ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 56 واں حصہ

گولی چلنے کی آواز آئی لحظہ بھر کو درد محسوس ہوا اس کے بعد سکون ہی سکون تھا۔ ایسا لگتا تھا مجھے خلاء میں چھوڑ دیا گیا ہے، میں خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی وہ کیا احساس تھا اس کا لفظوں میں بیان ممکن نہیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 55 واں حصہ

مہدی پڑھائی بھی کر رہا تھااور کام بھی کر رہا تھا۔ وہ اپنی تمام تنخواہ ہم پر خرچ کرتا تھا میرا دل نہ مانتا تھاکہ اس سے پیسے لوں لیکن وہ کب ماننے والا تھا۔ مہدی نے اپنی تنخواہ سے روز مادر پر میرے لئے عقیق کی ایک تسبیح خریدی اس وقت یہ تسبیح ایک بہت مہنگا تحفہ تھا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 54 واں حصہ

جب ادارہ کا کام ختم ہوجاتا تو میں تھکی ماندی علی کے والد کے پیچھے پیچھے گھر کو چل پڑتی۔ ایک دن میں اپنی سوچوں میں گم علی کے والد کے پیچھے چلی جاتی تھی کہ ایک کھمبے سے ٹکرا گئی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو علی میرے سامنے تھا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 53 واں حصہ

رہبر معظم باتیں کر رہے تھے اور میں ان کے وجود پرنور کی شفقت میں گم  اشک بہا رہی تھی ایسا لگتا تھا کوئی بڑا بوجھ میری پیٹھ سے یک دم اتار لیا گیا ہو۔ تمام سختیوں کا بار ہٹ گیا ہو میں سبک بار ، ہلکی پھلکی ہو گئی ہوں۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 52 واں حصہ

اس نے اپنے خواب کی تفصیل جس کی تعبیر کو اب وہ پا چکا تھا، کبھی مجھے نہ بتائی۔  اس واقعہ کو یاد کرکے جگر چھلنی ہو گیا۔ سب کس قدر جلدی گذر گیا تھا لگتا تھا ابھی علی نے کل ہی مجھ سے کہا ہو

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 51 واں حصہ

معراج شہداء سے باہر آئے تو میں مسلسل اس فکر میں تھی کہ علی کا جسم ٹھنڈا ہے اس کو سردی لگ رہی ہوگی اور کوئی اتنا بھی نہیں کہ اس کو ایک کمبل ہی اڑھا دے وہ جب گھر میں ہوتا تھا اور سو جایا کرتا تھا  اور اس کا جسم ٹھنڈا ہو جاتا تھا تو میں ہمیشہ متوجہ رہتی تھی اور اس کو چادر یا کمبل اڑھا دیا کرتی تھی

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 50 واں حصہ

اس دن کے واقعات بھی مٹے مٹے سے ذہن کے گوشوں میں ہیں۔ میں علی کی ممانی سے لپٹ کر خوب روئی تھی۔ میری چادر کا بند ٹوٹ گیا تھا اور مجھے اپنے پردے کا خیال بھی تھا کہ کہیں میں بے پردہ نہ ہوجاوں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 49 واں حصہ

ساجد علی نقوی صاحب بھی جمشیدی صاحب کے ہمراہ آئے تھے میری اس بات پر سب رو پڑے۔ میں نے ساجد علی نقوی صاحب کو کئی بار خانہ فرہنگ میں دیکھا تھاانہوں نے عبا کو الٹ کر منہ پر رکھ لیا اور سر اٹھائے بغیر ہی تعزیت کرنے لگے اورہمدردی کے الفاظ ادا کرنے لگے۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 48 واں حصہ

کوئی بھی میرے پاس نہیں تھا جو مجھے ایک سیلی لگا کر ہوش میں لاتا۔مہدی کا حال بھی برا تھا اس نے بھی یہ خون آشام منظر دیکھا تھا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 47 واں حصہ

علی دروازے کے پاس میرے قدموں میں ، خون میں تر بتر پڑا تھا۔ اس کے بال اور کنپٹیاں خون میں بھری ہوئیں تھیں ۔ اس کے سیاہ بالوں میں خون نے چمک پیدا کردی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میں اپنے حواس میں نہ رہی اور گھر لوٹ آئی
3
...
 

خاموش فریاد

مجاہدین ناامید ہوگئے۔ ایک طرف سے بھوک اور پیاس تو دوسری طرف سے برف اور سردی نے انکی ہمت توڑ دی تھی۔ اگر مزید چند دنوں تک یہ سامان یہاں نہیں پہنچتا تو بہت سارے جوان شہید ہوجاتے۔ اس لئے جوانوں میں سے پانچ بہترین جوانوں نے رضاکارانہ طور پر اس درے میں اترنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ یہ ساز و سامان واپس لا سکیں۔ وہ لوگ درے میں اترے لیکن ہم نے جتنا بھی انکا انتظار کیا وہ واپس نہیں آئے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔