تنہائی والے سال – تیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
عمارت "الف" میں منتقل ہونے کے بعد ہماری صورتحال بہتر ہوگئی تھی اور ہم کچھ حد تک راضی ہوگئے تھے؛ لیکن ابھی تک ہوا کی مشکل موجود تھی کہ یہ ہماری ہمیشہ کی مشکل تھیتنہائی والے سال – اُنتیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
خط یا بہتر ہوگا یہ کہوں کہ ہم نے مصیبت بھرے خط کو پورے کیمپ میں ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچایا اور سب نے پڑھا۔ اُن پر بہت ہی سختیاں اور مشکلات گزری تھیں۔ اُس نے زندان اور قیدیوں کا تعارف کروانے کے ساتھ لکھا تھاتنہائی والے سال – ستائیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
جب ہم نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ ہمارے پاس جو قرآن ہے وہ ترجمہ والا نہیں ہے، آپ اُس کا فارسی میں ترجمہ کردیں، انھوں نے اس بات کو بہت دلچسپی سے قبول کرلیا اور کہا: " اس سے بڑی کیا خدمت ہوگی؟"تنہائی والے سال – اٹھائیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
چونکہ وہ لوگ خود کو فوجی سمجھتے ہیں اس لیے ہماری باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ اُن میں سے ایک، چھوٹا سا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں خودکشی کا اقدام کرلیتا ہے اور اس وقت بھی اس کا ارادہ ہے کہ وہ اکیلے ہڑتال کرے تاکہ اُسے کیمپ لے جایا جائےتنہائی والے سال – چھبیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
یہ اسیرہونے کے بعد پہلی رات تھی جب میں نے رات کے وقت آسمان کو اتنی اچھی طرح دیکھا! اُس آزاد فضا میں، نیلگوں آسمان کے نیچے، بہت ہی دلنشین اور یاد رہ جانے والا منظر تھا۔ زیادہ تر افراد صبح تک نہیں سوئے اور اپنی زندگی کے حسین واقعات، قسمت اور مستقبل کے بارے میں سوچتے رہےتنہائی والے سال – پچیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
اسیری ہمارے لئے ایک الٰہی امتحان تھا اور ہم ہمیشہ اپنی گفتگو میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خداوند متعال سے التجا کرتے تھے کہ ہم اس الٰہی امتحان سے سربلند ہوکر نکلیں۔تنہائی والے سال – چوبیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
اس مدت میں ہم نے ریڈیو پر جو افسوسناک ترین خبر سنی، وہ جمہوری اسلامی ایران کی پارلیمنٹ میں دھماکہ اور شہید بہشتی اور امام و انقلاب کے ۷۲ بہترین ساتھیوں کی شہادت خبر تھی۔ سب کی حالت عجیب ہوگئی تھی اور بری طرح رو رہے تھے۔ ہم نے خداوند متعال کی بارگاہ میں – بندھے ہاتھوں اور ٹوٹے دلوں – سے دعا مانگی کہ امام اور انقلاب کو سازشوں سے محفوظ رکھے۔تنہائی والے سال – تیئیسواں حصّہ
دشمن کی قید سے رہائی پانے والے پائلٹ ہوشنگ شروین (شیروین) کے واقعات
نگہبانوں میں سے ایک آدمی کے علاوہ باقی سب ہمیشہ چکر لگاتے رہتے تھے اور وہ اپنا کھانا احاطے میں موجود گول میز پر کھاتے تھے اور کھانے کے بعد عام طور سے شراب لاتے تھے اور بلند آواز میں قہقہے لگاتے تھے۔ اُن کی آنکھوں سے قساوت اور بے رحمی بری طرح ٹپک رہی ہوتی تھی۔کتاب " دادی امی کا باغ" میں کردی خاتون کے واقعات
خان زاد کے واقعات کے ساتھ ساتھ، اس کتاب میں روانسرا کے لوگوں کی ثقافت ، آداب رسوم ، لوگوں کی ایمانی کیفیت اور اس علاقے کے جغرافیہ کو سمجھانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ میں چاہتی تھی کہ اس کتاب میں اور زیادہ تصاویر اور اسناد شامل ہوں مگر نہیںخاطرات جاوید میں کاوہ کے ساتھ ہم جنگ ہونے کا بیان
نوجوان جاوید ان کوششوں میں مصروف ہوگیا کہ روز بروز اپنی ذمہ داریوں میں اضافہ کرے اور نہ صرف شہر کے لوگوں کے ہمراہ اس جنگ میں حصہ دار بنے تاکہ انقلاب اسلامی ثمر آور ہو، بلکہ انقلاب کمیٹی مشہد کی رکنیت بھی حاصل کرے تاکہ اس شہر کے لوگوں کی کی محنتوں کے ثمرہ کی حفاظت کرے۔...
7
...
گذشتہ مطالب
سب سے زیادہ دیکھے جانے والے
ایک فوجی مشق کی یادداشت؛ علی تحیری کی زبانی
شاہ فوراً میری طرف پلٹا۔ وہ غصے سے لال چہرے کے ساتھ قریب آیا اور اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا: "کیا ہوا؟ کیا کوئی چیز تمہیں پریشان کر رہی ہے؟" میں نے کہا: "قربان! یہ آپ کو غلط رپورٹ دے رہے ہیں۔ ہم 28 ویں رجمنٹ کے اصطبل میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور ہمیں جو راشن دیا جا رہا ہے وہ عام سپاہیوں کا ہے، ہمیں افسران کے راشن سے محروم رکھا گیا ہے۔""1987 میں حج کا خونی واقعہ"
دراصل مسعود کو خواب میں دیکھا، مجھے سے کہنے لگا: "ماں آج مکہ میں اس طرح کا خونی واقعہ پیش آیا ہے۔ کئی ایرانی شہید اور کئی زخمی ہوے ہین۔ آقا پیشوائی بھی مرتے مرتے بچے ہیںساواکی افراد کے ساتھ سفر!
اگلے دن صبح دوبارہ پیغام آیا کہ ہمارے باہر جانے کی رضایت دیدی گئی ہے اور میں پاسپورٹ حاصل کرنے کیلئے اقدام کرسکتا ہوں۔ اس وقت مجھے وہاں پر پتہ چلا کہ میں تو ۱۹۶۳ کے بعد سے ممنوع الخروج تھا۔شدت پسند علماء کا فوج سے رویہ!
کسی ایسے شخص کے حکم کے منتظر ہیں جس کے بارے میں ہمیں نہیں معلوم تھا کون اور کہاں ہے ، اور اسکے ایک حکم پر پوری بٹالین کا قتل عام ہونا تھا۔ پوری بیرک نامعلوم اور غیر فوجی عناصر کے ہاتھوں میں تھی جن کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آرڈر لے رہے ہیں۔مدافعین حرم،دفاع مقدس کے سپاہیوں کی طرح
دفاع مقدس سے متعلق یادوں بھری رات کا ۲۹۸ واں پروگرام، مزاحمتی ادب و ثقافت کے تحقیقاتی مرکز کی کوششوں سے، جمعرات کی شام، ۲۷ دسمبر ۲۰۱۸ء کو آرٹ شعبے کے سورہ ہال میں منعقد ہوا ۔ اگلا پروگرام ۲۴ جنوری کو منعقد ہوگا۔
