کا انتخاب کیا گیا تھا۔

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 64

28 مارچ 1979 کو شیخ عزالدین حسینی نے ایک اعلامیے کے ذریعے یہ اعلان کیا کہ ’اسلامی جمہوریہ‘ کا مفہوم ہمارے لیے واضح نہیں ہے اور انہوں نے کُردستان کی عوام سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔

 پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 63

پہلے لوگ اس توہین پر احتجاج کے ارادے سے درہ باسام گراؤنڈ میں جمع ہوئے۔ سب لوگ اپنی سیاسی اور قومی وابستگیوں کو چھوڑ کر میدان میں اتر آئے تھے۔ پاوہ کے درویش، لوگوں کے آگے آگے دف بجا رہے تھے اور ترانوں اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے لوگوں کو ایک عجیب جوش دلا رہے تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 62

کچھ عرصے بعد، انہیں ’’دہقان اور کسان کا اتحاد‘‘ نامی ایک دفتر کے قیام میں امید کی ایک کرن نظر آئی جس میں اکثر افراد، ضلع جوانرود اور روانسر کے جوان تھے اور وہ لوگ ہورامان کے دہقانوں کے نام سے دن رات تشہیر میں مشغول رہتے تھے

پاوہ شہر کے اہل سنت امام جمعہ ماموستا ملا قادر قادری کی یادداشتیں

ماموستا 61

شیخ عزالدین کا کوئی انقلابی ماضی نہیں تھا اور وہ صرف مہاباد کے امام جمعہ تھے جو ایک طرح سے شاہ کے مقرر کردہ کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کے بھائی سید جلال حسینی صاحب، ایک قابل اور غیرت مند عالم دین تھے جنہوں نے پہلوی حکومت کے خلاف واضح اور انقلابی موقف اختیار کر رکھا تھا
1
...
 

یونیورسٹی کی ایک ساتھی کی شہیدہ زہرا حداد عادل کے بارے میں باتیں

جب بھی میں اپنے طالب علمی کے دنوں کے بارے میں سوچتی ہوں، بسیج کا دفتر، جہاد یونیورسٹی کا دفتر، نماز خانہ، کالج کا صحن اور یہاں تک کہ شریعتی پارک میں ہماری سیر، ایک ایک کر کے یاد آتی ہیں۔ وہ دن جب ہم ساتھ باتیں کرتے تھے، دل کی باتیں سناتے تھے اور ہنستے تھے۔ ان دنوں میں کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ میں کسی ایسے شخص کے ساتھ بیٹھی ہوں جو ایک دن شہید ہو جائے گا۔
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔