زبانی تاریخ کی تدوین میں قلم اور مصلحت

قلم اور تدوین کرنے والے کا ذہنی ڈھانچہ، سامع کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کبھی ایک حادثے کے بارے میں بتانا اور لوگوں کی جھیلی گئی رنجشوں اور ملالتوں کو زبان پر لانا ، قابل توجہ آثار کے خلق کا باعث ہوتا ہے۔

شاہ انقلاب سفید نافذ کرنے پر مامور تھا

بالآخر امام (رح) اور بقیہ علماء نے فیصلہ کیا کہ خرم آباد کے عالم دین آیت اللہ روح اللہ کمال وَند نامی کو شاہ سے گفتگو کیلئے دربار بھیجیں۔ انہوں نے شاہ کے ساتھ ملاقات میں علماء کی نظر پیش کی اور شاہ سے مزید وضاحت چاہی اور اسے شخصی مفادات کی بنا پر کیئے جانے والے فیصلوں، قانون کی خلاف ورزی اور اس کی اسلام کی مخالفت کے نتائج سے خبردار کیا۔

اسلامی انقلاب کے بعد پہلا ریفرنڈم

" استقلال، آزادی، جمہوری اسلامی" کا نعرہ یوں تو پہلوی دور حکومت میں کئی بار لگایا جا چکا تھا لیکن اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اب یہی نعرہ حکومت سازی کے لئے لگایا جانے لگا۔ اس موقع پر امام خمینی رح کی ہدایات پر اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چند مہینوں کے اندر اندر ہی عوامی رائے جاننے کے لئے ریفرنڈم کروایا گیا جس کے نتیجے میں ایران میں اسلامی طرز حکومت کو ایران کے اصل نظام حکومت کے طور پر چن لیا گیا۔

پہلے انقلابی مارچ کی پہلی تصویر

وقت آن پہنچا اور ہمارے جوانوں نے اس کپڑے پر بنی تصویر کو لکڑیوں سے باندھ کر پلک جھپکتے ہی نمازیوں کی آنکھوں کے سامنے بلند کر دیا اور اسے بالکل آگے جا کر نصب کردیا۔ پھر کیا تھا مجمع نعرہ تکبیر اور صلواۃ کی صدائوں سے گونج اٹھا اور عوام نے جوشیلے انداز میں نعرے لگانا شروع کردیئے

۳۲ سال پہلے کا سفر

محاذ پر تیسری عید

میں نے سن ۱۹۸۵ء میں محاذ پر اپنی تیسری عید اس حال میں گزاری کہ مجھ پر دو ذمہ داریاں تھیں، ایک تو سپاہ مریوان کے ثقافتی شعبہ کے زیر نظر مرکز چنارہ میں چلنے والے سپاہ کے ثقافتی شعبہ کا انچارج بنا دیا گیا اور دوسرا یہ کہ مجھے مرکز چنارہ میں کمانڈر کے ساتھ کام کرنا پڑ رہا تھا۔

زبانی تاریخ اور اُس کی ضرورتیں – دوسرا حصہ

انٹرویو لینے والے کی خصوصیات

زبانی تاریخ میں انٹرویو لینے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ جس کام کو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اُس کے بارے میں اُس کے پاس کافی معلومات کا ذخیرہ ہو۔ انٹرویو لینے میں علمی اور معلوماتی کمزروی اُسے نہ صرف واقعات سمجھنے میں مشکل سے دوچار کریں گی بلکہ سوالات پوچھنے اور انٹرویو کو صحیح سے جاری رکھنے میں کمزوری کا سبب بنیں گی۔

قم المقدسہ کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ فیضیہ کے نشیب وفراز

مدرسہ فیضیہ عالم اسلام کے بہت سے نامور علمائے کرام اور بزرگان دینی کی تعلیم و تدریس کا مرکز رہا ہے۔ سید محمد باقر میرداماد، صدرالمتالہین شیرازی جنہیں ملا صدار کے نام سے پہچانا جاتا ہے، ملا فیض کاشانی، ملا عبدالرزاق لاہیجی، شیخ عبدالکریم حائری، سید حسین بروجردی اور امام خمینی رح جیسی مشہور و معروف شخصیات نے اس مدرسے میں تعلیم حاصل کی اور تدریس و ترویج علم کی خدمات انجام دیں۔

امام خمینی (رہ) کی گرفتاری کے بعد علماء اور مذہبی افراد کی انقلابی تحریک

پہلوی حکومت، امام خمینی (رہ) کی عوامی تحریک کو ناکامی سے دوچار نہ کرسکی۔ امام خمینی (رہ) اور دوسرے علماء ، واعظین کی گرفتاری سے جدوجہد جاری رکھنے کا ایک نیا موقع فراہم ہوگیا۔

نوروز ۱۹۶۱ء؛ آیت اللہ العظمیٰ بروجردی سے جدائی

آیت اللہ العظمیٰ سید حسین طباطبائی بروجردی سن ۱۲۹۲ ہجری قمری میں ماہِ صفر کے آخری دن بروجرد میں پیدا ہوئے۔ وہ سات سال کی عمر میں مدرسہ میں داخل ہوئے اور بروجرد کے نوربخش مدرسہ میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ سن ۱۳۱۰ ہجری قمری میں وہ اصفہان ہجرت کرگئے۔ انھوں نے وہاں کے مدرسے میں وہاں کے اساتید سے استفادہ کیا  اور چار سال بعد بروجرد واپس چلے گئے۔ ۲۷ سال کی عمر میں وہ راہی نجف ہوئے اور اُس زمانے میں حوزہ علمیہ نجف کے بزرگ اساتید کے ذریعے اپنے علم میں اضافہ...

امام خمینی رح

میں اپنے قلبی احساسات کا اظہار نہیں کرسکتا۔ میرے دل پر دباؤ ہے ...

امام خمینی (رہ) کو پہلوی حکومت کے خلاف شدید لہجے میں تقریر کرنے کے سبب قم سے رات کے وقت گرفتار کرکے تہران منتقل کردیا گیا۔ امام خمینی نے ایک عرصہ حبس اور گھر کی قید تحمل کر کے ، ۷ اپریل ۱۹۶۴ء والے دن آزادی کے بعد، قم واپس جاکر کر اُس وقت کی حکومت کے خلاف اپنی مخالفتوں اور اعتراضات کا از سر نو آغاز کیا۔
...
8
 

ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی

شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔"
حجت الاسلام والمسلمین جناب سید محمد جواد ہاشمی کی ڈائری سے

"1987 میں حج کا خونی واقعہ"

دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیں

ساواکی افراد کے ساتھ سفر!

اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔

شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!

کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔
یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام

مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح

دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔