ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح،44 واں حصہ

خوشی کے مارے میرے پاوں زمین پر نہ تھے ۔ میں سمجھتی تھی کہ یہ سب علی  کی شب و روز کی محنتوں کا نتیجہ تھا۔  اگلی رات علی کو رپورٹ بنا کر ارسال کرنی تھی اور اس کو اس کے لئے میری مدد درکار تھی رات تقریباً دو بجے دفتر سے آکر اس نے چند اردو  تحریروں کے ترجمے  کا تقاضہ کیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 43 واں حصہ

میں بھی عجیب قسم کے احساسات کا تجربہ کررہی تھی دن میں کئی مرتبہ مجھے امام خمینی کا یہ جملہ یاد آ جاتا۔-ہمیں مارڈالو۔۔ ہماریقوم اور زیادہ بیدار اور پہلے سے زیادہ زندہ قوم بن جائے گی۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 42 واں حصہ

علی جب اپنی مصروفیات کے درمیان میں دن کے وقت میں گھر آتا یا شام ڈھلے واپس آ کر ان کے ساتھ کھیل کود کرتا تو جیسے بچوں کو دونوں عالم کی خوشیاں نصیب ہو جاتیں۔بعض اوقات علی اپنے اس کام سے اپنی تھکن اور پریشانی کو مٹایا کرتا تھا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح 41 واں حصہ

ہمارے گلے سے کب لقمہ اترتا تھا سب نے اپنی اپنی رکابی سے تھوڑا تھوڑا کھانا  نکال کر ایک آدمی کا کھانا مہیا کیا اور یوں ہم سے نے افطار کیا۔ یہ پہلی اور آخری بار تھا کہ میں نے افطار صرف اپنے گھر کے لئے تیار کیا ہو۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، 40 واں حصہ

ایک پاکستانی ملازم جو مالی اعتبار سے فقیر تھا اور علی اس پر بہت توجہ دیا کرتا تھااور ہمیشہ اس کی خالی جیب کے بارےمیں فکر مند رہتا تھا۔ اس کا حل علی نے یہ نکالا کہ اسکا رابطہ انگلستان میں مقیم اپنے  ایک دوست سے کرا دیا اور یہ شخص ملتان میں دوائیں درآمد کرنے لگا اس طرح علی نے ملتان کے لوگوں کی  بھی مدد کی تاکہ ان کو ضروری ادویات دوسرے شہروں سے منگوانی نہ پڑیں

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، انتالیسواں حصہ

انہوں نے اسکول اور بچوں کی پڑھائی کا پوچھا تو میں نے اطمینان اور رضامندی کا اظہار کیا یہاں تک کہ وہ مطمئن ہوگئے اور مسکراتے ہوئے ہمیں دعائیں دینے لگے۔ملاقات کے اختتام پر انہوں نے ہمیں در نجف کی دو انگوٹھیاں دیں ایک میرے لئے ایک علی کے لئے

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، اڑتیسواں حصہ

موسم انتہائی گرم تھا میں نے الگنی سے چادریں اور کپڑے اتارے۔ عید ، گھر کی صفائی ستھرائی کے بغیر ہمارے لئے بے معنی تھی۔ در دیوار سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی عید کی خوشبو

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، سینتیسواں حصہ

حبیب گاڑی چلا رہا تھا علی اس کے ساتھ آگے سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا میں اور بچے پچھلی سیٹ پر۔ میرا دل مہدی کے لئے پریشان تھا کیونکہ وہ ملتان میں اکیلا تھا۔ جب میں  نے صحرائی راستوں کا مشاہدہ کیا تو جان گئی کہ علی نے کس وجہ سے ہمیں تنہا سفر نہیں کرنے دیا۔

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، چھتیسواں حصہ

میں ناراض سی ہو گئی ، مجھے اچھا نہ لگا کہ علی کمپیوٹر آن کرے کیونکہ میری دانست میں اس کا یہ کام اس ایک طمانچے کے اثر کو زائل کردیتا جو بچوں کی تربیت میں موثر ثابت ہو سکتا تھا

ملتان میں شہید ہونے والے اسلامی جمہوریہ ایران کے کلچرل اتاشی شہید رحیمی کی اہلیہ کی روداد

ملتان کا مصلح، پینتیسواں حصہ

۔کچھ بھی ہو کوئی چیز کسی کے پاس ہو یا نہ ہو مگر ان کو کوئی حق نہیں کہ خانہ فرہنگ کی چیزوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لائیں۔ یہ آخری بار ہے کہ ایسی حرکت ہوئی ہے۔ جو چاہئے خود خریدو، زہیر کو کہو یا مجھے کہو۔ مگر دفتر کی کسی چیز کو کبھی ہاتھ نہ لگاو
4
...
 
اسد اللہ تجریشی کی یادداشتیں

بائیکاٹ

جیل کی اُس زمانے کی اصطلاح کے مطابق میرا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ بائیکاٹ یعنی کسی کو بھی یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ سلام کا جواب دے، ساتھ کھانا کھائے، گفتگو کرے، ورزش کرے، یا کوئی بھی اور کام انجام دے
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔